پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم سے اتحاد ختم! 108

8 مارچ خواتین کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے حوالے سے دنیا بھر کے اخبارات و جرائد نے خصوصی مضامین شائع کئے اور الیکٹرونک میڈیا پر مختلف پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہاں میئر مسی ساگا ”بونی کرومبی“ نے ورچوئل میٹنگ منعقد کر رکھی تھی۔ جس میں مسی ساگا سٹی کے تمام کونسلرز اور اسٹاف نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ابتدائیہ میں میئر نے خواتین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس کے مطابق سٹی آفس میں 58 فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ماں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور عورت کے دیگر رجوپ جو کہ بہن، بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہیں ان کی اہمیت سے روشناس کرایا۔
اس اہم موقع پر میئر نے سابقہ میئر ”ہیزل“ کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ ہیزل اس وقت عمر رفتہ کی ایک صدی مکمل کر چکی ہیں اور وہ چھتیس سال تک میئر رہ چکی ہیں۔ وہ بالکل ہشاش بشاش اور فٹ نظر آرہی تھیں۔ شرکاءنے ان سے ان کی فٹنس سے متعلق سوالات بھی پوچھے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ وہ فارم ہاوس میں پلی بڑھی ہیں اور خالص خوراک کھاتی رہی ہیں۔ ہاکی کی کھلاڑی ہونے کی وجہ سے انہیں کافی فٹنس رکھنا پڑتی تھی، اس لئے بھی وہ جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے سابقہ میئر نے کہا کہ انہوں نے مسی ساگا کی ترقی و ترویج کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ میئر شپ کو ون مین شو کی طرح نہیں چلایا بلکہ اپنی ٹیم کو ساتھ ملا کر کام کیا۔
”ہیزل“ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے جن سے آگے ان کے پوتے پوتیاں ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں یعنی ”ہیزل“ پڑنانی سے بھی آگے نکل چکی ہیں۔ وہ ان سے بہت محبت کرتی ہیں۔ ”ہیز“ نے اپنی سو سالہ زندگی کے اہم واقعات کو قلمبند کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں اگر انہیں کوئی افسوس ہے تو یہ کہ وہ بہت ساری کتابیں نہیں پڑھ سکیں۔ کتاب بینی پر انہوں نے بہت زور دیا۔
”ہیزل“ کے نام پر ٹورنٹو اور مسی ساگا کی یونیورسٹی میں شعبہ جات بھی قائم ہیں۔ اس ورچوئل میٹنگ کو یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے بہت سارے طالبعلم بھی دیکھ رہے تھے۔ ”ہیزل“ کی ایک صدی پر محیط زندگی میں بے شمار نشیب و فراز آئے۔ اس کا سفر اندھیرے سے اجالے تک کا ہے۔ جہالت سے علم کی روشنی تک اور زمین سے آسمان تک ہے۔ اتنی لمبی عمر میں ”ہیزل“ کو دنیا کے عظیم لوگوں سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان میں سے ملکہ برطانیہ دوئم کے ساتھ اپنی ملاقات کے متعلق بتاتے ہوئے وہ بہت خوش دکھائی دیں، انہوں نے کہا کہ ملکہ الزبتھ بہت وضع دار خاتون ہیں اور ان کے ساتھ بیتایا گیا وقت میرے لئے گراں قدر سرمایہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جاپانی کمپنی کے صدر سے ملاقات کا احوال بھی بتایا کہ وہ بھی با کمال انسان تھے۔ بہت نفیس، بہت شائستہ، بڑی خوبیوں کے مالک۔
اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میئر کرومبی نے بھی ان کے ماہرانہ مشورے لئے جو انہیں آئندہ آنے والے دنوں میں کام آئیں گے۔
خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے میں بھی اپنی والدہ محترمہ کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گا جو کہ میری پہلی درسگاہ اور رول ماڈل تھیں۔ میں ہمیشہ والدہ سے متاثر رہا، ان کی رعب دار شخصیت کا ہم سب بہن بھائیوں پر بڑا اثر تھا۔ نہ صرف ہم پر بلکہ اڑوس پڑوس اور محلے کی خواتین بھی ان سے مشورے لیتی تھیں۔ بہت سمجھدار اور زیرک خاتون تھیں، ہم نے ہمیشہ والدہ پر ناز کیا اور ان کی باتیں بڑے طمطراق کے ساتھ دوسروں سے شیئر کیں۔ پابند صوم و صلوٰة تھیں، بزرگ ہستیوں کو ماننے والی تھیں، صاحب نظر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ولی اللہ ہیں مگر اولاد انہیں نہیں پہچان سکی۔ ہم سب بہن بھائیوں نے ان کو ہمیشہ سر کا تاج سمجھا اورجس قدر ہو سکا خدمت کی۔ ان کا حق تو ادا نہ ہو سکا اور نہ ہی کوئی کرسکتی ہے۔ ہم نے بطور اولاد جو کچھ بھی ممکن ہوا ان کی بیماری کے دنوں میں کیا۔ کسی نے جانی خدمت کی اور کسی مالی۔ سب نے اپنا اپنا حصہ ادا کیا۔ اللہ رب العزت ان کو کروٹ کروٹ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، (آمین)۔ اور ہم سب کو والدہ سمیت تمام خواتین کو ان کی عزت و احترام اور جائز مقام دینے کی توفیق دے۔
راقم الحروف کی جانب سے تمام خواتین کو علامی دن مبارک ہو اور اس دن کے حوالے سے ہمیں اپنے گمشدہ رشتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں