Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
8 فروری خوف کی علامت کیوں؟ 26

8 فروری خوف کی علامت کیوں؟

آخر 8 فروری سے پاکستانی حکمراں بالخصوص اور ان کے سرپرست بالعموم اتنے خوفزدہ کیوں؟ متحدہ اپوزیشن پہلے ہی پہیہ جام ہڑتال کی کال دے چکی ہے اور اس ہڑتال کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی صورت میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی جیل بھرو تحریک چلانے کی بھی دھمکی دے چکے ہیں۔ 8 فروری سے موجودہ حکومت اور ان کی سرپرستی کرنے والے اس لئے خوفزدہ ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کی سیاسی تاریخ میں 8 فروری اس لئے اہم ترین اور تاریخ ساز دن ہے کہ اس روز پاکستانی عوام نے خوف کے اور خود ساختہ عقیدت کے سارے بت توڑ کر پاش پاش کر دیئے تھے اور اس قومی رہنما کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا تھا جس کی مخالفت اس اصل سرکار نے کی تھی جن کی مرضی ملکی عوام کی مرضی ہوا کرتی تھی ان کے ساتھ عوام کا عقیدت کا وہ رشتہ تھا کہ وہ اگر دن کو رات کہے تو ملکی عوام بھی ایسا ہی کرتے تھے ان کے ایک اشارے پر ملکی عوام ادھر سے ادھر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے ہو جایا کرتی تھی لیکن 8 فروری 2024 کو اس اصل سرکار نے اشارے نہیں کئے بلکہ عوام کو ڈرانے کے لئے بندوقیں توپیں اور ٹینک بھی میدان میں لے آئے لیکن آفرین ہے پاکستانی عوام پر جنہوں نے واقعی خوف اور عقیدت کے سارے کے سارے بت ہی پاش پاش کر دیئے اور اصلی سرکار سے اپنی شدید ترین نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بدترین مخالف عوامی ہیرو قیدی نے 804 کی جماعت بہت بڑی تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب کروا دیا اس کے بعد جس قسم کا شرمناک کھیل اسی اصلی سرکار نے کھیلا یعنی ”بلی تھیلے سے باہر نکلی“ اور عوام نے ان کے جن لاڈلوں کو الیکشن میں ہروایا تھا انہیں ہی عوام سے بدلہ لیتے ہوئے جعلی طریقے سے فارم 47 کے ذریعے جتوالیا اسی وجہ سے 8 فروری سے حکمران اور ان کے سرپرست یعنی اصلی سرکار خوفزدہ ہیں کیونکہ اس روز عوام نے ان کا اصل روپ اور اصلی سرکار نے عوام کا اصل روپ دیکھ لیا کیونکہ ان دونوں کے درمیان جو عقیدت و احترام کا پردہ تھا وہ گر کر ختم ہو گیا۔ اصلی سرکار اپنے اصل روپ میں سامنے آگئی تب جا کر عوام کو اپنے غلطی اور حماقت کا احساس ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد سے وہ جن پر عقیدت کے پھول برسا رہے تھے وہ تو کبھی ان کے اپنے تھے ہی نہیں۔۔۔
بلکہ ہمیشہ اپنوں کی صورت میں ان کا استحصال کرتے رہے بدقسمتی سے سیاستدانوں کو ان ساری کرتوتوں کے بارے میں علم تھا مگر وہ خوف کے مارے اس حقیقت سے اپنی عوام کو محض اپنی ساکھ بچانے کے لئے لاعلم رکھتے رہے مگر بعد میں قیدی نمبر 804 جیسے سر پھرے قومی ہیرو نے عوام کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دیا اسی وجہ سے یہ وگ 8 فروری سے گھبرا رہے ہیں، خوفزدہ ہیں یہ 8 فروری بہت ہی بری طرح سے ان کے ہواس پر سوار ہے یہ سسٹم اب اتنا زیادہ کمزور ہو چکا ہے کہ یہ ہوا کا معمولی جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتا اسی وجہ سے ایمان مزاری جیسی ایک نرم نازک لڑکی کی چیخ و پکار سے بھی یہ حکمران اور ان کے سرپرست اتنے خوفزدہ ہیں کہ ان کی آواز کو دبانے کے لئے انہیں اس صنف نازک کو 17 برس کی سزا دینا پڑی، اندازہ لگائیں کہ سچائی کا گلہ گھونٹنے کے لئے اس نظام کو کس طرح سے پولیس، عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام سرکاری مشینری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود سچ دبنے یا پھر مر مٹنے کے بجائے تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے پاکستان کے اصلی حکمرانوں سے یہ سیاستدان ہمیشہ سے گھبراتے چلے آرہے ہیں مگر پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ قیدی 804 سے یہ اصلی ریاست نہ صرف خوفزدہ ہے بلکہ انہیں تا حیات استثنیٰ جیسے غیر اخلاقی اور غیر شرعی قانون سازی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فارم 45 کی اسمبلی سے کروانا پڑی جو ان کی بہادری اور شجاعت کے ماتھے پر جھومر کی طرح سے جگمگاتا رہے گا اور انہیں یاد دلاتا رہے گا کہ قیدی نمبر 804 بھی کوئی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں