Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پامالیِ دستور 301

پاکستان اور 8 فروری 2024ءانتخابات

8 فروری 2024ءکو پاکستان کے 25 کروڑ عوام نے جمہوریت کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس نظریہ کی تصدیق کردی جس کے تحت اس کے وجود کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ بے شمار بندشوں اور ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود ملک کے طول و عرض میں جس طرح عوام نے اپنے حق رائے دہندگی کو اپنی طاقت کا اظہار گردانتے ہوئے استعمال کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں یقینی طور پر ایک بہترین انقلابی لائحہ عمل کے طور پر رقم کیا جائے گا۔ حقیقتاً پاکستانیوں کی اکثریت نے اپنا ووٹ دراصل کسی ایک جماعت کی حمایت میں نہیں بلکہ اس جابرانہ نظام اور ان تمام مافیاز کے خلاف ڈالا جس نے کئی دہائیوں سے سیاست پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان انتخابات کے عمل نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستانی عوام نے شعور و آگہی کے راستے پر اپنے قدم رکھ دیئے ہیں اور اب اس فرسودہ بوسیدہ سازشی نظام کے آقاﺅں اور کارندوں کو اپنے ہتھیار سمیٹنے کی تیاری کرلینی چاہئے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مقتدرہ کے لئے یہ ایک انتہائی برخلاف توقع، حیران کن اور پریشان کن صورت حال سامنے آئی ہے اور اسی کے نتیجے میں متنازعہ انتخابات کے نتائج کو بھی متنازع شکل میں ڈھال دیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر دھاندلی کا ایک بازار گرم کردیا گیا ہے۔ نتائج میں تاخیر کا رویہ اختیار کیا گیا۔ ارباب اختیار اس حقیقت سے بے بہرہ کہ یہ 90 کی دہائی نہیں بلکہ 2024ءکا تکنیکی دور ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر جوان نسل قدرت رکھتی ہے۔ الیکشن کے 36 گھنٹو کے دوران انٹرنیٹ بند کردیا گیا جواز یہ ہوا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ عالمی مبصرین جو بین الاقوامی طور پر مختلف ممالک میں جمہوری اطوار پر نظر رکھتے ہیں نے انٹرنیٹ کی بندش اور تاخیری نتائج پر کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور دھاندلی کے الزامات پر سوال اٹھایا ہے۔ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنی کم فہمی کے باعث اس سے لاعلم نظر آتے ہیں کہ عالمی منظرنامے پر پاکستان اپنی اندرونی خلفشار اور عدم استحکام کی بدولت ایک لطیفے کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ کس طرح ایک ایسی جماعت جس نے انتخابات میں تمام مشکلات کے باوجود اکثریت حاصل کی اس کے بیشتر کارکن اور سربراہ قید میں ہے اور 45 اور 73 نشستیں حاصل کرنے والوں کو حکومت بنانے کی مراعات دی جارہی ہیں۔ نتائج کی تبدیلی اب واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور احتجاج کا آغاز کردیا ہے۔ پنڈی ڈویژن کے الیکشن کمشنر کے حالیہ اعتراف نے دھاندلی کے متعلق معاملات سے پردے اٹھانے شروع کردیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ پر پاکستان کی جڑیں کھوکھلے کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے کئی سیاسی جماعتوں نے غداری کے زمرے میں ان پر آرٹیکل 6 لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا طرزعمل پچھلے دو سالوں سے جس طرح جانبدارانہ رہا ہے وہ انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کے تمام واد مہیا کرتا ہے۔ عدالت عالیہ بھی برسر الزام آرہی ہے۔ وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ عدلیہ ان تمام معاملات پر غیر جانبداری سے تحقیقات کروائے اور وہ تمام الزامات اور ابہام جو فارم 45 اور 47 سے متعلق پائے جاتے ہیں ان کا حساب لیا جائے۔ الیکشن سے معلق آر اوز تو محض ایک کارندہ کی صورت ہوتے ہیں۔ احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے۔ بلوچستان میں سردار اختر مینگل نے براہ راست فوج کے کماندروں پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تمام متعلقان کے لئے۔

تمام تر مینجمنٹ کے باوجود آزاد امیوار کامیابی میں برتری کے درجے پر موجود ہیں۔ ن لیگ کے لئے نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ وہ تمام آسانیاں اور مراعات جو ن لیگ کو دی گئیں اور وہ تمام یقین دہانیاں جو مقتدر ادارے کی جانب سے کروائیں گئیں بے سود ثابت ہوئیں۔ نواز شریف شکست خوردہ نظر آتے ہیں۔ ان کا وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہونا بہت کچھ بیان کررہا ہے۔ ن لیگ نے انہیں یقین طور پر زمینی حقائق سے آگاہ نہیں کیا ورنہ وہ شاید اس انتخابی عمل میں شریک نہ ہوتے۔ ن لیگ کے اندرونی حلقوں میں کچھ لوگوں نے اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے ہیں اور ایسی صورت حال کے اسباب پیدا کردیئے کہ قرعہ وزیر اعظم شہباز شریف کے نام نکل آئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے پچھلے سالوں کے برعکس اپنی حیثیت مستحکم کی ہے اور کچھ مہربانیاں بھی اثر انداز ہوئی ہیں مگر ایم کیو ایم کی سندھ میں قومی اسمبلی کی 17 نشستوں پر کامیابی ایک حیرت کدہ ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد کثرت سے ہے مگر سادہ اکثریت کی جماعت کے حصہ میں نہیں آسکی گو کہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس کی کل نشستیں 177 کے قریب ہیں مگر معاملہ دھاندلی کے سبب تاخیر کا شکار ہے۔
موجودہ صورت حال کے مطابق حالات پھر اتحادی حکومت کا منظر پیش کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کو اس وقت ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا چاہئے۔ پی پی پی اس سلسلے میں عندیہ دے چکی ہے کہ وہ ن لیگ کے علاوہ کسی سے بھی مذاکرات کے لئے تیار ہے حتیٰ کہ تحریک انصاف سے بھی۔ سیاست میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہئے اگرچہ وہ ناکام ہی کیوں ہو جائیں۔
بلاول بھٹو نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ حالیہ ایام میں ان کے بیانیہ میں اس پرانی سیاست سے اختلافات نظر آتا ہے جس نے کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کو جکڑ رکھا ہے۔ اس وقت ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں الحاق کروا دیا گیا ہے۔ پی پی پی نے وفاقی کابینہ میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف آئینی عہدوں یعنی صدر مملکت، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور تمام صوبائی گورنروں پر شرائط کی ہیں۔ اس الحاق میں ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔ بظاہر یہ PDM-2 کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ اس کی کارکردگی پر ابھی سے سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف وفاقی حکومت میں آنے کے لئے دیگر جماعتوں سے رابطے کررہی ہے اور دعویٰ ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی وہ تعداد مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے گی۔
ان انتخابات اور اس کے نتائج کی شفافیت سے متعلق عوامی ردعمل نے یہ یقینی طور پر واضح کردیا ہے کہ ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کی داخلی اور بیرونی سازشیں اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود 25 کروڑ پاکستانی حب الوطن عوام کو کمزور کرنے میں ناکام رہیں گی۔ مفاد پرست مافیا جو بدقسمتی سے ہر شعبے میں سرائیت کرچکا ہے، عوام انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2024ءکے الیکشن میں جس طرح عوام نے ووٹ کا استعمال کیا اور اب اس کی حفاظت پر احتجاج کناں ہیں۔ وہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ کئی دہائیوں پہلے محمد علی جناحؒ نے جس جوش و ولولہ سے تحریک پاکستان کی بنیاد رکھی تھی وہ پاکستانی سوچ سے عنقا نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں