2010ءکا سیلاب بھی خوفناک نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تھا۔ حکمرانوں کے یہی وعدے، یہی التجائیں، یہی دنیا بھر سے امداد کی اپیل اور بہت جلد تمام مسائل پر قابو پانے اور عوام کو فلاح دینے کے وعدے، مگر دوسری جانب نہ کسی کا نقصان پورا ہوا، نہ کسی کو وعدے کے مطابق حکومت کی جانب سے نقصان کا ازالہ کیا گیا۔ عوام بھول گئے اور پھر جئے بھٹو، جئے بے نظیر کے نعرے لگانے میں مصروف ہو گئے۔
پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں، مسائل کے حل کے لئے اور قدرتی آفات سے نبردآزما ہونے کے لئے حکومت کی جانب نہیں دیکھتے۔ بس اپنے بھائیوں کی امداد کے لئے سربکف ہو جاتے ہیں۔ جب کہ حکومت سیلابی ریلے دکھا دکھا کر دنیا بھر سے امداد اکٹھی کرتی ہے اور اپنی جیبیں بھرتی ہے۔ کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں سے امداد کی اپیل کرنے سے قبل انہوں نے خود اپنے اکاﺅنٹ سے کس قدر امداد کی، کتنے ممبرز سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے اپنی تنخواہ میں کٹوتی کرکے سیلاب فنڈز میں پیسہ جمع کرایا۔
آج ایک بار پھر 22 سال بعد پاکستان کے نہ صرف دیہی علاقہ بلکہ شہر بھی زیر آب آچکے ہیں، طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والے پانی کے ریلے غریب عوام کا مال متاع، معصوم بچے، بہن، بھائی، ماں باپ، جھونپڑیاں اور مویشی سب کچھ بہا کر لے گئے۔ اس بار تو وہ حشر ہوا کہ لوگ نہ تو مدد کے لئے پکار سکے اور نہ ہی بروقت انہیں درد مند دل رکھنے والے پاکستانیوں کی امداد مل سکی۔ ہزاروں خاندان دیکھتے ہی دیکھتے لقمہءاجل بن گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو تباہی ہوئی ہے وہ کچھ بھی نہیں، ابھی تو بارشوں کی تباہی نظروں کے سامنے ہے، چند روز میں سیلابی ریلوں نے جو تباہی مچانی ہے وہ نہایت خوفناک ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ سکھر اور کوٹری بیراج بھی ان طوفانوں کی نذر ہو جائے۔ مگر تمام تباہیوں اور بربادی کا کم از کم ایک اچھا نتیجہ نظر آرہا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں بھٹو بھی دفن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ لوگ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، اسپیکر آغا سراج درانی اور بلاول بھٹو زرداری کو لغویات بکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سندھ کی حکومت غائب ہے اور کوئی سندھی وزیر، کہیں نظر آجائے تو اس کی وہ درگت بن رہی ہے کہ جو پہلے کبھی نہیں بنی۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بہت جلد ملک میں رہنے والے فرعون اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ عوام بیدار ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ جب عوام کے ہاتھ حکمرانوں کے کپڑے پھاڑ رہے ہوں گے۔ عوام نے نہ فوج کو دیکھا، نہ رینجرز کو، نہ پولیس کو خاطر میں لائی اور ان تمام اداروں نے بھی ہوا کا رخ دیکھ کر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اور کیوں نہ ہو، جس کے معصوم بچے پانی کی نذر ہو گئے، ماں باپ نہ رہے، گھر نہ رہے، پورے پورے خاندان سیلابی ریلوں کی بھینٹ چڑھ گئے، وہ جی کر کیا کریں گے، وہ تو اپنے سامنے ہر آنے والے کو چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکمران نوشتہءدیوار پڑھ لیں اور غریب عوام کی مزید بوٹیاں نہ نوچیں وگرنہ ان حکمرانوں کے بچوں کی شاید لاشیں بھی پہچانی نہ جاسکیں۔
اللہ پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت کرے اور انہیں ایسے حکمران عطا کرے جو آئندہ نسلوں کے آنسو پونچھ سکیں۔
221











