کیا فرح گوگی اور بشری خاور مانیکا عرف پنکی عرف پیرنی بی بی تاریخ کی پہلی خواتین ہیں جن پر یہ الزام ہے کہ وہ ریاست کے امور چلانے کا اختیار رکھتی تھیں یا جنرل رانی سے لے کر یہ کردار بار بار کہانی میں اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ گر رہا ہے۔
مجید نظامی صاحب نے اپنی ایک پوسٹ میں کیا خوب کہا ہے کہ ”پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” تین مختلف لوگوں نے اپنے اپنے ناموں سے شائع کی۔ ان سب میں عمران خان کا تذکرہ بھی ہے۔ “رنگیلا خاندان” شریف برادران پر، بھٹوز پر انگریزی میں لکھا گیا۔ “پارلیمانی مجرے” بھی شائع ہوئی۔ سب سیاسی مخالفین انہی میں سے مواد نکال کر ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں“
یعنی تاریخ کے حوالوں سے لے کر آج کی سیاسی بساط تک کچھ نہیں بدلا۔ بس ایک دوسرے سے بدلے کے لئے قبر کھود کر گڑا ہوا مردہ نکالا جاتا ہے اور جس کی گڈی کٹ چکی ہوتی ہے اس پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ یہی کچھ خاور مانیکا نے شاہ زیب کو اپنے انٹرویو میں فراہم کیا۔
ا±دھر دوسری جانب ایک اور مشرف بہ عمران صحافی ملیحہ ہاشمی جن سے میں کبھی متفق نہیں رہا اور اکثر بین الاقوامی ٹی وی ٹاکروں میں ہماری شدید بحث رہی ہے وہ بھی اپنی ایک ٹوئیٹ میں کچھ یوں فرماتی ہیں کہ ”سوشل میڈیا پر عوام نے بہت زبردست سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا عمران خان کی شادی اور طلاق پر ڈگری حاصل کرنے والے میڈیا چینلز کی کبھی شہباز شریف کی شادیوں کے ٹریک ریکارڈ پر بھی سوال کرنے کی جرات ہوئی ہے؟ اب چونکہ سیاسی رہنمائوں کی شادی ایک بہت اہم مسئلہ بنا دیا گیا ہے تو باقی سیاستدانوں کی اعلٰی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ کیا ذاتی زندگی کو سیاست میں رگیدنے کی غلاظت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے“
یہاں پر مجھے ان سے اتفاق کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ سیاسی ہوا جن کے موافق چل رہی ہے ان کے لئے عدالتیں قبلہ اول و دوئم بن جاتی ہیں اور ان کے پاپ دھلا دئے جاتے ہیں اور جن کے مخالف تندئی بادِ صبا ہو تو ان کے افسانے لکھنے والے نورتنوں کی لائن لگا دی جاتی ہے۔
مجھے اپنے دوست شفاعت علی کی یہ بات سب سے زیادہ پسند آئی کہ ”خاور اور پنکی کی ساری کہانی میں پیر اور مرید کا خوبصورت رشتہ اتنا بدنام ہو گیا ہے کہ اب مرید، روحانیت، پیر، مرشد کے الفاظ مذاق بن گئے ہیں۔ نہایت افسوس ہے“
اچھا کیچڑ اچھالنے کا یہ سلسلہ یکطرفہ نہیں بلکہ جسے جہاں موقع مل رہا ہے وہ ایک دوسرے کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اب چاہے وہ ملک میں بیٹھے ہوں یا بیرون ملک۔ ان کے الفاظ اور بیانات سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جہاں گلی محلے والی بدزبانی کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کی تربیت اور پرورش کے علاوہ یار دوستوں کی صحبت کے آثار شروع ہوتے ہیں۔
مجھے اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ کچھ لوگ کس قدر گھٹیا کردار کے مالک ہیں بلکہ مجھے تو یہ افسوس ہورہا ہے کہ انہیں اسی بازاری و پست سوچ کے ساتھ پاکستان کے ایک وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی قربت حاصل تھی۔ کیا خوب قہقہے لگتے ہوں گے جب مل بیٹھتے ہوں گے دیوانے دو !!
کیا میڈیا اور کیا سوشل میڈیا سب نے ہی حد پار کر رکھی ہے۔ جو بات حجرے سے شروع ہوئی تھی وہ حجلہءعروسی تک جا پہنچی ہے۔ اب تو میڈیا والے بیڈ رومز میں داخل ہوچکے ہیں۔شاید وہ بھول گئے ہیں کہ کبھی تو ان کی بھی باری آئیگی۔ مکافات عمل کسی کا ہمدرد نہیں اور ایک دن اس کے وار کی زد میں سبھی کے حجرے آئیں گے۔
اپنے اپنے دائرے میں دیکھ لو
حسبِ طاقت ہر کوئی فرعون ہے
خاور مانیکا کے انٹرویو کے بعد ایک سابقہ پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا ایکسپرٹ کچھ یوں گریہ زار ہیں کہ ”بات طلاق کی نہیں، بات عدت کے دوران نکاح کی بھی نہیں، بات گھر توڑنے کی بھی نہیں، بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمیں ریاست مدینہ کا خواب دکھا کر ساری حکومت فرح گوگی، احسن گجر، بزدار اور مانیکا خاندان کے حوالے کر دی گئی۔ اس کچرے کو جمع کرکے ہمیں جھوٹی امید دکھانا آپ کا اصلی گناہ ہے“
اب ان کا شکوہ بھی بجا ہے جس کی گونج میاں نواز شریف کے ان الفاظ میں سنائی دیتی ہے کہ ”جو باتیں سننے میں آئی ہیں تو میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد ریاستِ مدینہ کا نام لینا چاہئے تھا“ یعنی کرتوت تو شیطان والے اور باتیں فرشتوں جیسی۔
ویسے مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ”مانیکا کی ڈائری سے“ نکالے گئے شاہ زیب والے انٹرویو سے حاصل کیا ہوگا؟ ایسے کردار کش نجی و ذاتی نوعیت کے انٹرویو کے بعد حدف تو ووٹ بینک توڑنا ہوتا ہے۔ لیکن خاور مانیکا کے انٹرویو کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کلٹ نما اس قوم پہ کوئی اثر پڑنے والا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ہمارا اصل المیہ ہی یہ ہے بقول شاعر۔
یہ لوگ پائوں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ھے
ادھر جوں جوں انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں وہیں آڈیو وڈیو لیک اور جبری انٹرویوز و پریس کانفرنس کا موسم بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لیکن اس تمام ہڑا ہڑی میں سرکاری درزی بھی پریشان ہے کہ شیروانی کس کے ناپ کی بنانی ہوگی۔
اسلام آباد کے ضلع وسطی میں واقع دفاتر سے چڑیا کی سن گن کے مطابق جن کی جانب لوگوں کا قیاس ہے، کم از کم ان کے سائز کی تو نہیں بن رہی۔ویسے بھی پلیٹ لیٹس کے اتار چڑہاو¿ کے باعث ناپ لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ حالات بہت نازک ہیں۔ یہ 2018ء سے بہت مختلف سچوویشن بن گئی ہے۔ پلیٹ میں رکھ کر کسی کو کچھ نہیں مل رہا۔
ملک میں جاری اس طوفانی کردار کشی کی کوششوں کے بجائے کیا ہی بہتر ہوتا کہ جمہوری اقدار کے مطابق اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی منشور کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی جاتی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی سہولیات فراہم کرکے ایک بار عوام کو اختیار دیا جاتا کہ وہ اپنی مرضی کے نمائندے چنیں اور انہیں حکومت بنانے دی جائے۔
یہی وہ اصل پیمانہ ہے جو طے کرتا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ و اداروں کی سہولت کاری کے بنا کون اصل دعوے دار ہے اور کون فاتح ٹہرتا ہے۔ ہمیں لوگوں کے دل کی آواز سننی ہوگی۔
سعادت حسن منٹو کے یہ الفاظ یاد آگئے کہ ”پبلک ایسی فلمیں چاہتی ہے جن کا تعلق براہ راست ان کے دل سے ہو۔ جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں“
خدارا ایک بار ملک پھر کسی ”مانیکا کی ڈائری سے“ والی داستان کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینِ پاکستان میں درج اصولوں پر چلا کر دیکھا جائے تو قوی امید ہے کہ نتائج خاطر خواہ اور اطمینان بخش دکھائی دینا شروع ہوجائیں گے بس زاویہ نگاہ بدل کر پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ 75 سال سے یہ وطن پکار پکار کر فریاد کررہا ہے کہ۔
ممکن ہے کچھ پہلو مثبت نکلیں
تم زاویہ بدل کر دیکھو مجھ کو
159











