Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پامالیِ دستور 260

پاکستانی لائحہ عمل

7 اکتوبر 2023ءسے جاری اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ جس میں 50 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور غزہ کے علاقہ کو کھنڈر میں تبدیل کرنے کے مناظر عالمی ذرائع ابلاغ اور عالمی سفارتی اداروں کا مرکز نگاہ رہے کو شاید آخری مراحل سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ پچھلے 77 سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کے مابین کبھی اتنی یگانگت نہیں رہی جتنی اس وقت موجود ہے۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی حالیہ ملاقاتوں کی جو تفاصیل سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق جو معاملات طے کئے جانے والے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان یہ ہی نظر آرہے ہیں کہ اس دو ریاستی نطریہ کو لپیٹ دیا جائے گا جس کے تحت فلسطین اور اسرائیل ایک دوسرے کے ہمسائے کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھیں گے۔ ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کافی حد تک اس غیر مقبولیت پر قابو پانے میں کامیاب کیا ہے جس کا سامنا وہ وہ پچھلے کئی سالوں سے کررہے تھے یہ ہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اب امریکی انتظامیہ کے سامنے اپنے دلائل اور شرائط رکھنے میں مضبوطی کا مظاہرہ کررہے ہیں نئے اسرائیلی مطالبہ کے مطابق حماس اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے بعد باقی ماندہ آبادی کو فلسطینی علاقہ رفاہ کی طرف روانہ کردیا جائے گا جہاں اسے سکونت اختیار کرنی ہو گی۔ باقی فلسطینی علاقہ اس آبادی کے لئے علاقہ غیر تعبیر کیا جائے گا اور اس تمام فلسطینی آبادی کا انتظام مکمل طور پر اسرائیلی حکومت کے دائرہ اختیار میں آجائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقل اسرائیل کی معاونت کا اعلان کررہے ہیں اگر امریکہ اسرائیل کے حالیہ مطالبہ کو عملی جامہ پہنانے پر رضا مند ہوتا ہے تو عالمی طور پر اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک میں اس کا ردعمل لازمی طور پر دیکھا جائے گا گو کہ اپنے چند ماہ قبل مشرق وسطیٰ کے دورے پر امریکی صدر نے گہرے تجارتی معاہدے کئے ہیں اور اصرار اسی پر کیا ہے کہ عالمی تجارتی منڈیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے مگر ان تمام کے باوجود فلسطین کا مسئلہ اپنی جگہ پر مسلم ہے۔
امریکہ مستقل اس پر زور دے رہا ہے کہ نئے آرڈر کے تحت تمام مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اسرائیل کی حقیقت تسلیم کرلینی چاہئے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں ابراہام اکورڈ کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے تحت تمام مذاہب کو یکجا ہو کر ایک دوسرے سے منسلک ہونا چاہئے تاکہ وہ تمام ممالک جو مختلف مذاہب کے پیروکار ہیں ایک یگانگت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے راستے آسان ہو جائیں اور سفارتی تعلقات میں پیش رفت ہو سکے۔ فی الوقت چند مسلم ممالک دورن خانہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کرچکے ہیں۔
ریاست پاکستان کے قیام سے کئی دہائیوں قبل ہی مسلمانان ہند اور اس کے بعد 1937ءسے مسلم لیگ کے اجلاسوں میں فلسطین کی آزادی اور سلامتی سے متعلق قراردادیں منظور ہوتی رہی ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھرپور انداز میں یہ واضح کردیا تھا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں فلسطین کی آزادی اور سلامتی کے خلاف کسی قسم کی معاونت نہیں کرے گا۔ اس وقت ریاست پاکستان کی حکومت وقت امریکہ کے حلیف کے طور پر آگے بڑھنے کے اشارے دے رہی ہے اور ان تمام احکامات کے سامنے سرنگوں ہونے کے امکانات دکھا رہی ہے جس سے خود اس کی داخلی اور خارجی سالمیت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں جنرل مشرف کے دور حکومت میں بھی امریکہ یہ مطالبہ کر کا ہے کہ اسرائیل سے پاکستان کے تعلقات استوار کئے جائیں مگر پاکستان اپنے نظریات پر ثابت قدم رہا اور ایسا نہ ہو سکا امریکی صدر کو نوبل انعام دینے کی سفارش پر پاکستانی حکومت نے عجلت دکھائی ہے اور اس سلسلے میں اولیت ائم کی ہے جس کی تائید میں پھر اسرائیل کی حکومت بھی شامل ہوئی ہے اس سفارش سے پہلے پاکستانی حکومت کو یقینی طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئے تھا کہ پچھلے چھ ماہ کی حکومت میں امریکی انتظامیہ یا صدر ٹرمپ اٹھارہ ماہ سے جاری فلسطینیوں کی ہولناک بربادیوں کے لئے کیا سدباب کر چکے، کیا وہاں امن پسند امریکی حکومت جنگ روکنے میں کامیاب ہوئی یا کم از کم وہاں امداد کی سہولتیں حاصل کروانے کے لئے کوئی کارروائی کی گئی، کیا وہاں کے متاثرین کے لئے کوئی سہولت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ صرف ہندوستان اور پاکستان کی جنگ بندی کا سہارا لے کر حکومت پاکستان نے یہ سفارش کی اور بھارت کے مطابق یہ جنگ بندی بھی حتمی قرار نہیں پائی ہے۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات میں ریاست پاکستان کی بالادستی اور وقار کو اول درجہ پر رکھنا درکار ہے۔ پاکستان متعدد بار امریکی نوازشات کا بار اٹھا کر گہرے نقصانات سے گزر چکا ہے۔
اسرائیل اس وقت کھل کر پورے علاقہ میں اپنی بالادستی اور استحکام کا مطالبہ کررہا ہے جو امریکہ کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ اگر جنگ بندی کی یہ ہی صورت حال نکلتی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان زیر غور ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا بلکہ تمام مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کو اس تمام کو ایک مختلف تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ امریکہ کی انتظامیہ ابراہام اکورڈ پر انحصار کررہی ہے۔ پاکستان میں اس کی بازگشت سنائی جارہی ہے۔ ریاستیں اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں جن سے ان کی بنیادیں مضبوط رہتی ہیں۔ حالات کے ساتھ بہہ جانا آسان ضرور مگر تاریخ میں ایک کمزور حیثیت میں یاد رکھا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں