جمہوریت اور فیلڈ مارشل یہ مذاق پاکستان جیسے ملک میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ مغرب یا پھر کسی مہذب معاشرے یا جہاں کہیں بھی قانون کی حکمرانی کا شائبہ بھی ہو وہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ہر طرح کے تجربے کئے جا سکتے ہیں اس کی کھلی چھٹی ہر کسی کو حاصل ہے کیونکہ اس بدقسمت ملک کا کوئی والی وارث نہیں جس میں والی وارث ہونے کے تھوڑے بہت بھی آثار کسی کو نظر آجائے تو پھر اسے اپنے عوام سے دور کرکے اسے دور تاریک راہ کا مسافر بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ہی اس بدنصیب پاکستان کا المیہ ہے۔ یہ ابتداءسے ہی ایک چھاﺅنی تھی اور آج تک چھاﺅنی والے طور طریقے ہی یہاں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اب 6 اور 7 مئی کو جو کچھ ہوا اس کا اصل علم پاکستانی عوام کو کم اور باقی دنیا کو کچھ زیادہ ہے۔ پاکستانی عوام اتنا سچ جانتی ہے جتنا انہیں ان کی کنٹرولڈ میڈیا دکھاتی ہے کس طرح یہ فکسڈ میچ ایک سرپرائز میچ میں تبدیل ہوا اس کا علم بھی بڑے کھلاڑیوں کو تھا اس پورے گیم کے اندر بھی ایک گیم چل رہا تھا اور اس گیم کے نتائج کی صورت میں بڑے لوگ جو کچھ معلوم کرنا چاہتے تھے وہ سب کچھ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان میں توکرے کوئی بھرے کوئی کے مصداق فیلڈ مارشل کا اعلان بھی کردیا گیا ہے، منادی کرادی گئی ہے، مٹھائیاں کھانے اور کھلانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے، مگر گزشتہ روز چینی سفیر خاص طور سے اس جنگ کے اصل ہیرو ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے پاس ایئرفورس ہیڈ کوارٹر گئے اور ان کی بہادری اور جرات کی غیر معمولی تعریف کی جب کہ پاکستانی کابینہ نے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کی سفارش کی حالانکہ جنگ کے اصل ہیرو تو بابر سدھو کو جان بوجھ کر نظر انداز کرکے کابینہ سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت فراہم کرکے اس پوری پارلیمنٹ اور حکومت کے دو نمبر ہونے کی ایک طرح سے تصدیق کرلی حالانکہ سب کے علم میں ہے کہ یہ سب ہارے ہوئے سیاستدانوں کو فارم 47 کے ذریعے دونمبری کرکے جتوایا گیا اور اس کے بعد یہ جعلی حکومت وجود میں لائی گئی پھر اس طرح کی دو نمبر کابینہ سے اسی طرح کی سفارشات کی ہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ جس طرح کی سفارش اس کابینہ نے کی ہے۔ بات ہو رہی تھی اس جنگ کا جس کا ڈول بہت زیادہ پیٹا جارہا ہے اور اس جنگ کی کامیابی کی ندا ملک کے عوام پر فیلڈ مارشل کی لعنت مسلط کروا کر انہیں مزید دس پندرہ سالوں تک غلام رکھے جانے کی شکل میں دینے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ یہ جنگ ایک فکس میچ تھا ایک پہلوان کے ہاتھ باندھ کے دوسرے کو اس سے کشتی لڑنے کے لئے اکھاڑے میں اتار دیا گیا تھا لیکن ایسا کرنے والوں کو یہ اندازہ تھا کہ یہ میچ فکس نہیں رہ سکتا اس لئے کے جنگ زین پر نہیں فضاﺅں میں لڑی جائے گی اور ہر ایک کی کمانڈ کسی ایک کے پاس نہیں ہے یہ ہی معلوم کیا جارہا تھا کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ کوئی ایک ہی ہے یا پھر ایک سے زیادہ۔۔۔۔
اس کا جواب معلوم کرنے والوں کو اس جنگ کے نتیجے کی صورت میں مل گیا اگر واقعی کمانڈ کسی ایک کے ہاتھ میں ہوتی تو رافیل طیارہ کبھی بھی نہ گرایا جاتا اور نہ ہی رافیل طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنی کا بینڈ باجا بجتا اور نہ ہی ساری دنیا میں چائنیز ٹیکنالوجی کے چرچے اور ان کی دہشت ہوتی اسی کا شکریہ ادا کرنے تو چینی سفیر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے پاس ان کے ہیڈ کوارٹر گئے اور اپنی حکومت کی جانب سے ان کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا اور انہیں اس جنگ کا اصل ہیرو قرار دیا۔ خود امریکی حکومت اور رافیل بنانے والی فرانسیسی حکومت کے علاہ بھارت کو بھی اصلیت کا علم ہے کہ انہیں چھرا گھونپنے والا کوئی اور نہیں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو ہی ہیں لیکن پاکستان میں اس بہادری کی تاج پوشی کسی اور کو کی جارہی ہے اور فیلڈ مارشل کسی اور کو بنایا جارہا ہے۔ اس طرح سے اس جنگ اور اس کے نتائج کو بھارت سے زیادہ پاکستانی عوام اور یہاں کی جمہوریت کے لئے عذاب بنایا جارہا ہے۔ اللہ پاکستانی سیاستدانوں کو خود اپنے ہاتھوں اپنی قبریں کھدوانے سے دور رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ اس میں ہی پاکستان کی سلامتی مضمر ہے۔
174












