حکومت کی جانب سے 8 فروری 2024ءکو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے مگر ہر شخص کے ذہن میں اس حوالہ سے خدشات ہیں۔ عوام الناس میں یہ بحث عام ہے کہ اگر انتخابات ہو بھی گئے تو ملک موجودہ معاشی گرداب سے باہر نکل پائے گا؟ اس بات سے بحث نہیں کہ حکومت کون بنائے گا مگر خدشات یہ ہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو ٹھیک کیونکر کیا جا سکے گا۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضہ لئے گئے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کو ناگزیر قرار تو دیا ہے مگر ان کے اپنے عزائم ہیں۔ ملک میں طاقتور حلقہ امریکہ اور چین کے درمیان سینڈوچ بنتے نظر آرہے ہیں۔ چین کو پاکستان میں کی گئی اپنی انویسٹمنٹ کی فکر ہے تو امریکہ کو پاکستان ہر صورت عزیز ہے۔ پاکستان سے افغانیوں کے انخلاءکے اعلان کے بعد ملک ایک آتش فشاں کے اوپر بیٹھا نظر آرہا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں عدم اعتماد کی فضا ہے اور ہر جماعت عدلیہ، فوج اور بیوروکریسی پر اعتماد کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ آصف علی زرداری بھی نواز شریف کی واپسی اور فوج کے کردار پر سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے دھڑوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے اگر وہ مسلم لیگ نواز سے اتحاد کرتے ہیں تو بھی حالات بہتری کی جانب جاتے دکھائی نہیں دیتے اور پیپلزپارٹی سے اتحاد فوج کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اس بار طاقت ور حلقہ بھی فیصلے کرنے میں خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ امریکہ پر اعتماد کرنا، ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال بھی پیدا کرسکتا ہے یوں پاکستان کے طاقت ور حلقوں نے خود کو بند گلی میں داخل کرلیا ہے۔ فوج آٹھویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے ایسا کرنے کی صورت میں صوبوں اور طاقت ور حلقوں میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔ یوں الیکشن مسائل کا حل کرتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ اگر الیکشن ہوئے تو نئے پینڈورا بکس کھلنے کا امکان ہے۔ پنجاب کی بالادستی کی اس کوشش کو دیگر صوبہ اور سیاسی جماعتیں تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ 8 فروری کے الیکشن کے اعلان سے کوئی خوش دکھائی نہیں دیتا بلکہ انجانے خوف کا شکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ اگلے کئی سالوں تک برقرار رہے گا یا پھر اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح جھرلو الیکشن کروا کر آئندہ حکومتی سیٹ اپ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں؟
336












