امپورٹڈ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے سابقہ حکومت پر مہنگائی کرنے اور نا اہلیت کے الزامات لگائے۔ درجن بھر جماعتوں کے اس اتحاد نے سیاسی میدان میں سخت ناکامی کے بعد لوگوں کو مہنگائی کے فریب میں پھنسا کر سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کی جو کہ بری طرح ناکام ہو گئی انہوں نے ہر طرح کا حربہ آزمایا مگر رزلٹ صفر نکلا بالاخر امریکی مداخلت اور لوکل گماشتوں کے ساتھ مل کر ایک بھرپور سازش کرکے عمران خان حکومت کو ختم کیا گیا۔ جس پر پچھلی حکومتوں کی طرح کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا۔
جن افراد کو جیلوں میں ہونا چاہئے تھا ان کو عنان حکومت سونپ دی گئی۔ باسٹھ رکنی وفاقی کابینہ کے ساٹھ فیصد لوگ ضمانتوں پر ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں خاموش مارشل لاءلگا دیا گیا ہے کیوں کہ حکومتی اتحاد پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی جماعت کو ہر محاذ پر نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی بھاری اکثریت میں کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستانیوں کی کثیر تعداد اس کے ساتھ ہے۔ عمران خان کے جلسوں میں لاکھوں لوگوں کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عوام اسے ہر صورت واپس اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔
آج کراچی میں ہونے والے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں کو شکست فاش دی ہے۔
امپورٹڈ حکومت کے چار ماہ کے دور اقتدار میں اس قدر مہنگائی ہو چکی ہے کہ اس کا پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ شہباز شریف بھکاریوں کی ٹیم لے کر در در پر بھیک مانگ رہا ہے کہ ہمیں کچھ مدد کردو مگر نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ تمام دوست ممالک نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا ہے۔
امریکہ نے افغانستان میں ڈرون حملہ کرکے ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا ہے اور اس میں بھی پاکستان کی فضا استعمال ہونے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں یعنی یہ حکومت جس طرح کی کمٹمنٹ کرکے آئی ہے اس کو پورا کرتی جارہی ہے۔ مگر پاکستان کے معاشی حالات کو سہارا دینے کے لئے ابھی تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پی ڈی ایم نے چند ماہ کے اقتدار اور نیب قوانین میں ترامیم سمیت الیکشن لاز میں ترامیم کے سوا کچھ نہیں کیا اور یہی ان کا ایجنڈا تھا لیکن اس دوران عوامی سطح پر ان جماعتوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے جوں جوں عمران خان پی ٹی آئی اور صحافیوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اسی طرح ان کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔
جب تک پاکستان میں عام انتخابات صاف شفاف طریقے سے نہیں کروائے جاتے اور کوئی نئی حکومت اگلے پانچ سال کے لئے منتخب نہیں ہوتی اس کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے کیونکہ بڑی سیدھی سی بات ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا ملک ان حالات میں اس طرح کے کرپٹ مافیا کے ہوتے ہوئے پیسے نہیں دے سکتا۔ وطن عزیز ہر روز معاشی طور پر نیچے گر رہا ہے۔
پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے اس کے موجودہ حکمران ناقابل اعتماد ہیں ان کو پوری دنیا میں بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ کرپٹ لوگ ہیں اور دھونس دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ سے مل کر حکومت میں آتے ہیں۔
پچھلے چار ماہ کے دوران انہوں نے سیاستدانوں اور صحافیوں پر جس طرح پرچے کئے ہیں وہ قابل شرم ہے شہباز شریف نے مریم صفدر کی بدمعاش ٹیم کے سربراہ اور ماڈل ڈاﺅن واقعہ کے مجرم رانا ثنا اللہ کو وزیر داخلہ بنا کر ٹاسک دیا ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماﺅں کو ماورائے قانون اور آئین گرفتار کرنا ہے اور بدترین انتقامی کارروائیاں کرنی ہیں۔ جس طرح پچھلی دنوں عمران ریاض اور حالیہ شہباز گل کی گرفتاری اور پولیس حراست میں تشدد کی کارروائیاں کی گئی ہیں وہ ساری دنیا کے سامنے ہے اس وقت وفاقی حکومت کا جس طرح کا رویہ ہے اس کے پیچھے صرف اور صرف مریم صفدر کا بغض اور عناد صاف دکھائی دے رہا ہے اور موصوفہ خود ایک سزا یافتہ مجرمہ ہے اور ضمانت پر جیل سے باہر دندناتی پھر ہی ہے جس کا نزلہ میڈیا چینلز پر صاف نظر آرہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ن لیگ کو جس قدر نقصان اس خاتون نے پہنچایا ہے شاید عمران خان نے نہیں پہنچایا۔ یہ خاتون انتقام میں بھری بیٹھی ہے۔ اور اس کا زہر چہار سو پھیل چکا ہ ے مگر عقل کی اندھی کو یہ نہیں معلوم کہ اس وقت عمران خان ناقابل شکست ہو چکا ہے اور اس کی تحریک تبدیلی کی بجائے انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے اور حقیقی آزادی اسی میں پنہاں ہے۔
254











