راولپنڈی (نیوز ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختو نخوا میں ہوئے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو ساز گارسیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشتگر دانہ گٹھ جوڑ نشو نما پار ہا ہے۔ خوارج مساجد میں بیٹھ کر دہشتگردی کیلئے کواڈ کا پٹرز استعمال کرتے ہیں، خوارج کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں ماردو، پچھلے سال 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اور سویلینز کی شہادت 1235 سے ہے، بھارت کے آپریشن سندور کی کا لک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جارہی ، دہشتگردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے۔ آئین کہتا ہے ملک کی خود مختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، کسی کی سیاست کسی کی ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں، وہ با اختیار وزیر اعظم تھا جو کہتا ہے کہ وہ بے اختیار تھا، وہ اتنا با اختیار تھا کہ اس نے اس وقت کے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کا ایک ہی باپ قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ فوج کو کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشو نہیں ہے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ بحران کا حل نکالیں۔ یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول وعرض میں عوام کو بھی ہے، فتنہ ہندوستان کا نہ پاکستان اور نہ بلوچستان سے کوئی تعلق ہے، ملٹری لیڈرشپ اور پولیٹیکل لیڈرشپ ایک پیج پر ہے، یہ ہے ریاست کا بیانیہ، سویلین اورفوجی قیادت دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیج پر ہے، صوبائی سیاسی قیادت کو عمل کیئرئی ہے کہ دہشتگردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتہ الخواج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔ گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آرلیفٹینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں سکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشتگردی کیخلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشتگردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے ، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشتگردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشتگردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشتگردی کیخلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے لڑی جارہی ہے۔ گزشتہ سال انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی جب کہ گزشتہ برس ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طور پر منظم کیا، دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پارہا ہے۔ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کئے گئے ، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے ، گزشتہ برس 27 خودکش حملے ہوئے ، کے پی میں 80 فیصد دہشتگردانہ حملے ہوئے ، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشتگردی کیلئے فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشتگردی نے سراٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشتگرد جہنم واصل کئے گئے ، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی ، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا ، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگر دمارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشتگردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبر پختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ 2 دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے، دہشتگر دخوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 14 ہزار 658 آپریشن خیبر پختونخوا میں کئے گئے ، فوج، پولیس اور اداروں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، بلوچستان میں 58 ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، دہشتگردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2597 دہشتگرد ہلاک کئے گئے ، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری 1235 شہادتیں ہوئیں، خود کش حملے خیبر پختو نخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں ہوئے، خیبر پختونخو 16 اور بلوچستان میں 10 حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک حملہ ہوا، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے 3 ہزار 811 واقعات ہوئے ، 2021 سے 2025 تک خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات بڑھے، ریاست دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فتنہ الہندوستان کیخلاف واضح موقف ہے ، 2021 کے دوران خیبر پختو نخوا میں 193 دہشتگرد ہلاک ہوئے ، گزشتہ سال دہشتگردی کیخلاف تاریخی اور نتیجہ خیز تھا، 2021 میں دوحہ معاہدے میں طالبان نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیے ، افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ معاہدے میں کہا گیا افغانستان میں خواتین و حقوق ملیں گے، کیا 2021 کے بعد دوحہ معاہدے کے وعدوں پر عمل ہوا؟ مختلف دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترجمان پاک افواج نے کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے ، وہ خود کو عبوری افغان حکومت کہلواتے ہیں لیکن وہاں کوئی حکومت نہیں، القاعدہ ، داعش، بی ایل اے افغانستان میں موجود ہے، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈرلا یا گیا ، شام سے 2 ہزار 500 دہشتگر دافغانستان منتقل ہوئے ،شام سے افغانستان منتقل ہو نیوالے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں، افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی۔ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرز عمل کے مطابق منظم کیا، فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے بھگادیا، افغانستان و کو اسلام کا علمبردار بنا کر پیش کرتا ہے، افغانستان دہشتگردوں کو براہ راست سپورٹ کر رہا ہے، افغانستان وارا کا نومی کرتا ہے۔ وارا کانوی کیلئے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے، افغانستان کو وارا کانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکو مار دو۔ ترجمان پاک افواج نے کہا کہ خیبر پختو نخوا میں کرمنل ٹیر گٹھ جوڑ موجود ہے، خیبر پختونخوا کی بنیاد پر 206 انٹیلی جنس آپریشن کئے جار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے 2026 میں افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کرینگے، افغانستان اور بھارت آجائیں ان کا شوق پورا کریں گے، ہندوستان میڈ یا پر بیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے چھپ کر نہ بیٹھے، ارنب گوسوامی کو دیکھ کر ہنس کیوں رہے ہیں، یہ بھارتی دانشور ہے، مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیا او تاریل گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاوں پڑ جا، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔ ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہورہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشن نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایساہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا س بارایسے لوگوں کا بیا نی بھی کھل کر سامنے آگیا، ان لوگوں کے پاس وہی پراناسیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بنا چاہتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما ر ہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرمارہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارٹی کرے، یہ کونی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مددکریں، وزیر اعلی کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیر اعلی کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محود کو صوبے کا وزیر اعلی لگا دیا جائے ، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔ دہشتگر داعش کا ہو، القاعدہ کا یاٹی ٹی پی کا سب دہشتگرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، ہماری کسی کیلئے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سجھتے ہیں کہ دہشتگردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے دہشتگردی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس چلا دیئے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے۔ ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کیلئے اپنے علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔ طالبان سے مذاکرات اور انہیں واپس خیبر پختو نخوا میں لائے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے، وہ جو اس وقت وزیر اعظم تھا، جو اپنی پارٹی کو ڈکٹیٹر کے طور پر چلاتا ہے، وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے کہ دہشتگردوں سے بات چیت کرو، اس وقت کے ڈی جی آئی کہاں ہیں اس وقت ، جنہیں انہوں نے اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا، وہ با اختیار وزیر اعظم تھا، وہ انتا با اختیار تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دیا ، اس نے وہ کیا جو کسی نے نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری پارٹی ایک بندے کے ارد گرد گھومتی ہے، وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جائے پڑ جاتا ہے ، ڈی جی آئی کو سیاست کیلئے استعمال کیا گیا، ادارے کا کوئی تعلق نہیں شخصیات کا کھیل تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا جب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو یہاں موجود کچھ بار یک وارداتیہے ان کی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں، ان میں سے ایک ناروے میں بیٹھا ہے، یہ ایمان مزاری) خود کو ہیومن رائٹس ایکٹیویٹ کہتی ہیں، ایک پروفیسر عثمان قاضی کی دہشتگردی پر سوشل میڈ یا پر بیانیہ بنایا، ان سب کی ڈوریاں باہر سے چل رہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق نشر کیا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لا جگ اور آر گیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔
42












