جب سے لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوا ہے، ملک میں بے چینی پائی جاتی ہے، اپوزیشن جماعتیں روڈ پر ہیں اور عمران خان کو گھر بجھوانے کے لئے حتمی فیصلہ کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب عمران خان نے بھی بیلٹ کس لی ہے، وہ اور ان کے حمایتی وزراءبھی اپوزیشن پر تابڑ تور حملے کررہے ہیں، یہ پہلا موقع نہیں کہ ملک اس صورتحال کا شکار ہے، اس سے قبل بھی کئی بار عدم اعتماد کی تحریکیں چلتی رہی ہیں مگر موجودہ صورتحال سنگینی کی جانب جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ حکومت کی جانب سے مخالفین کے بارے میں جو ہتک آمیز زبان استعمال کی گئی ہے اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عمران خان اور ان کے وزراءاگر تھوڑی سمجھداری سے کام لیتے تو شاید صورتحال اس قدر مخدوش نہ ہوتی، موجودہ مارچ کے آخری ہفتہ میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے، جس کے نتیجہ میں نظر یہی آرہا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کرکے خون خرابے سے بچا جائے کیونکہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے حمایتوں کے ساتھ روبرو آتی دکھائی دے رہی ہیں یقیناً معاملہ بگڑا تو یہ پولیس کے کنٹرول سے باہرہوگا اور فوج کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ ایسی صورتحال میں کیا عدم اعتماد کا ووٹ ڈالا جا سکے گا؟ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ارکان کو یرغمال بنا کر سندھ ہاﺅس میں رکھا گیا ہے اور کروڑوں روپیہ کے سودے ہو رہے ہیں۔ آئین کی شق 63A پر نظرثانی کریں تو پی ٹی آئی کے باغی ارکان پارٹی لیڈر کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں ڈال سکتے کیونکہ ان کی رکنیت معطل ہو سکتی ہے لیکن وہ اگر ووٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر وقت طور پر صورتحال عمران خان کے خلاف جا سکتی ہے۔ بعدازاں عدالتوں سے جو بھی فیصلہ آئے۔ اسی صورتحال سے بچنے کے لئے حکومتی چاہتے ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان ہوں، آزاد سیٹوں پر منتخب ان کے حمایت یافتہ ارکان یا پھر وہ پارٹیاں جنہوں نے ان سے الحاق کیا ہے، پارلیمنٹ میں نہ جائیں اور انہیں کسی بھی طرح روکا جا سکے۔ یوں عمران خان نے بھی آخری شاٹ مارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فوج یقیناً آج معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور نیوٹرل ہے۔ جس پر عمران خان بھی سخت ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ فوج کو حکومت کے ساتھ ہونا چاہئے۔ فوج کی ڈپلومیسی کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین یہ بھی کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ فوج نے کچھ فیصلہ کرلئے ہیں اور اس بار جھاڑو پھرنے جا رہی ہے۔ جس ڈرامہ کا اسٹیج تیار کیا گیا ہے اس میں نظر یہی آرہا ہے کہ اپوزیشن کے پیچھے سی آئی اے کا کردار ہو سکتا ہے اور عمران خان کے پیچھے آئی ایس آئی کا کیونکہ امریکہ کسی بھی طور پر پاکستان کو روس اور چائنا کے کیمپ میں نہیں دیکھنا چاہتا جب کہ عمران خان کی حکومت واضح طور پر امریکہ کو للکار چکی ہے اور روس کے معاملہ میں خود کو نیوٹرل ثابت کرنے کی کوشش تو کررہی ہے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال کا فائدہ بھی امریکہ، آئی ایم ایف کے ذرائع اٹھانا چاہتا ہے، یہ صرف عمران خان کی حکومت کے گرنے یا رہنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ امریکہ کی اپنی بقاءکا بھی سوال ہے۔
پاکستان کے ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں امریکہ کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ 70 سالوں سے پاکستان امریکہ کے کیمپ میں رہا ہے۔ پاکستان پر دنیا میں سپر پاورز کی جنگ میں شرکت کے باعث دنیا کو غیر متوزن کرنے کا بھی الزام ہے۔ ہماری بیوروکریسی ہو یا اسٹیبلشمنٹ، تمام کے تمام امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے تربیت یافتہ ہیں اور کچھ تو ڈائریکٹ امریکہ کے پے رول پر ہیں۔ حکومت کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ملک میں موجود غیر ملکی سفارتکار دھڑلے سے اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ یہاں تمام برائیوں کی جڑ عوام ہیں کہ جو خاموش تماشائی بنے سب کچھ ہوتا دیکھ رہی ہے مگر جہالت کے باعث حکومت یا اپوزیشن کسی کو راہ راست پر لانے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ یوں 20 کروڑ عوام چابی کے کھلونے کی طرح اور روبوٹ کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور حکومت اور اپوزیشن کھوکھلے نعروں کے ذریعہ ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔
264











