بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 115

90 روز میں انتخابات

سپریم کورٹ آف پاکستان جہاں جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آئے اور پاکستانی عوام کو جہاں اسٹیلبشمنٹ، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے اصل چہرے دیکھنے کو ملے، وہیں اب سپریم کورٹ کے ججز کے مابین ہونے والا بندر تماشہ یہ ثابت کررہا ہے کہ پاکستان میں کس قدر غیر ذمہ داروں کو کیسی اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ جہاں ہر طرف فیصلوں میں بچکانہ طرز عمل صاف دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 90 روز کے اندر الیکشن کرانے کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔ اس سے قبل صدر مملکت کوشش کے باوجود الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے میں ناکام رہے اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ دے ڈالی جس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی 90 روز میں الیکشن کرانے کا حکم دیا۔ مگر اس کے فوراً بعد مسلم لیگ نواز کے رہنماﺅں، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ کی جانب سے پریس کانفرنس میں 90 روز میں الیکشن کو نا ممکن قرار دے دیا گیا۔ لگتا ہے کہ اداروں کے درمیان ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے تاکہ ملک میں انتشار پیدا ہو، پاکستان کے سیاستدان اور حکمران ملک کی معاشی صورتحال پر سر جوڑ کر بیٹھنے کے بجائے باہمی جنگ کو بڑھاوا دیتے نظر آرہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کو 13 مارچ تک کی مہلت دے کر انہیں سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ امکان ہے کہ اگر عمران خان پیش ہوئے تو انہیں توشہ خانہ کیس میں ضمانت کے باوجود توہین عدالت کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کو ریٹائرڈ فوجی جنرلز کی جانب سے وارننگ دی گئی ہے کہ جنرل شعیب کے بعد اگر عمران خان کو بھی گرفتار کیا گیا تو پھر ملک میں انارکی کی ذمہ دار حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی ہو گی اور موجودہ آرمی چیف کے لئے حالات کو نارمل رکھنا مشکل ہوگا چنانچہ عدالت کے حکم کے مطابق 90 روز میں انتخابات کو یقینی بنایا جائے کیونکہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف انتخابات ہیں۔ ملک کے مقتدر حلقہ بھی انتخابات کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ یہی حقیقت بھی ہے کہ مضبوط اور مستحکم حکومت ہی ملک کو اس گرداب سے نکال سکتی ہے۔ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ الیکشن ایسی ہی صورت میں ہوں کہ عمران خان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے۔ یہ بات مریم نواز، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور حکومتی وزراءبھی کہتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا کہ انتخابات سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے مطابق ہوتے ہیں یا پھر نظریہ ضرورت ایک بار پھر ملک کے آئین کا دھڑن تختہ کرتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں