Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
تیسری عالمی جنگ کی دستک! 67

ون مین شو

پاکستان میں ان دنوں ”ون مین شو“ چل رہا ہے۔ یہ ون مین شو دونوں اطراف چل رہا ہے۔ ظالم اور مظلوم دونوں جانب ”ون مین“ شو ہی چل رہا ہے۔ کوئی نظام حکومت نہیں، کہنے کو تو ملک میں جمہوریت بھی ہے اور پارلیمانی نظام بھی چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ بھی ہے جس طرح سے کے ایم سی کے نلکوں میں سے صرف ہوا نکلتی ہے پانی نہیں، اسی طرح سے پاکستان کے اسمبلیوں سے کوئی جمہوریت نہیں نکلتی اور نہ ہی سپریم کورٹ ہو یا دوسری عدالتیں وہاں سے اب کسی کو انصاف نہیں ملتا بلکہ یہ کہا جائے کہ انصاف اور جمہوریت کے لئے اس ملک کو نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے تو غلط نہ ہو گا اس وقت ملک میں ایک فرد واحد کا حکم چلتا ہے۔ آئین کی حیثیت ایک بے جان کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔۔۔ یہ حالات اور واقعات نے ثابت کردیا ہے، زمینی حقائق یہ ہی سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں اگر اس موجودہ نظام کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا رسوائے زمانہ نظام کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جس طرح سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا کام لوٹ مار اور حکومتوں کو گرانا اور بنانا تھا وہی کام اس وقت پاکستان میں طاقت ور اور منہ زور لوگ کر رہے ہیں ویسے تو وہ یہ کام تقسیم ہند کے بعد سے ہی کرتے چلے آرہے ہیں لیکن اس وقت وہ عوامی بیداری یا پھر شعوری کی وجہ سے وہ پوری طرح سے بے نقاب یا پھر برہنہ ہو گئے ان طاقتور لوگوں کو سب سے زیادہ چڑ یا پھر غصہ ہی جمہوریت اور رولز آف لاءپر آٹا ہے وہ تو سرے سے آزادی کے ہی خلاف ہیں وہ سب کو ڈسپلن میں رکھنے کے عادی اور خواہش مند ہیں انہیں نہ سننے کی عادت ہی نہیں ان کی زبان سے نکلا لفظ یا جملہ حرف آخر ہوتا ہے اور وہ یہ کرکے دکھلاتے چلے آرہے ہیں چاہے اس میں انہیں کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو اس وقت جس طرح کی حکومت اور حکمرانی ہے اور جس طرح سے عوامی مینڈیٹ کو کچل کر سب سے مقبول رہنما عمران خان کو نا حق جیل میں رکھا گیا ہے وہ ان کی بد اعمالیوں اور لاقانونیت کا ایک چلتا پھرنا اشتہار بن گیا ہے ان کے لئے کسی کے خلاف بھی مقدمات درج کروانا ان میں انہیں سزائیں دلوانا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ سارے کا سارا نظام ہی ان کے اشاروں پر چل رہا ہے اس وجہ سے عمران خان سے جیل میں کسی کی ملاقات نہیں ہو سکتی ایسا کوئی قانون نہیں ہے نہ تو پاکستان کے آئین میں اور نہ ہی دنیا کسے کسی بھی عالمی قانون میں۔۔۔
ہر قیدی سے گھر والوں کی ملاقات کروائی جاتی ہے مگر پاکستان میں فرد واحد کی حکمرانی ہے اور وہ نہیں چاہتا اس لئے یہ ملاقات نہیں ہو سکتی پاکستان کے 26 کروڑ عوام کی ان کی رائے کی ان کے جذبات اور احساسات کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ ”ون مین شو“ چل رہا ہے۔ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں عوامی انقلاب آچکے ہیں اور تاریخ کا دھارا موڑ چکے ہیں اب اس عوامی انقلاب کی اگلی منزل نشاءاللہ پاکستان بننے جارہی ہے، لاوا آہستہ آہستہ بننے جارہا ہے اور کسی بھی وقت جوالا مکھی پھٹنے جارہی ہے جس کی وجہ سے حکمرانوں کی حالت اچھی خاصی پتلی ہو چکی ہے دوسری جانب ٹرمپ کے مطالبے پر پھر فرمائشوں نے بھی حکمرانوں کو بند گلی میں داخل کردیا ہے ان کی حالت آگے کنواں پیچھے کھائی والی بن گئی ہے اندرونی طور پر عمران خان موت کا فرشتہ بن چکا ہے اور عالمی طاقتیں انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔مشکل میں آگئے ہیں، ملکی دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ حکمرانوں کو اب قیدی 804 سے مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے۔ اس میں ہی خود ان کی اپنی سلامتی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور عالم اسلام کی سلامتی جڑی ہوئی ہے، باہر والوں کی بلیک میلنگ سے اچھا ہے کے اپنوں سے ہی معافی مانگ لی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں