Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
پاکستانی حکمران اور جادو ٹونا 180

لمز کے مجرم بچے

آپ دیر سے کیوں آئے؟ آپ کی ترجیحات ملکی اقتصادیات ہیں یا طلبا و طالبات ؟ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سےلمز کے طلبا و طالبات کے ایسے ہی کچھ چبھتے ہوئے سوالات نے ملکی بیانئیے میں پولرائیزیشن کی ایک اور نئی تصویر اجاگر کر دی۔
تعلیمی ادارہ پاکستان کا لمز ہو پنجاب یا کراچی یونیورسٹی ہو یا پھر برطانیہ کا آکسفورڈ، یہ قطعی اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہاں سے اعلیٰ ترین دماغ ہی پرورش پارہے ہیں یا بالکل ہی نکھٹو یا ڈفر!
ذولفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، عمران خان اور بلاول چند ایسی مثالیں ہیں جو ان دونوں طرح کے معیار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ گنے کی مشین میں سوکھا گنا ڈالنے سے جوس میٹھا نہیں نکلے تو اس میں مشین کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔
انگریزی میں کہتے ہیں گاربیج اندر جائے گا تو گاربیج باہر آئے گا۔جن تعلیمی اداروں کا یہاں ذکر ہوا ہے وہاں سے دنیا کے بہترین دماغ تیار ہو کر مختلف شعبہ زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ آج بھی انہیں اداروں کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات نے پاکستان بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔
جن بچوں نے نگراں وزیر اعظم سے سوالات کئے وہ تجسس، کمفیوڑن اور قومی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سمت کا تعین کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کی سوچ ابھی پختگی کی راہ پہ گامزن ہے اور دماغ ان گنت سوالوں سے بھرا پڑا ہے۔
دوسری جانب نگراں وزیر اعظم انوار الحق بھی ایک قابل اور علمی بائیو ڈیٹا رکھتے ہیں اور انہوں نے بھی بچوں کو تسلی بخش جوابات انتہائی تحمل کے ساتھ دئیے۔
ہمارے زمانے میں تعلیمی اداروں میں اس طرح کا مکالمہ ایک عام سی بات رہی ہے اور باقائدہ مباحثے بھی اختلافِ رائے کے ساتھ ایک دوسرے کے موقف کو خندہ پیشانی سے سن کر باہمی احترام کے ساتھ ایک معمول کا عمل ہوا کرتا تھا۔ یہی کچھ اس دن لمز میں ہوا جس کو سیاسی مداریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا۔ ملک میں اس وقت نہ تو مریم کے پاپا کی حکومت ہے نہ ہی قاسم کے ابا کی۔ ایک عبوری نگراں حکومت ملک میں نئے انتخابات تک مقرر کی گئی ہے اور اس کا فوکس اگلے الیکشنز اور امور ریاست کو درمیانی وقفے میں چلانے کے لئے ہونا چاہئے۔
نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ جس طرح کا ایڈونچرازم کر رہے ہیں اس سے تو یوں لگتا ہے گویا وہ مستقل سیاسی وزیراعظم ہیں اور جیسا کہ ایک طالبہ نے سوال بھی کیا کہ ملک کی گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال میں آپ یہاں کیا کررہے ہیں بالکل جائز اور برموقع سوال ہے۔
ایک طالبہ کا یہ سوال بذاتِ خود ایک سوال ہے میڈیا کے لاکھوں کروڑوں میں تنخواہ لینے والے سینیئر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور نام نہاد دانشوروں سے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں اور ان کا کام اسکول کالج کے بچے کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں کہ یہی نسل آگے چل کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالے گی اور پھر جب ہم پیچھے مڑ کر اپنی قلمی ذمہ داریوں کو پرکھیں گی تو سوائے شرمندگی اور پچھتاوے کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔
تاریخ کا یہ سبق آج لمز کے مجرم بچے سکھا گئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری نسل اس سے کوئی سبق سیکھے گی یا نہیں؟
حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو
سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں