ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ اب انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، ہارنے کے باوجود کوئی بھی اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں، جھوٹ اور منافقت سے کام لیتے ہوئے اپنے اپنے ہار کو جیت میں بدلنے یا پھر دوسرے معنوں میں اپنے حواریوں کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جنگ کے اس آخری محلے میں اب لڑاﺅ اور حکومت کرو کے رسوائے زمانہ فارمولے کو استعمال کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، دشمنوں سے عالم اسلام کی یہ کامیابیاں یہ فتوحات اور ان کے یہ تابڑ توڑ حملے بالکل بھی نہیں دیکھے جارہے ہیں، اس لئے وہ اب مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوانے کی خوفناک سازشوں اور چالوں میں مصروف ہو گئے ہیں، ایران سے جنگ کے دوران گلف کے جن ملکوں کے ریفائنریوں اور دوسرے انرجی پلانٹوں پر میزائلوں اور راکٹوں سے حملے کئے گئے تھے اس پر ایران کی جانب سے وصاحت آگئی تھی کہ ان حملوں میں وہ ملوث نہیں۔۔۔ اور خود سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز موساد سے تعلق رکھنے والے جاسوسوں کو پکڑنے کا دعویٰ بھی کر چکی ہے یعنی یہ حملے اسلام دشمنوں نے خود کروائے تاکہ گلف کے ممالک ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا کر ان سے لڑ پڑے خاص طور سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایران سے لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور وہ اپنی اس چال میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے کیونکہ ان دونوں ملکوں نے ہی ایران کے خلاف ایک واضح پوزیشن لے لی ہے، سفارتی تعلقات کراب ہو چکے ہیں اور ان دونوں پر ویسے بھی یہ شبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کی جانب سے امریکہ پر دباﺅ تھا کہ وہ ایران کو سبق دے کیونکہ وہ خطے میں ایران کی برھتی ہوئی فوجی طاقت کے خلاف تھے یا پھر وہ اس سے خائف تھے، مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جہاں امریکہ کے ایئربیس ہیں جہاں سے ایران پر حملے کئے جاتے ہیں ان حملوں کے ردعمل میں اگر ایران کی جانب سے وہاں جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو ان ہی اسلامی ملکوں کی جانب سے ایران کے خلاف ایک مذمتی مہم شروع کردی جاتی ہے اور ایران پر اپنے ملکوں کی خودمختاری پر حملہ کرنیکا الزام لگا دیا جاتا ہے جس سے ان کی دوغلنی پالیسی اور منافقت پوری طرح سے عیاں ہو جاتی ہے اب جنگ جس اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دوسری جانب مذاکرات کی بھی باتیں چل رہی ہے، پاکستان کے مثالثی کردار کی بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان میں یہ جنگ بندی سے متعلق اہم ترین مذاکرات ہونے جارہے ہیں کیونکہ ایران کو امریکہ اور اس کے مذاکرات پر بالکل بھی بھروسہ یا اعتبار نہیں ہے کیونکہ وہ مذاکرات میں دوسروں کو الجھا کر پیچھے سے وار کر لیتا ہے یعنی ”بغل میں چھری منہ پہ رام رام“ کے مصداق وہ دھوکہ دے کر دشمن پر حملہ آور ہوتا ہے، دوبار ایران کو مذاکرات میں مصروف کرکے پیچھے سے اس پر حملہ کردیا اور اب امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے صلاح مشورے یا پھر ان کے دباﺅ پر بھی پاکستان کو اس مذاکرات کے لئے تیار کیا گیا ہے جس میں ایران سے بھی اہم ترین حکومتی عہدیداران شرکت کریں گے اور امریکہ و اسرائیل سے بھی قیادت پاکستان آئے گی اب یہ مذاکرات کس طرح کے ہونگیں اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اسی پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں، مغربی دفاعی تجزیہ نگاروں کو ڈر ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے اس جنگ بندی کے مذاکرات کی وجہ سے جنگ کا رخ کہیں پاکستان کی طرف نہ موڑ دیا جائے کیونکہ امریکہ کو اس جنگ سے اپنا پیچھا چھڑوانے کے لئے اور کوئی آپشن ہی نہیں ہے اس لئے ایران اور پاکستان کو جنگ بندی کے اس اہم ترین مذاکرات میں ضرورت سے زیادہ دانشمندی سے کام لینا ہو گا کیونکہ دشمنوں کی پوری کوشش ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح سے ان دونوں ممالک میں غلط فہمی پیدا کرکے انہیں لڑوایا جائے اس لئے اس مذاکرات عمل میں فریق کے بجائی ثالث رہنے میں ہی پاکستان کی اپنی سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔
17











