میں نہ مانو والی ایک ہٹ دھرمی ایک ضد والی صورتحال سے پورا پاکستان اس وقت نہ صرف دوچار ہے بلکہ پوری دنیا میں ایک تماشہ بھی بنا ہوا ہے اور جو لوگ اس کے ذمہ وار ہیں انہیں رتی بھر بھی نہ تو کوئی احساس ہے اور نہ ہی کوئی فکر ہے، انہیں اگر فکر ہے تو صرف اور صرف اپنی جیت کی۔۔۔۔ وہ کسی بھی حال میں اپنے قدموں کی ٹھوکر بننے والے عوام کے ہاتھوں اپنی ہار ماننے کو تیار ہی نہیں جو ملکی عوام 8 فروری کے الیکشن اور اس کے نتائج کے ذریعے دے چکے ہیں۔ الیکشن کے نتائج کی وجہ سے تو اس وقت پاکستان میں عوام کی حکمرانی ہونی چاہئے تھی مگر افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا اور لکھنا پڑ رہا ہے کہ بدنصیب پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ روز ایک نیا تماشہ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے۔ کوئی حکومت بنانے، صوبائی وزراءاعلیٰ بننے اور کوئی صدر پاکسان بننے اور کوئی وزیر اعظم بننے کے لئے بھاگ دوڑ کررہا ہے تو کوئی دوسری جانب پوری بساط ہی لپیٹنے میں لگا ہوا ہے غرض بہت سارے پلانبیک وقت چل رہے ہیں جن کی خالی جھولیوں میں پی ٹی آئی کے پکے ہوئے آم ڈال کر الیکشن میں فارم 47 کے تحت کامیاب کروایا گیا ہے، انہیں اب ریمورٹ کے ذریعے وہی قوتیں اپنے اشارے پر نچوا رہی ہے، کوئی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی تاج پوشی کروانے کو تیار ہے مگر وزیر اعظم یعنی وفاقی حکومت لینے کو تیار نہیں۔
انہیں وارننگ دے دی گئی ہے کہ وہ 72 گھنٹوں میں انسان کے بچے بن کر وفاقی کابینہ بنوا کر حکومت بنوالے ورنہ ورنہ۔۔۔ جب لاٹ چلے گا بنجارہ والی صورتحال کردی جائے گی اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی درگت بنی ہوئی ہے۔
راولپنڈی کے کمشنر چٹھہ کے اعترافی بیان اور اہم ترین انکشاف نے چیف جسٹس اور خود چیئرمین الیکشن کمیشن کو کٹھہرے میں لا کر کھڑا کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کے الیکشن چوری کروانے یا پھر اس پر ڈاکہ مارنے کا الزام ملک کی ان دو اہم ترین شخصیات پر عائد کردیا گیا ہے۔ یہ صورتحال اچانک ضمیر جاگ جانے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے یا کہ منصوبے کے تحت بنا دی گئی ہے لیکن اس سے پی ٹی آئی اور عمران خان کے موقف اور ان کے بیانیے کی تصدیق ہو گئی ہے اور غیر ملکی میڈیا کے ہاتھوں پاکستان کے الیکشن میں غیر شفافیت اور جعلسازی کا ایک بہت بڑا ثبوت لگ گیا ہے۔ اب بہت زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ اس چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے حکومت کرنا۔۔۔ وزیر اعظم بننا۔۔۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب آخر اس کا حل کیا ہے۔۔۔؟ اب صرف پالیسی سازوں کے پاس اپنی آن بان بچانے کا ایک ہی راستہ رہ گیاہے کہ وہ سپریم کورٹ کے ذریعے اس طرح کا فیصلہ کروالے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والی صورتحال پیدا ہو جائے یعنی وہ عالمی دنیا کو مطمئن کرنے کے لئے اس بات کا اعتراف کرلے کہ واقعی اس الیکشن میں گڑبڑ کی گئی ہے، اس لئے عدالت نے الیکشن کے نتائج کو ہی کالعدم قرار دے دیا ہے اور اب دوبارہ سے الیکشن کروائے جائیں گے یعنی اس طرح کے فیصلے سے گدھے اور گھوڑے کا فرق ختم کردیا جائے گا۔ ہارنے والے اور جعلسازی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ جیتنے والوں کو ان کی جیت کی سزا انتخابی نتائج کو کالعدم کرنے کی صورت میں دی جائے گی اور اس طرح سے قرضوں میں ڈوبے بدنصیب پاکستان کو ایک اور الیکشن کے پراسس سے گزار کر مزید اربوں کا مقروض بنایا جائے گا کیونکہ ایک الیکشن کروانے پر اربوں کا خرچہ ہوتا ہے مگر انا اور ہٹ دھرمی میں ڈوبے لوگوں کو کیا ہے، کون سا ان کی جیب سے یہ رقم خرچ ہو رہی ہے، انہوں نے تو اپنی مرضی کرنی ہے اور ملک پر اپنی حکمرانی قائم و دائم رکھنی ہے اور اپنے خادمں کو ہی اقتدار میں لانا ہے، وہ نہ تو عوام کو مانتے ہیں اور نہ ہی جانتے ہیں، اس لئے وہ عوام کے ووٹوں کو قدموں کی ٹھوکر بنانے کے عادی ہیں۔ دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی پاسداری کرتی ہے یا کہ۔۔۔۔۔۔؟
157












