بدلتے موسم دیکھ کر پرندوں کا کوچ کر جانا نظام فطرت ہے مگر مسئلہ یہ آ پڑتا ہے کہ اللہ نے اشرف الخلوقات کو جو ذہن اور عقل عطا کی ہے وہ اسے معاملات کو بھانپنے کی صلاحیت دینے کے ساتھ ساتھ اسے عیاری کے زمرے میں بھی لے آتا ہے۔
”عقل عیار ہے سو بھیس بدلتی رہتی ہے“
پاکستان کی سیاست میں تو موسموں کی تبدیلی ایک عنصر مسلسل رہا ہے، کبھی یہ خود سمجھ لینا کہ اڑان بھرنے کا وقت آگیا اور کبھی مجبوراً تبدیلی مقام لاحق ہو جاتا ہے اس وقت استحکام پاکستان پارٹی اور پھر تحریک انصا پارلیمینٹرینز نے منظر عام پر آکر اس یقین کو مزید تقویت دیدی کہ سیاسی منظرنامہ سیاست کے میدان میں نہیں بلکہ کہیں اور طے پاتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں تو ابتداءہی سے کسی کو میدان سے ہٹا دینا اور کسی کو لا کھڑا کرنا کا وطیرہ رہا ہے اس کا کارخیر میں کون کون شامل رہا یہ تو کئی دہائیوں تک سرگوشیوں کے بعد بتدریج اسرار کھلنے لگے۔ حجاب کا پردہ اٹھا تو کئی پردہ نشین کھل کر سامنے آنے لگے۔
ہمارے ساتھ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے والا ہمسایہ ملک اس معاملے میں خوش قسمت بھی رہا اور چوکنا بھی، وہاں حکومتی اور سیاسی عنان پر انتظامیہ اور سیاستدانوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھی، اداروں کی حیثیت اور اختیارات کی مکمل نشاندہی کے ہمراہ یہ سختی سے باور کروادیا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں بہترین طور پر ریاست اور آئین کی پاسداری کرنے کا پابند رہے گا۔ کم نصیبی یہ رہی کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً ہی بعد قائد اعظم اور لیاقت علی خان اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ یہ عظیم المیہ ثابت ہوا، گو کہ لیاقت علی کی شہادت نہ حل ہونے والا عقدہ بھی بہت سی کہانیاں سناتا ہے، اس کے بعد پاکستانی سیاست ایسے ہاتھوں میں آگئی جن میں مدبری اور سیاسی طور پر تجزیہ کاری کا فقدان تھا جس کی اس وقت شدید ضرورت و اہمیت تھی۔
صرف گیارہ سال کے بعد ہی پاکستان سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل کر نام نہاد مقتدر ادارے کے ہاتھوں میں منتقل ہو گیا۔ 1958ءمیں پاکستان میں پہلا مارشل لاءجنرل محمد ایوب خان کے ہاتھوں نافذ کردیا گیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے، اوائل ہی میں سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو آگاہ کیا کہ فوج کی ہائی کمانڈ پر مامور ایوب خان فوجی امور سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے قائد اعظم نے ناگواری کا اظہار کیا اور ان کا تبادلہ مشرقی پاکستان کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ آئندہ دو سال تک کسی ہائی کمانڈ پر کام نہیں کریں گے۔ بعدازاں یہ ہی ایوب خان نہ صرف فوجی حکومتوں کی بنیاد قائم کرکے فیلڈ مارشل عہدے تک بلکہ دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے مسلم لیگ کی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔ اور پھر ایک طویل اور مشکل سفر کا آغاز ہو گیا مگر اس سفر میں سیاستدانوں کی نا اہلی، بے ضمیری اور بدعنوانیوں نے راستوں کو آسان بنانے میں بھرپور معاونت کی، یہ ہی وہ سنگین وقت تھا جب سیاست میں یہ خیال پرورش پانے لگا کہ اگر اقتدار تک پہنچنا ہے تو مقتدر حلقے سے بنا کر رکھنا ہوگا۔
پاکستان کے وہ سیاستدان جو جمہوری اقدار کے پروردہ تھے اور جن کا تعلق تحریک پاکستان سے کسی نہ کسی طور رہا گو کہ قلیل تعداد میں تھے مگر پاکستان کے ابتدائی عرصے میں پاکستان کو عالمی سطح پر باعزت مقام دلانے میں انتہائی موثر ثابت ہوئے، اس کے بعد بتدریج سیاسی ماحول میں ان افراد کی تعداد بڑھتی گئی جن کے لئے سیاست ایک نو آموزوں کا مرحلہ رہا۔ ریاست کیسے اور کس طرح مکمل طور پر جمہور کے ہاتھوں سے نکل کر اداروں کے ہاتھوں کا کھیل بن گئی یہ ایک انتہائی دلخراش داستان ہے، فوجی حکومتوں نے جس طرح پاکستان کے لئے فیصلے کئے وہ بے مثال ہیں، روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں پاکستان کی شمولیت، مشرقی پاکستان کو الگ کر دینا اور ان محب وطن پاکستانیوں کو وہیں دشمنوں کے نرغے میں چھوڑ دینا جو سخت وقت میں پاکستان کی وفاداری کا علم اٹھائے رہے اور ان کے بجائے لاکھوں افغانیوں کو پاکستان میں پناہ دینا جو نہ صرف اپنے ساتھ کلاشنکوف کلچر لے کر آئے بلکہ آج تک پاکستان کے خلاف کسی نہ کسی طور دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ جنہوں نے پاکستان سے زیادہ ہندوستان کی حمایت کی۔ پاک افغان باڈر پر متعدد ہندوستانی فوجی چیک پوسٹ قائم کی گئیں، ایک لامتناہی سلسلہ ہے غیر جمہوری انداز کا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کی کمزوریاں بھی شامل حال رہیں۔
پاکستان کا آئین ریاست کے تمام اداروں کے اختیارات اور فرائض تفصیل سے بیان کرتا ہے، انتہائی گمبھیر اور تقریباً مضحکہ خیز صورتحال نظر آتی ہے، جب ملک کا وزیر اعظم جس طرح ایک ادارے کے سربراہ کو جو آئینی طور پر اس کا ماتحت ہے کو اپنے آقا کے طور پر مخاطب کرتا ہے کیا یہ وزیر اعظم اپنے مرتبے سے آگاہ نہیں؟ انہی رویوں نے ایک ادارے کو اختیارات سے تجاوز کرنے کے راستے دکھائے ہیں۔ عدلیہ کے ہاتھ کیسے باندھ دیئے گئے ہیں اور عدلیہ بھی خود کیوں ایسی بے بس نظر آتی ہے، کیا اسلامی جمہوریہ میں بنے اسلامی اصولوں پر مبنی آئین اتنی اخلاقی جرات نہیں دیتا کہ بے خوف و خطر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ کیا کمزوریءکردار کا زہر ہر طرف سرائیت کر چکا ہے۔ یا مقننہ سے لے کر عدلیہ اور نام نہاد مقتدر ادارہ سب مفادات کے گرداب میں جکڑے جا چکے ہیں۔
موجودہ حکومت اب انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے آئین کی شقوں کا حوالہ دیتی نظر آرہی ہے، یہ وہ ہی آئین ہے جس کی دھجیاں اس اتحادی حکومت نے پچھلے پندرہ ماہ میں دل کھول کر اڑائی ہیں جس میں عدلیہ کی بے توقیری اور حقوق انسانی کی پامالی کی مثالیں قائم ہوئی ہیں۔ ظاہر تو یہ ہی کیا جارہا ہے اسمبلی کی تحلیل کے 60 یا 90 روز بعد نئے انتخابات کروادیئے جائیں گے۔ 90 یوم کی مہلت اس لئے حاصل کرنے کا ارادہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس دوران تحریک انصاف کو مکمل طور پر انتخابی میدان سے ہٹا دینے کی حکمت عملی کو عمی جامہ پہنا دیا جائے مگر ٹھیک اس وقت جب دونوں بڑی جماعتیں الیکشن کا نعرہ لگا رہی ہیں، ایم کیو ایم نے نئی مردم شماری کا نعرہ بلند کردیا ہے اور ایک دفعہ پھر یہ ثابت کردیا کہ ان کی باگ ڈور ان ہاتھں می ہے جو الیکشن کا انعقاد نہیں چاہتے تاکہ ان کی پسندیدہ نگراں حکومت کو دوام حاصل ہو سکے۔ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ اتحادی حکومت اور مقتدر ادارے کے مابین نگراں حکومت پر تنازعہ ہے۔ سیاست کی کمزوری ہی دیگر کو حوصلہ دیتی ہے جس طرح آج پورے پاکستان میں نہ صرف رہائشی اسکیموں سے لے کر دیگر کئی شعبوں کے ساتھ اب زراعتی میدان میں بھی اس ادارے کی شمولیت سامنے آرہی ہے، وہ پاکستانیوں کو یہ یقین دلانے میں کوئی کسر نہیں جانے دیتی کہ عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کی طرف سے کا نظریہ دفن ہو چکا ہے اور اب شاید شدید ترین ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پاکستان کے تمام فوجی افسران کے حلف نامے سے ان الفاظ کو حذف کرنے کا وقت بھی آگیا ہے کہ وہ کبھی کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
162











