Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پامالیِ دستور 206

کیا تماشہ ختم ہوا؟

تیرہ جماعتی اتحادی حکومت اپنے 90 سے زائد وزیروں اور مشیروں کے ساتھ 9 اگست 2023ءکو برخاست ہوگئی۔ اپریل 2022ءمیں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت جو بقول بعض دانشوران تحریک انصاف کے برعکس انتہائی زیرک اور تجربہ کار سیاستدان جس میں جماعت اسلامی کے سوا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں نے اپنے دور حکومت میں سلوک ریاست پاکستان اور اس کے 25 کروڑ شہریوں کے ساتھ روا رکھا وہ تاریخ کے ابواب میں کس طریقے سے رقم پذیر ہوگا، یہ معلوم کرنے یا سمجھنے کے لئے کسی انتہائی ذہانت یا صلاحیت کی ضرورت نہیں۔ ان 16 مہینوں کی روداد پارلیمان کی دستاویزات، عدلیہ کے فیصلوں اور تمام حکومتی اداروں کے ریکارڈز کے علاوہ میڈیا پر سنگین پابندیوں کے باوجود نشریاتی اور تحریری ثبوتوں کے ساتھ پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں ایک سیاہ دور کے طور پر یاد کی جائے گی۔ اس حکومت نے طرز حکمرانی کو ایک نئی اور انوکھی نوعیت بخشی جس میں ہر وہ عمل جائز قرار پایا جو عمومیت سے ہٹ کر رہا۔ اس حکومت کی عزت و توقیر اس قدر کمزور بنیادوں پر رہی کہ اس میں شامل تمام اراکین اور ادارے کل وقت اپنی ”توہین“ کی ہی حدود کو ناپتے رہے اور اس کے خلاف قانون سازی میں مصروف رہے۔
اس دور حکومت میں جو سلوک ذرائع ابلاغ کے ہر شعبے سے کیا گیا اس نے نہ صرف اظہار رائے کی آئینی بنیادی آزادی رائے کو سلب کیا بلکہ اس پر قائم رہنے کا اصرار کرنے والوں کو جس طرح سے خاموش کیا گیا وہ اس حکومت کی بے ضمیری کی دلیل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ارشد شریف کی شہادت سے لے کر صحافت کے کئی نامور پرانے اور نئے لوگوں کو جس طرح اذیتیں دی گئیں اور عمران ریاض خان کی گمشدگی تک، انتہائی دلخراش سلسلے ہیں جن کا احاطہ کرنا بھی انتہائی تکلیف دہ کیفیت سے دوچار کرتا ہے۔ پاکستان کی صحافت پر اس قدر سخت کٹھن وقت اس سے قبل بھی نہیں پڑا۔
ان 16 ماہ میں پاکستان کی معیشت نے جو دھچکا کھایا وہ آئندہ کئی سالوں تک پاکستانیوں کے لئے مشکل ترین حالات کا ذمہ دار ہوگا۔ پاکستانی کرنسی بری طرح بے وقعت ہوئی، اس وقت پاکستانی روپیہ عالمی بازار میں ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔ مفتاح اسماعیل کو برطرف کرنے کے بعد جس طرح اسحاق ڈار کی واپسی عمل میں لائی گئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کی تجربہ کاری پاکستان کو ایک مضبوط معاشی پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرے گی محض دعویٰ ہی ثابت ہوا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں جس مہنگائی کے طوفان کی شکایات کی جاتی رہیں اور جسے بنیاد بنا کر حکومت تبدیل کرنے کے راستے بنائے گئے وہ آج تاریخ پاکستان میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت یہ انڈیکس 12 فیصد دکھاتا تھا جب کہ اتحادی حکومت اسے 30 فیصد تک لے آئی۔ ضروریات زندگی بمع بجلی، پانی، گیس اور پیٹرول عام آدمی کی رسائی سے دور ہو گیا ہے۔ اتحادی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بدولت معیشت سے منسلک ہر شعبے نے تنزلی کا سامنا کیا۔ مختصر کاروبار سے لے کر وسیع کاروبار تک سب مشکلات کے شکار ہوئے۔ روپے کی بے قدری کے باعث خام مال حاصل کرنے میں دشواریاں ہوئیں۔ فیکٹریوں میں تالے لگے اور آبادی کا ایک کثیر حصہ بے روزگاری کا شکار ہوا۔ صنعتیں بیٹھ گئیں، برآمدگی پر گہرا اثر پڑا، اتحادی حکومت کی سابقہ بدعنوانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے بڑے تمام بیرونی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک لئے۔ IMF نے بقول سابق وزیر اعظم ناکوں سے لکیریں کھنچوادیں اور یہ دیکھتے ہوئے تمام نام نہاد دوست ممالک بھی امداد روک کر بیٹھ گئے مگر ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود جو کہ عوام نے جھیلیں کثیر الاتعداد کابینہ کی مراعات میں کوئی تخفیف عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ حکومت نے اپنے آخری ایام میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں روپے ممبران کے نام مختص کئے۔ شہباز حکومت جاتے ہوئے اپنے پیچھے 60 ارب کے قرضے چھوڑ گئی ہے جو آنے والی حکومتیں عرصہ تک بھگتتی رہیں گی۔
اپنے طور پر انتہائی متحرک حکومت نے قانون سازی کو ایک نئے وطیرہ سے روشناس کیا اور آئین شکنی کی ایک مثال قائم کی، عدلیہ میں دراڑیں ڈالنے کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے چھوٹے ججوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ کے جسٹسوں کے خلاف مہم جوئی جاری رکھی اور عدالتوں کے فیصلوں میں ترامیم کی گئیں جو نہ صرف عدلیہ کو کمزور کرنے کے مترادف قرار پائیں بلکہ آئین کی شقوں سے متصادم ہوئیں مگر جہاں ایک ملزم کو ایک اعلیٰ عہدے پر اس وعدے کے ساتھ مقرر کیا جائے کہ وہ اپنے اوپر نافذ ہونے والی ہر سزا اور ہر الزام سے بری الذمہ کروادیا جائے گا تو پھر اس حکومت کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا کہ اس کے تمام اراکین اپنے تمام معاملات “Manage” کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ اس حکومت نے پھر اس کو یقینی بنایا، سلمان شہباز، اسحاق ڈار اور شریف خاندان ان کی بہترین مثال ہیں۔
اقتدار ایک نشہ ہے۔ اس کے تذکرے دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں مگر اس کے جو رنگ پاکستانی قوم نے پچھلے 16 ماہ میں دیکھے وہ عجیب و غریب ہونے کے ہمراہ ہولناک بھی رہے، اپنی الوداعی تقریر میں شہباز شریف نے اپنے سیاسی حریفوں سے انتقام کے سلسلے میں جس کسر نفسی سے کام لیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اپنے سب سے بڑے حریف تحریک انصاف کو ٹھکانے لگانے کے زمرے میں جس طرح اس ملک میں حقوق انسانی کی پامالی کی گئی اس کی پاکستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ جس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا وہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور تہذیبی انحطاط کی انتہا ہے۔ پاکستان میں رونما ہونے والے ان واقعات پر عالمی سطح پر بھی تبصرے کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کے مستقبل پر ان واقعات کا گہرا اثر ہوگا۔
اسرائیلی لابی نے پاکستان کو یہ جتا دیا ہے کہ فلسطین اور کشمیر پر احتجاج کرنے والے پہلے اپنی سرحدی حدود کے اندر حقوق انسانی اور آزادی رائے کا احترام کریں۔ اس وقت 10 ہزار سے زیادہ سیاسی قیدی بشمول خواتین اور کم عمر بچے جیلوں میں ہیں، جنہیں عدالت یا وکلاءتک کوئی رسائی نہیں۔ پاکستان سے گزشتہ سال تقریباً 10 لاکھ لوگوں کے باہر منتقل ہو جانے کی خبریں ہیں اس کی وجہ صرف معاشی نہیں بلکہ وہ عدم تحفظ کا احساس ہے جو پچھلے 16 ماہ میں پاکستانیوں نے محسوس کیا ہے۔
نگراں حکومت آچکی ہے، کیا کوئی تبدیلی آئے گی، کیا ان تمام معاملات پر نظرثانی کی جائے گی، کچھ آثار ایسے نظر نہیں آرہے، نگراں وزیر اعظم یا نگراں حکومت کتنی آزاد ہے یا ہو گی اس کا اندازہ جلد ہی ہو جائے گا۔ بلوچستان عوامی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایماءپر وجود میں آئی تھی۔ انوار الحق کاکڑ معتدل مزاج کے کہے جارہے ہیں مگر ان کی گزشتہ دنوں کی کچھ ملاقاتیں کچھ اور اشارے بھی کررہی ہیں۔ یہ بھی نظر میں رکھنا ہو گا کہ پچھلے دور حکومت میں اداروں اور خاص طور پر پولیس کا طرز عمل کسی سہارے کے بغیر نہیں رہا ہوگا۔ یہ بھی سوچنا ہو گا کہ چند ماہ سے جو لاقانونیت پاکستان میں نافذ ہے اس کی کڑیاں کہاں اور کن مضبوط ستونوں سے بندھی ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں