گزشتہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں پیدا ہونے والے بنگالی اور افغان باشندوں کے بچوں کو پاکستانی شہریت دینے کے اعلان کے ساتھ ہی ایک بحث چھڑ گئی تھی جسے شاید دیگر سیاسی اتار چڑھاو¿ کے مقابلے میں کم اہمیت ہونے کی وجہ سے خبروں میں زیادہ جگہ نہ مل سکی۔ ا صولاً برسہا برس سے پاکستان میں رہنے والے لوگوں اور پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستانی شہریت حاصل ہونا چاہیے جیسا کہ مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔تو جناب! جو چیز ہم پاکستانی چاہتے ہیں کہ سعودی بادشاہت میں رہنے والے اور ا±ن کے پیدا ہونے والے بچوں کو حاصل ہو وہ پاکستان میں برسہا برس رہنے والے اور ا±ن کے یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو کیوں نہ حاصل ہو؟ آپ پسند کریں نہ کریں لیکن پاکستان کا شہریت ایکٹ 1951 پاکستان میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کو پاکستانی شہریت دینے کا کہتا ہے: ” 1951 کا یہ ایکٹ وہ بنیادی قانون ہے جو پاکستان میں شہریت کے معاملات کو منظم کرتا ہے۔اس ایکٹ کا سیکشن 4 ‘ ‘جائے پیدائش سے شہریت” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت پاکستان میں پیدا ہونے والا شخص پیدائشی طور پر پاکستانی شہری کہلاتا ہے “۔ گویا یہ پیدا ہونے والے بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اس طرح تو پھر مشرقی پاکستان میں رہ جانے والے غیر بنگالی بھی پاکستان میں کبھی کھپائے نہیں جا سکیں گے۔ جب کہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے یہ پاکستان کے ہی شہری تھے اب تو ا±ن کی بھی یہ تیسری نسل ہو گی جو بے وطن ہے۔ذر ا یہ تو بتایئے کہ ہر ایک دور میں پاکستان کے خاص و عام اپنے اور اپنے بچوں کے لئے مغربی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کی جستجو میں کیوں رہتے ہیں؟ عرب ممالک تو غیر ملکیوں کو اپنے نام پر پراپرٹی نہیں لینے دیتے نہ آپ بغیر کسی مقامی عرب کے اپنے نام پر کاروبار ہی کر سکتے ہیں۔کینیڈا، آسٹریلیا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ میں لوگ اِسی لئے جاتے ہیں کہ وہاں پر سعودی بادشاہت جیسا قانون نہیں۔ آپ کے اپنے قریبی عزیزوں میں سے کتنے ہی ایسے ہوں گے جو پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن نقلِ مکانی کر کے ان ممالک میں منتقل ہو گئے۔ پھر ا±ن کے بچے بھی وہیں پیدا ہوئے۔ عرب ممالک کے بر خلاف وہاں ان کو قانون کے مطابق شہریت بھی حاصل ہو گئی اور پاکستانی شہریت بھی برقرار رکھی۔ اِن کی سہولت کی خاطر نادرا نے بھی انگریزی میں اِن کے خصوصی سمندر پار شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں جن سے یہ پاکستان میں بلا ویزہ آ جا سکتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل تک تو مکمل اندھیر نگری مچی ہوئی تھی۔اکثر پاکستانی سینیٹر، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، ضلع و تحصیل کونسلوں کے چیئرمین حتیٰ کہ کونسلر تک بھی دہری شہریت کے حامل تھے۔ وہ تو بھلا ہو الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالتِ عالیہ کا کہ اب اللہ اللہ کر کے اِس احساسِ برتری سے جان چھوٹی ہے کہ ” ہم تو فلاں ملک کے شہری ہیں “۔ آج کے سیاستدان کل کے وزیرِ اعلیٰ اور ملک کے وزیرِ اعظم ہوتے ہیں۔ بہت اچھا کیا جو حکم لگایا کہ د ہری شہر یت رکھنے والا انتخابات کے لئے نا اہل قرار پائے گا۔کیا ہی اچھا ہو جو یہ حکم نوکر شاہی پر بھی لاگو ہو! کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کو شہریت دینے کا فیصلہ آئین اور قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اورتمام پارلیمانی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر بحث کے بعد کیا جائے۔یہ بھی ایک ہی رہی! جب آپ کو اپنا یا اپنے پیٹی بھائیوں کا مفاد عزیز ہو تو اسمبلی سے قانون میں ردو بدل کرو ا لو۔ جہاں آپ کے مفادات پر ضرب لگنے والی ہو یا جِس سے آپ کی چودھراہٹ متاثر ہو نے والی ہو تو وہ قانون بھلا آپ اسمبلی میں کیوں بنانے لگے……جیسے نفاذِ ا±ردو اور ا±ردو میں وفاقی اور صوبائی سول سروس کے تحریری اور زبانی امتحانات وغیرہ۔ا گر اسمبلی میں آنے کا مقصد قانون سازی کرنا ہے تو وہ آج تک نفااذِ اردو کے لئے کتنی کی گئی؟ موجودہ حکومت، پچھلی حکومت اور ا±س سے پچھلی حکومت نے اس میدان میں کیا تیر چلا لئے؟ ہاں البتہ ہر دور میں وقتاً فو قتاً ممبرانِ اسمبلی ” مہنگائی “ کا رونا روتے ہوئے اپنی تنخواہیں اور سہولیا ت ضرور بڑھواتے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب 1951 کاایکٹ پاکستان میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کو پاکستانی شہریت دیتا ہے تو وزیر ہو یا مشیر ا±س کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کو متنازعہ بنائے؟ منافقت کی حد ہے! افغان مہاجرین کی شادیاں پاکستان میں ہوئیں، بچے یہیں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لیے انہیں نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ 2024 میں بھی ایک تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں پیدائش اور طویل قیام کی بنیاد پر درخواست گزار نیچرلائزیشن ایکٹ کے تحت سرٹیفکیٹ کے حق دار ہیں۔ وفاق نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں افغان شہری کو پاکستانی خاتون سے شادی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے یکم دسمبر 2023 کے فیصلے کو معطل کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی مرد افغان شہری پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) اور شہریت دی جائے، تاہم حکومت کو شہریت دینے والے حصے پر اعتراض ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں کتنے ہی ہم وطن قانونی حیثیت حاصل کر کے کامیابی حاصل کرتے رہے اور ایمانداری سے ٹیکس بھی دیتے رہے لیکن اب جب انہیں بھی نکالا جا رہا ہے تو پاکستان میں شور مچ گیا۔ آپ کی اس بات پر ناراضگی بجا کہ سعودی بادشاہت اور دیگر عرب ممالک پاکستانی، تمام غیر ملکی اور ا±ن کے وہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت نہیں دیتے۔ یہ اگر نا انصافی ہے تو آپ کس منہ سے یہ کہنے کی جسارت کر تے ہیں کہ پاکستان میں ایک عرصہ رہنے والے مہاجرین اور ا±ن کے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستانی شہریت نہیں ملنا چاہیے!! کیا یہ منافقت نہیں؟
142













