اردو نظم پر ایک مکالمہ: اربابِ قلم کینیڈا کے سنجیدہ ادبی مکالمے پر مشتمل محافل کے سلسلے کا پروگرام "اردو نظم پر ایک مکالمہ" جو 11 دسمبر بروز اتوار ٹورانٹو کے مضافاتی علاقے ملٹن میں منعقد ہوا 217

اردو نظم پر ایک مکالمہ: اربابِ قلم کینیڈا کے سنجیدہ ادبی مکالمے پر مشتمل محافل کے سلسلے کا پروگرام “اردو نظم پر ایک مکالمہ” جو 11 دسمبر بروز اتوار ٹورانٹو کے مضافاتی علاقے ملٹن میں منعقد ہوا

فی زمانہ ادبی اجتماعات میں بھی تفریح و تشہیر ان کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جانے لگی ہے۔ توصیفی تفریحی تقریبات کی کثرت یا کمتر ادبی مواد کی بآسانی دستیابی کی وجہ سے سنجیدہ علمی اور ادبی عنصر مقفود ہوتا جا رہا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ادب دوست مخلص تخلیق کاروں کی کوششیں تازہ ہوا کے جھونکوں کا احساس دلاتی ہیں۔ اربابِ قلم کینیڈا کے سنجیدہ ادبی مکالمے پر مشتمل محافل کے سلسلے کا پروگرام “اردو نظم پر ایک مکالمہ” جو 11 دسمبر بروز اتوار ٹورانٹو کے مضافاتی علاقے ملٹن میں منعقد ہوا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
اردو کےمعتبر شاعر اور ادیب جناب شبنم رومانی (مرحوم) نے اربابِ قلم (پاکستان) کےنام سے ایک فعال ادارہ پاکستان میں قائم کیا تھا جو زندگی بھر بے شمار، ہمہ جہت ادبی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
شبنم صاحب کے صاحبزادے جناب فیصل عظیم (جو خود بھی نامور شاعر ہیں) نے کینیڈا آکر اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ساتھ تین شعرا جناب انور کاظمی، جناب جنید اختر اور جناب سکندر ابوالخیر کی شمولیت سے اسے ایک فعال اور با اثر ادارے کی شکل دی۔
گزشتہ ڈھائی سال سے اربابِ قلم کے تحت محافل میں ادبی، علمی اور تحقیقی شعبوں سے وابستہ قابلِ ذکر شخصیات کو ان کے شعبے سے متعلق مکالمے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ اس مرتبہ امیر حسین جعفری صاحب کو اردو نظم پر ایک مکالمہ کی دعوت دی گئی تھی۔ امیر جعفری صاحب ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ میڈیا سے بھی متعلق رہے ہیں۔ آپ کی تربیت ایک علمی خانوادے میں ہوئی جہاں “اردو نظم کے غالب” کا خطاب پانے والے نامور شاعر، ان کے والدِ گرامی مرحوم اختر حسین جعفری کی رہنمائی ان کو حاصل رہی۔ امیر جعفری صاحب کم عمری میں ہی فنون جیسے ادبی رسالہ میں چھپتے رہے اور احمد ندیم قاسمی مرحوم کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔
محفل کی ابتدا نظم سے جڑے بنیادی سوالات سے ہوئی۔ امیر جعفری صاحب کو مضمون پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان کے جوابات عالمانہ اور تبصرے مدلل اور عمیق ہونے کے باوجود ان کا انداز نہایت عاجزانہ تھا۔
اس محفل کی ریکارڈنگ فیسبک اور یو ٹیوب پر موجود ہے مگر چند نمایاں تبصروں کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے
مثلا”
۔ ساری دنیا میں نظم ہی شاعری سمجھی جاتی ہے
۔ غزل ایران اور پاک و ہند کا خاصہ ہے
۔ اردو غزل کو بڑے شاعر میسر ہوئے اور اسی لیے اسے اچھی شاعری کا معیار سمجھا جاتا ہے
۔ شاعری میں اوزان ایک تہذیبی مسئلہ ہے، قدیم شاعری میں اوزان نہیں تھے
۔ اچھی شاعری گائیکی کی محتاج نہیں ہے۔ غالب کو طوائف نہ بھی گاتیں تو بھی ان کی شاعری بڑی تھی
۔ شاعری کا مقبول ہو جانا اس کے بڑا ہونے کا معیار نہیں ہے۔ “نئے کپڑے پہن کر جاﺅں کہاں” کے شاعر کی شاعری اس سے بہت بڑی ہے
۔ اردو شاعری کو ٹین ایج رومانٹسزم سے آگے بڑھنا چاہیے
۔ شاعری کا سب لائم sublime (ارفع) ہونا ضروری ہے
۔ ادب کی جمالیات مذہب سے کشید کی گئی ہیں
۔ غزل ہو یا نظم، بات شاعری کی ہے
۔ شعری حسّیت شاعر کا وہ جواب یا طرزِ اظہار ہے جو وہ معاشرتی پیچیدگیوں، جذباتیت اور جمالیاتی اثر رسوخ سے نبرد آزما ہو کر دیتا ہے
امیر جعفری صاحب نے غزل اور نظم کی بہترین مثالیں پیش کیں۔ ان کے حافظے اور انداز بیان دونوں حاضرین کو محسور کرتے رہے۔ فیصل عظیم نے نہایت مہارت سے نظامت اور ماڈریٹر کا فرض نبھایا۔ حاضرین کے سوالات کو بھی شاملِ مکالمہ کیا گیا۔ حاضرین کے اکثر سوالات اور تبصرے مکالمے سے مطابقت رکھتے تھے۔ آخر میں یہ طے پایا کہ اس مکالمے کی دوسری نشست جلد منعقد کی جائے گی۔ اردو نظم پر یہ مکالمہ شروع سے آخر تک حاضرین کے شدید انہماک اور دلچسپی کا باعث رہا۔
شہر کی معزز اور معروف ادبی شخصیات نے اس میں شرکت فرما کر محفل کو معتبر ہونے کی سند عطا کی۔ شرکا میں اردو کے معروف بزرگ شاعر رشید صدیقی صاحب، رائٹرز فورم کے منیر سامی صاحب، ادارہ اظہار کی ذکیہ غزل صاحبہ، تنظیم علم و ادب کی اسما وارثی صاحبہ، شاعر اور ڈرامے کے بڑے نام جاوید دانش، افسانہ نویس اور ٹی وی اینکر روبینہ فیصل، انگریزی اور اردو کی شاعرہ اور ڈرامہ نگار زہرہ زبیری، مایہ ناز شاعر رشید ندیم، سلمان اطہر، افسانہ نگار احمد رضوان، مشہور گلوکار طارق حمید اور جناب عدنان حقی کے علاوہ محترمہ خالدہ نسیم، بشارت ریحان، ٹیبی شاہدہ اور عبید خان بھی شامل تھے۔
امیر جعفری صاحب کی شریکِ حیات اور ان کے دونوں نو عمر صاحب زادوں کی شرکت بیحد قابلِ ستائش تھی۔ پروگرام شروع ہوتے ہی بڑے بیٹے نے آکر امیر جعفری سے ہائی فائیو کیا۔ جنریشن گیپ کے شور میں نسلوں کی قربت کی یہ ایک خوبصورت مثال تھی.
حاضرین کے لیے چائے کے ساتھ لوازمات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جن میں سموسے اور چھولے بھی خوش ذوق صارفین کی داد وصول کرتے رہے۔ خدا کرے کہ ایسے سنجیدہ ادبی مکالموں کا سلسلہ جاری رہے۔ اس اہتمام و انعقاد پر اربابِ قلم کینیڈا تحسین و مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں