پاکستان کی اندرونی سیاسی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد سیاست دانوں، بیوروکریسی اور فوج کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد آنے والے وزرائے اعظم کے نام بھی ہمیں یاد نہیں ہیں کیوں کہ انہوں نے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے لئے قیام کیا۔
لیاقت علی خان کے بعد اگلا بڑا نام جنرل ایوب خان کا ہے جو کہ زبان زدِ عام ہے۔ ایوب خان نے دس سال حکومت کی اور کہا جاتا ہے کہ وہ دور پاکستان کی تاریخ کا سنہری دور تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں ڈیمز بنے، صنعتی ترقی ہوئی اور ملک کی معاشی صورت حال بہتر رہی۔ اسی دور میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی بڑے مثالی رہے۔ مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایوب خان صدارتی الیکشن میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ہرا کر صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان انتخابات کے دوران فاطمہ جناح کے خلاف بھی بہت کچھ کہا گیا جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کو منتقل کیا لیکن اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں وہی صورت حال پیدا ہو چکی تھی جو اس وقت پاکستان میں ہے یعنی 1971ءکے عام انتخابات میں جن کو پاکستان کی تاریخ کے شفاف انتخابات کہا جاتا ہے۔ جس میں شیخ مجیب الرحمن بہت بھاری اکثریت لے کر دونوں صوبوں میں انتخابات جیت چکا تھا جب کہ ذوالفقار علی بھٹو صرف 80 نشستوں کے ساتھ بہت پیچھے تھا اور پھر بھٹو صرف مغربی پاکستان میں جیتا تھا، مشرقی پاکستان میں پیپلزپارٹی کو کوئی نشست نہ ملی۔ جب کہ عوامی لیگ نے دونوں صوبوں میں نشستیں حاصل کیں۔
مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ اس وقت کی فوجی قیادت نے وہی کچھ کیا جو آج جنرل باجوہ کی قیادت میں فوج کررہی ہے اور اسی کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ مغربی پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار ملا اور ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمن اقتدار کا حق دار ٹھہرا اور یہ سب کچھ اس وقت کی فوجی قیادت کی ہٹ دھرمی اور ناعاقبت اندیشی کے نتیجے میں ہوا۔ اس وقت تک سول بیوروکریسی کے اتنے پر پرزے نہیں نکلے تھے اور وہ کسی حد تک اپنی حدود میں تھی۔ آج کی طرح بے لگام نہیں تھی۔ کرپشن بھی برائے نام تھی۔
بھٹو کے دور اقتدار میں کچھ اصلاحات ہوئی تھیں۔ جن میں سب سے بڑا کام متفقہ آئین کی تشکیل تھی۔ کراچی میں روس کے تعاون سے اسٹیل مل قائم ہوئی۔ شناختی کارڈ کا باقاعدہ اجراءہوا لیکن صنعتی اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا جو کہ بعد میں بڑا مضر ثابت ہوا جس نے بنیادی طور پر معیشت اور تعلیم کو بے حد نقصان پہنچایا۔ بھٹو کے ہی دور میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی۔ بلاشبہ بھٹو ایک ذہین و فطین عوامی لیڈر تھا اس نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر غریب عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ اس سے اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ بھٹو بلاشبہ ایک صاف شفاف عوامی لیڈر تھا اور اس نے اپنے دور اقتدار میں کسی قسم کی کرپشن نہیں کی۔ لیکن اس دوران بیوروکریسی کچھ منہ زور ہو گئی تھی اور دوسری طرف بائیں بازو کی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف صف آراءتھیں جیسے آج پی ڈی ایم کی شکل میں سارا کرپٹ مافیا عمران خان کے سامنے کھڑا ہے اور وہ اکیلا ان کا مقابلہ کررہا ہے۔
بھٹو کی پھانسی اور پھر جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاءملک کو دیمک کی طرح چاٹ گیا اس دوران سیاست دانوں کو بہت بے وقعت کیا گیا اور اس کے نتیجے میں سول بیوروکریسی بہت مضبوط ہو گئی اور اس نے نہ صرف من مانیاں کرنی شروع کردیں بلکہ سیاست دانوں کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں۔ یہیں سے اخلاقی اور سیاسی ابتری کا دور شروع ہوا۔
ضیاءالحق نے نواز شریف کو گود لے لیا جس طرح ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو لیا تھا چنانچہ 1985ءسے آگے نواز شریف اور پھر بے نظیر بھٹو یعنی پیپلزپارٹی کا دور شروع ہوا جنہں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت ملک پر باری باری حکومت کی اور دکھاوے کے طور پر ایک دوسرے کو سخت برا بھلا کہتے رہے مگر یہ سب ملی بھگت تھی۔
1985ءسے 2018ءتک ان دو خاندانوں نے اور پھر اس دوران جنرل پرویز مشرف نے حکومت کی۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں یہ دور سب سے زیادہ کمزور دور تھا اس دوران پاکستان ہر لحاظ سے کمزور ہوا، ہم لوگ ترقی کرنے کی بجائے پچاس سال پیچھے چلے گئے۔ ان دونوں خاندانوں نے بے شمار کرپشن کی اور دنیا بھر میں بدنام ہوئے۔
عمران خان کا دور اقتدار 2018ءتا 2022ءمارچ تک رہا۔ اس دوران بہت سارے فلاحی کاموں کی بنیاد رکھی گئی۔ طویل مدتی منصوبوں کی بنیاد رکھی گئی مگر عمران خان بمقابلہ تمام پرانی جماعتیں رسہ کشی جاری رہی اور بالاخر بیرونی سازش کے نتیجے میں اس بار فوج نے پس پردہ رہ کر پی ڈی ایم کی جماعتوں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی اور عمران خان کی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت کو ختم کردیا گیا اور کرپٹ لوگوں کا ٹولہ اقتدار میں بیٹھ گیا جن کی قومی اسمبلی میں وہی حیثیت ہے جو 1971ءمیں بھٹو کی تھی۔ پچھلے سات ماہ میں امپورٹڈ حکومت نے فوج کے ساتھ مل کر غیر اعلانیہ مارشل لاءلگا رکھا ہے۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی قیادت کو سخت حالات کا سامنا ہے۔ مقدمات، گرفتاریاں، عمران خان پر قاتلانہ حملہ، صحافیوں اور میڈیا ہاﺅسز کو بند کرنا غرض یہ کہ یہ حکومت ہر طرح سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
لیکن مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ سیاست دانوں کی نا اہلیت کی وجہ سے فوج کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے اور بیوروکریسی بے لگام ہو چکی ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بشمول پی ٹی آئی ایک میز پر بیٹھیں اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے واضح قانون سازی کریں۔ تاکہ یہ لوگ اپنی حدود میں رہیں اگر یہ نہیں ہوا تو کل پی ڈی ایم کے لوگوں کی باری آئے گی۔ ملک اس وقت انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ حالات سول وار کی جانب بڑھ رہے ہیں اگر ہوشمندی سے کام نہیں لیا گیا تو پھر مارشل لاءبہت دور نہیں لہذا تمام سیاسی جماعتیں ڈائیلاگ شروع کریں تاکہ ملک کو اس گرداب سے نکالا جا سکے۔
170











