Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
عمران خان توجہ فرمائیے! 233

کیا سپریم کورٹ آئین کی بالادستی قائم کر سکے گی!

اس وقت وطن عزیز پاکستان میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اپریل 2022ءسے پی ڈی ایم حکومت نے لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس دوران حکومت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے فاشزم کی انتہا کردی ہے۔ ہم نے اپنی پچاس سالہ ہوش و ہواس کی زندگی میں ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جس طرح عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کارکنوں کو عبرت کا نشان بنایا گیا اور ابھی بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔
میری نظر میں عمران خان نے تین بڑی سنگین غلطیاں کیں، نمبر ایک، اسے قومی اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دینے چاہئے تھے، چاہے کچھ بھی ہو جاتا۔ نمبر دو، پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کرنا چاہئے تھا اور نمبر تین امریکہ اور فوج کو کھل کر نشانہ نہیں بنانا چاہئے تھا۔
عمران خان نے اپنے وکیلوں سے مشورہ کرکے اسمبلیاں توڑیں اور اس زعم میں توڑیں کہ آئین کے مطابق نوے دن کے اندر انتخابات ہر حالت میں کروانا ہوں گے۔ مگر افسوس اس امر پر ہے کہ عمران خان شریف فیملی کو اس وقت سے جانتا ہے جب یہ لوگ سیاست میں آئے اور انہوں نے ہر قسم کے میرٹ کی دھجیاں بکھیریں، ان کی حکومتوں کے دوران لاقانونیت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ جہاں ان گنت غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے میں یہ لوگ ماہر سمجھے جاتے تھے، وہیں انہوں نے اقتدار کے حصول کے لئے بے شمار لوگوں کو قتل کروایا۔ ہمارے سامنے منہاج القرآن کا واقعہ ہوا جس میں 14 بے گناہ افراد کو دن دیہاڑے قتل کروادیا گیا، اور شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھا، اس کیس کا کچھ نہیں بنا، انہوں نے دن دیہاڑے اربوں ڈالر کی کرپشن کی اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں مگر کچھ نہ ہوا، سوائے نوازشریف کی نا اہلی کے۔ شریف اور زرداری سے ایک روپیہ وصول نہیں کیا جا سکا، یہ لوگ سیاست دان نہیں جرائم پیشہ مافیا ہیں، خان کو اپنے وکلاءپر اعتماد کرکے اپنی ہی حکومتیں نہیں گرانا چاہئے تھیں۔
خیر جو ہوا سو ہوا، اس پر سپریم کورٹ میں پٹیشن کی گئیں اور لمبی سماعتوں کے بعد سپریم کورٹ نے 90 دن کے اندر انتخابات کا حکم دیا جس کو حکومت سمیت اس کے کسی ادارے نے نہیں مانا، اس معمالے پر سپریم کورٹ کی جتنی بے عزتی ہوئی اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اب 12 اگست کو اسمبلیاں ختم ہو رہی ہیں جس کے ساتھ ہی یہ حکومتیں ختم ہو جائیں گیں اور کیئر ٹیکر گورنمنٹ آجائے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ ستمبر میں ہے اس طرح اس کے پاس پورا ایک مہینہ ہے کہ 90 دن میں انتخابات نہ کروانے پر آئین کی خلاف ورزی پر سویا ہوا کیس دوبارہ جاگ جائے اور فوری ٹرائل کرکے ائین توڑنے کی پاداش میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم تارڑ، تمام متعلقہ وفاقی سیکریٹریز اور الیکشن کمیشن کے تمام اراکین کو نا اہل اور نوکریوں سے فارغ کرکے جیلوں میں ڈالے۔ سپریم کورٹ کے ماتھے پر لگا ہوا دھبہ تب ہی صاف ہو گا۔ جب آئین توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس میں دونوں صوبوں کے گورنرز کو بھی سزا دی جائے۔ اور بعدازاں 90 دن سے تجاوز کرنے کی پاداش میں پنجاب اور کے پی کے کی حکومتوں کو برخاست کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے کئے ہوئے تمام فیصلے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیئے جائیں۔ بندیال صاحب حوصلہ کریں اپنے اور سپریم کورٹ کے تقدس کو پامال ہونے سے بچائیں وگرنہ یہ عمل آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے مت خوف زدہ ہوں، اگر آپ نے اس ایک مہینے میں ان لوگوں کو مثال بنا دیا تو پھر آئندہ کوئی جرات نہیں کرے گا کہ وہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کے احکامات کو ہوا میں اڑائے۔
خدارا فوراً حکمت عملی بنائیں، اپنے ساتھی سینئر ججز کو ساتھ ملائیں اور کیس کی دوبارہ شنوائی شروع کریں۔ دیکھئے گا ایسا کرنے سے پوری قوم آپ کی بلائیں لے گی اور کس قدر خوش ہو گی، سپریم کورٹ ہمت کرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں