Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پامالیِ دستور 338

طوفان الاقصیٰ

7 اکتوبر 2023ءکو فلسطینی اسلامی جماعت نے اسرائیل پر ایک بھرپور حملہ کرکے دنیا کو حیرت اور اچنبھے سے دوچار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک انتہائی منظم اور تاریخ ساز حملہ تھا جس میں بری، بحری اور زمینی تینوں راستے استعمال کئے گئے۔ حملے کے ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر ہی نہ صرف اسرائیل میں شدید تباہی مچائی گئی، تمام دفاعی نظام تباہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں یرغمالی بھی لے لئے گئے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس موساد جس کی صلاحیتوں کا اعتراف عالمی طور پر کیا جاتا ہے اس حملے کی نشاندہی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ نیتن یاہو کی حکومت اس ضمن میں ہر طرف سے اعتراضات کا شکار ہے۔ اس وقت اسرائیل کے سب سے بڑے حلیف امریکہ کو بھی ایک شدید دھچکا لگا ہے۔ جس کا اظہار امریکہ کی حکومت اور امریکی صدر جوبائیڈن اپنے بیانات میں مستقل کررہے ہیں۔ امریکہ نے اس وقت کھل کر اسرائیل سے مفاہمت کا اعلان کیا ہے اور ہر طرح کی امداد کی یقین دہانی کی ہے۔ صدر بائیڈن ویسے بھی اس وقت خود اپنے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر ہیں وہ اور کوئی راستہ اختیار بھی نہیں کر سکتے۔ یہ حملہ حماس نے ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیل اور سعودی عرب میں تعلقات میں ایک نئی جہت بنتی نظر آرہی تھی۔ امریکہ نے سعودی عرب پر دفاعی معاہدے کے عوض اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر زور دیا تھا جس کے قائم ہونے پر وہ حالیہ سفارتی پیش رفت جو ایران اور سعودی عرب کے مابین ہوئی اس میں تعطل کے امکانات ہوسکتے ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن نے اپنے ابتدائی بیانات میں ہی حماس کے اسرائیل پر حملے میں ایران کی معاونت کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان کرنے کے بعد کہ جنگ شروع ہو چکی ہے اور حماس کے اس حملے کا بھرپور طرح سے جواب دیا جائے گا۔ فلسطین کا وہ علاقہ یعنی غزہ کی پٹی پر جہاں حماس کا ٹھکانا ہے اندھا دھند بمباری کا آغاز کردیا گیا ہے۔
تحریک مزاحمت اسلامیہ حماس فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کہلاتی ہے اس کی بنیاد 1987ءمیں شیخ احمد یاسین نے رکھی۔ یہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کا مقصد مقبوضہ فلسطین سے اسرائیل کے انخلاءکے ساتھ ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ ہے جو ان علاقوں پر مشتمل ہو جس کا بیشتر حصہ 1948ءکے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں رہا ہے۔ حماس کے 2 دھڑے ہیں، ایک مذہبی اور سماجی خدمات انجام دیتا ہے جب کہ دوسرا دھڑا جو القسام بریگیڈ کہلاتا ہے اور مقبوضہ علاقوں یں مدافعانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ حماس کا تعلق ایران، شام اور لبنان کے حزب اللہ گروپ سے بھی مانا جاتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں اور اسرائیل میں امریکی پالیسیوں سے شدید اختلاف رکھتا ہے۔ حماس کو ترکی اور قطر کی بھی حمایت حاصل ہے۔ حماس نے بارہا عرب ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے کسی بھی طرح کے اسرائیل سے امن معاہدے فلسطین اور اسرائیل کے تنازعات کو ختم نہیں کرسکتے۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق تفویض نہیں کئے جائیں گے اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ حماس کے ابتدائی دنوں میں خود اسرائیلی حکومت نے اس کی مالی امداد کی تھی تاکہ اس وقت کی مقبول جماعت پی ایل او کو کمزور کیا جا سکے اس کی تردید حماس اور اسرائیلی حکومت کرتی رہی ہیں۔
1993ءمیں اوسلو میں پی ایل او کے صدر یاسر عرفات نے اسرائیل کے ساتھ قیام امن کا معاہدہ کرلیا تھا مگر حماس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ 2006ءمیں غزہ کی پٹی میں حماس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی اور وہیں اپنے ہیڈ کوارٹر کا تعین کیا اس وقت فلسطین دو علاقوں میں بٹا ہوا ہے ایک غرب اردن اور دوسرا غزہ۔ دونوں کے درمیان 45 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ عمومی طور پر غرب اردن یعنی عرف عام میں ویسٹ بینک کی حکومت فلسطینی تسلیم کی جاتی ہے۔ غرب اردن کے صدر محمود عباس ہیں جب کہ غزہ حماس کے زیر انتظام ہے۔ فلسطین میں 86 فیصد فلسطینی اور 14 فیصد اسرائیلی آباد ہیں۔ زیادہ تر یہ آبادی 80, 70 اور 90 کی دہائیوں میں قائم ہوئی مگر گزشتہ 20 سالوں میں اس میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
سلطنت عثمانیہ کے آخری سالوں میں یورپ اور روس کے یہودی آبادی نے عیسائیوں کے مظالم سے تنگ آکر نقل مکانی شروع کی۔ یہودیوں کی ایک بڑی تعداد نے امریکہ، انگلستان اور فلسطین کا رخ کیا۔ صیہونیت کی تحریک کا آغاز اسی زمانے میں ہوا جس کا نظریہ یہودیوں کے لئے ایک آزاد مملکت قائم کرنا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب فسلطین کے علاقہ پر برطانیہ کا قبضہ ہوا تو 1917ءمیں برطانیہ نے Balfour Declaration کے تحت فلسطین میں یہودیوں کی آزاد ریاست کا اعلان کیا۔ اس کے نتیجے میں جب عربوں اور یہودیوں میں میں تنازعات میں زیادتی آئی تو برطانیہ نے اس علاقے سے نکل جانے کا ارادہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ یہودیوں کی اکثریت رکھنے والے علاقے اسرائیل ہو جائیں اور مشرقی علاقہ مسلمانوں کے پاس رہے۔ برطانیہ کے انخلاءکے بعد 1948ءمیں یہودیوں نے باقاعدہ طور پر اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ اور اس کے بعد دونوں آبادیوں کے مابین جھڑپوں اور تنازعات میں شدت آگئی۔ 1967ءمیں عرب اسرائیل جنگ کے بعد پورے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا۔ اسرائیل پورے بیت المقدس کے علاقے کو اپنا دارالخلافہ مانتا ہے جب کہ فلسطینی مشرقی بین القمدس کو اپنے دارالحکومت سے تعبیر کرتے ہیں۔
غزہ کی پٹی کا شمار دنیا کے سب سے گنجان علاقوں میں ہوتا ہے اسرائیل کی جانب سے اس کی سرحدوں کی سخت ترین نگرانی کی وجہ سے اس کا اپنے ہمسائیوں سے رابطہ منقطع رہتا ہے اور یہ علاقہ شدید زبوں حالی کا شکار رہتا ہے۔ اسرائیل نے اس علاقہ کی آبادی پر پچھلے 75 سالوں میں انتہائی سختیاں روا رکھی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں اسرائیلوں کی جانب سے فلسطینیوں پر کئے گئے تشدد کی بے شمار کہانیاں رقم ہیں۔ حماس کا اسرائیل پر حالیہ حملہ انہی پرتشدد کارروائیوں اور فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخلی کے خلاف احتجاج کے طور پر گردانا جارہا ہے۔ پوری دنیا سے فلسطینی اپنی زمین پر واپس آنا چاہتے ہیں جس کا حل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے جس طرح غزہ پر بے دریغ بمباری کرکے وہاں کی نہتی آبادی کو تباہ کیا ہے وہ جنگی قوانین کے خلاف بھی وزن رکھتی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملہ کے اباد تمام مغربی ممالک اور امریکہ نے جس طرح حقوق انسانی کی پامالی کا ہنگامہ کیا تھا اور اسے عالمی جنگی قوانین سے انحراف سے تعبیر کیا گیا تھا اس وقت وہ طاقتیں فلسطینیوں کے معاملہ میں تذبذب کا شکار نظر آتی ہیں۔ اسرائیل کی جارحانہ اور تمام بنیادی ضروریات زندگی پر پابندی لگانے کی جارحانہ پالیسی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے۔ پوری دنیا میں اس کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے مگر مذہبی حکومتیں بشمول امریکہ صرف اسرائیل کے دفاع میں بیان دینے میں مصروف ہیں۔ اسرائیل کی غزہ کو محصور کردینے کے خلاف عالمی امدادی ادارے مستقل احتجاج کررہے ہیں اور استدعا کررہے ہیںکہ وہاں کے ساکنان پر ضروریات زندگی بند کردینا انسانیت اور عالمی جنگی قوانین کے برعکس ہے۔ سیکیورٹی کونسل کا پہلا اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگیا۔ 16 اکتوبر کو بھی ہونے والا اجلاس جس میں روس کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز بھی ممبران کی مکمل حمایت حاصل نہ کرسکی۔ پچھلے کئی دہائیوں سے امریکی سیاست میں کئی حلقوں کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی 3.3 بلین ڈالر کی امداد میں کٹوتی اور فلسطین کے مساوی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس حالیہ صورت حال کے تناظر میں اب اس خطے کے مسائل کے لئے حل کے لئے غور و فکر پر امریکی حکومت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن نے اس حملہ کے فوراً بعد اسرائیل کے حق میں کئی مضبوط بیان دینے کے بعد عالمی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا اور یہ امریکی حکومت یہ سوچنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے کہ فی الوقت امریکہ کلی طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتھونی بلنکن نے مشرق وسطیٰ کے دورے اور ملاقاتیں شروع کی ہیں مگر تاحال کسی بھی طرف کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ امریکہ بادل ناخواستہ چین سے بھی درخواست کر چکا ہے کہ وہ اس صورت حال کی پیچیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔
اگر حالات ایسے ہی رہے اور وہ طاقتیں جو اسرائیل کی بربریت کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اس کے حق دفاع کی حوصلہ افزائی کا بہانہ کرتے ہوئے عالمی طور پر یہ بیان دیتی رہیں گیں کہ فلسطین کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر تمام جائز مراعات بند کردی جائیں۔ اس جنگ میں دونوں طرف معصوم شہری کثیر تعداد میں ختم ہوئے ہیں۔ عرب ممالک کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کے اشارے دیئے جارہے ہیں مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں طرف کے حلیف اس بھیانک صورت حال کا ادراک کریں ورنہ یہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے اور اس کا حدود اربعہ میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں