ایک زمانے تک ہماری اسٹیبلشمنٹ فرنگیوں کے رسوائے زمانہ فارمولے ”لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑواتی رہی اور خود مزے سے دور بیٹھ کر پس پردہ بلا شرکت غیرے اقتدار کے مزے لوٹتی رہی اور سیاستدا ان کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر ایک دوسرے سے دست گریبان ہو کر اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بنتے رہے۔ بڑے عرصے تک محلاتی سازشوں اور لڑاﺅ اور حکومت کرو والا یہ کھیل چلتا رہا۔ خود کو سمجھ دار اور سیاستدانوں کو قدموں کی ٹھوکر سمجھنے والی اسٹیبلشمنٹ کے جب برے دن آنا شروع ہوئے تو پھر وہ خود اپنے ہی کھیل کا خود شکار ہونا شروع ہو گئے اور آج ملک کی وہی دو بڑی سیاسی جماعتیں جو تناور درختوں سے گملے کے پودے بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اسی فارمولے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ہی بدترین دشمن سیاسی پارٹی سے لڑوا کر خود اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں اور انہیں عوامی حمایت نہ ہونے یا پھر انتخابات میں ملکی عوام کی جانب سے بہت ہی بری طرح سے دھتکارے جانے کے باوجود یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں اپنی حکمرانی کے دوران مضبوط ترین اپوزیشن سے کسی بھی طرح کا کوئی خوف و خرہ نہیں ہے کیونکہ ان کی جنگ اسٹیبلشمنٹ لڑ رہی ہے۔ 9 مئی کے اسی واقعہ کو بم شیل بنوا کر اسٹیبلشمنٹ اور اس سب سے بڑی سیاسی جماعت جسے قیدی نمبر 804 لیکر چل رہے ہیں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں وہ دونوں آپس میں لڑ رہے ہیں اس وجہ سے ان کے اس جعلی اور دو نمبری اقتدار کو کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ بنیں۔۔۔ اندازہ لگائیں ملک کے ان پالیسی میکروں کی ذہانت پر۔۔۔ جو اس بدنصیب پاکستان کے اس وقت سیاہ سفید کے مالک بن چکے ہیں مگر کس طرح سے اپنے ہی ہاتھوں تراشے بتوں سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں وہ کام جو وہ کبھی کسی اور لیا کرتے تھے وہ اب خود وہی کام کرکے اپنے ہی ادارے کی بالخصوص اور ملک کی بالعموم رسوائی کے ساتھ تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہیں ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ سیاست کے یہ پنڈٹ جو ملکی عوام کے ہاتھوں 8 فروری کے انتخابات میں دھتکارے جا چکے ہیں وہ کس طرح سے اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف اور ملکی عوام کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں ایسا کرکے وہ ایک تیر سے دو شکار کررہے ہیں وہ ملکی عوام سے خود کو دھتکارے کا بدلہ لے رہے ہیں، دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ اور اس سیاسی جماعت کو آپس میں لڑوا کر دونوں کو رسوا اور کمزور سے کمزور کررہے ہیں دونوں کو کمزور کرنے سے فائدہ ان ہی دونوں سیاسی جماعتوں کو ہو رہا ہے۔ اس پر پالیسی میکرز کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح سے دھتکارے ہوئے سیاستدانوں کے ہاتھوں کھلونے بن چکے ہیں جس سے وہ ان دنوں بچوں کی طرح سے کھیل رہے ہیں خدارا اپنی آنکھیں کھولیں اور چند اور ہڈ دھرمی کو چھوڑتے ہوئے حقیقت پسندی کو اپنائیں اسی میں خود ان کی اپنی عزت اور ملک کی سلامتی مضمر ہے۔
8












