Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
ایران پر حملہ یا تیسری عالمی جنگ! 133

فیصلہ کن جنگ

اس وقت جو جنگ حسب روایت پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اسے دشمن ایک فیصلہ کن جنگ کا نام دے رہے ہیں بظاہر یہ جنگ پاکستان کے روایتی دشمن پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے شروع کی گئی ہے مگر اطلاع یہ بھی ملی ہے کہ یہ فیصلہ کن جنگ ایک ٹرائیکا کی جانب سے پاکستان پر مسلط کروائی گئی ہے اور یہ جنگ کسی فوری اشتعال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خاص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اس سارے فسانے میں اس ساری سازش کی ابتداءیا پھر شروعات عمران خان کے حکومت کا تختہ الٹانے سے کردی گئی تھی جس کا مقصد اسٹیبلشمنٹ سیکیورٹی فورسز اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا تھا ان میں اتنی زیادہ نفرت بڑھانا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بدترین دشمن بن جائے جب دشمن اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تو پھر اس کے بعد موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسے وقت میں پاکستان پر حملہ کردیا جب واقعی لوہا گرم تھا، صرف ضرب لگانے کی دیر باقی تھی کیونکہ پاکستانی عوام کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ جیل میں ہے، لوگوں کو حکومت پر زبردست غم و غصہ ہے ایسے موقع پر لوگوں کو اکھٹا کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن اس کے باوجود جنگ کے چھڑتے ہی قومی ملی نغموں کی گونج پر یقیناً ملکی عوام کا دشمن کے خلاف یک زبان ہو کر ایک ہنا ایک فطری امر ہے۔
اس کے ساتھ جس طرح کا غیر متوقع ردعمل یا پھر جوابی وار پاکستانی فوج کی جانب سے جب سامنے آیا تو اس سے حملہ آوروں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ حیران و پریشان ہو گئے وہ جسے تر نوالا سمجھ کر حملہ آور ہوئے تھے وہ تو ان کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ دشمن بہت چالاک مکار اور عیار ہے وہ یہ جنگ اپنی بہادری اور دلیری کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی چالاکی اور مکاری سے جیتنا چاہتا ہے کیونکہ بہادری تو ان میں سرے سے ہے ہی نہیں۔۔۔۔
وہ یہ جنگ میر جعفر و میر صادقوں کے ذریعے جیتنے کی پوری منصوبہ بندی کرچکے تھے۔ دشمن اس جنگ کو ایک فیصلہ کن جنگ کا نام کیوں دے رہے ہیں۔۔۔؟ اور اس ٹرائیکا میں کون شامل ہیں۔۔۔؟ دشمنوں کی جانب سے اس حملے یا پھر جنگ کو فیصلہ کن کہنے کا مطلب پاکستان کو اسطاقت سے اس قوت سے محروم کرنا ہے جو دوسرے 57 اسلامی ملکوں سے پاکستان کو منفرد بناتی ہے یعنی پاکستان کو ایٹمی اثاثے سے محروم کرنا۔ ان کے ایٹمی ہتھیاروں کو ناکارہ بنانا۔ اس مقصد کے لئے ٹرائیکا نے پاکستان پر یہ جنگ مسلط کروائی ہے۔
پاکستان میں فارم 47 کے تحت ایک جعلی کٹھ پتلی حکومت کا لانا بھی اسی سلسلے کی کڑی بتلائی جاتی ہے، دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہلی میں امریکی اور اسرائیلی طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ بہت کچھ اشارے دے رہی ہے اب پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں اور خود پاکستان کی سلامتی کا پورا انحصار یا پھر دارومدار پاکستانی فوج پر ہے کہ وہ ملک پر آئی اس بلا سے ملک کو کس طرح سے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ پورے ملک میں سیاسی افراتفری کو روکنے یا پھر اس کے خاتمے کے لئے مزاحمتی پالیسی کی بجائے مفاہمتی پالیسی کو اپنائے اور فوری طور پر عمران خان کو رہا کرے۔ اس وقت پاکستان کو ایک قد آور لیڈر کی ضرورت ہے جو اس صورتحال کی اونرشپ لے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس کے جنگی جرم سے دنیا کو آگاہ کرے کہ کون ہے جو تیسری عالمی ایٹمی جنگ کو دعوت دے رہا ہے۔۔۔؟ کون ہے جو پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کررہا ہے اس کے لئے عمران خان کی اشد ضرورت ہے۔ تمام سیاسی اختلافات کو بھلاتے ہوئے ان کی خداداد صلاحیتوں سے اس وقت پاکستان کو مستفیض کروانے کی ضرورت ہے اسی میں پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں