Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
تیسری عالمی جنگ کی دستک! 45

پاکستان مشکل میں کیوں؟

یمن کا تازہ ترین واقعہ ہو یا پھر حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ۔۔۔۔ ان دونوں حساس ترین ایشوز نے پاکستانی حکمرانوں کو ایک طرح سے بند گلی میں دھکیل دیا ہے ان دونوں ایشوز کے حل کے لئے پاکسان کی جانب ہی دیکھا جا رہا ہے پاکستان جن ممالک کے احسانوں تلے دبا ہوا ہے وہی ممالک اب سوالی بن کر پاکستانی حکمانوں کے سامنے کھڑے ہیں اپنی جھولی پھیلائے ہوئے کہ وہ اس اہم ترین معاملے میں ان کی مدد کرے۔ پاکستان اس وقت نہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے یمن کے محاذ پر سعودی عرب اور یو اے ای عرب امارات آمنے سامنے آگئے ہیں اور دونوں ہی پاکستان کے بہت ہی قریبی دوست ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ناراض کرنا پاکستان کے لئے ممکن نہیں۔ دوسری جانب غزہ فلسطین میں فوج بھجوانے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہے جس کے لئے اب امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اسلامی ملکوں میں ایک ہل چل مچا دی ہے جو اپنے فوجی دستے امن فورس کے نام پر غزہ بھجوا رہے ہیں اس امن فورس کا کام ہی اسرائیل کی مدد کرکے حماس کے خلاف کارروائی کرنا تھا مگر اس طرح سے ڈول بجا کر نہیں۔۔۔ جس طرح سے امریکی صدر ٹرمپ نے جوش خطابت میں یا پھر اپنے گھر آئے ہوئے مہمان اسرائیلی وزیر اعظم کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کا ولولہ انگیز بیان داغ دیا کہ اب حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے کارروائی کی جائے گی یعنی جن اسلامی ممالک کے فوجی دستوں کو غزہ میں امن قائم کرنے کے لئے بھجوایا جارہا ہے ان سے حماس کو غیر مسلح کروانیکا کا کام لیا جائے گا دوسرے معنوں میں خود مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوانے مسلمانوں کو خون مسلمانوں کے ہاتھوں بہانے کے خوفناک منصوبے پر عمل کروانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر اسلامی ممالک کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے اور اس پر احتجاج کرنے کی ضرورت ہے پاکستانی حکمرانوں کو بھی امریکہ کی جانب سے مجبور کیا جارہا ہے وہ اپنے فوجی دستے قیام امن کے لئے بھجوائے ۔ میڈیا رپورٹس ڈان کے مطابق پاکستان سے یہ دستے بھجوائے جا چکے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کا اعتراف نہیں کیا جارہا ہے۔ شہباز زرداری رجیم اس وقت بہت پریشان ہے کہ وہ ملکی عوام کو ان سارے معاملات میں کس طرح سے اعتماد میں لیں کیونکہ ملکی عوام اتنی زیادہ باشعور ہو چکی ہے کہ اب حکمرانوں کا اپنے جرائم کو ڈھانپنے کا ”ملکی مفاد“ اور ”عوامی مفاد“ کا لبادہ بھی کام نہیں آرہا ہے، پچھلے ادوار میں ہر طرح کے قومی اور ملکی جرائم کو اسی طرح کے چورن بیچنے سے چھپا لیا جاتا تھا مگر اب جس بوتل سے شعور کے جن کو باہر نکالا گیا ہے بدقسمتی سے وہ بوتل ہی ٹوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے اس شعور کے جن کو دوبارہ سے بوتل میں ڈالر کر ملکی عوام کو بے شعور نہیں کیا جا سکتا جس کی وجہ سے شہباز شریف کو عالمی سطح پر کئے جانے والے عہد و پیمان کو عملی جامہ پہنانے میں غیر معمولی دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کی اچھی خاصی بنائی جانے والی خارجہ پالیسی خراب ہو رہی ہے، حکمرانوں کی حالت آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی ہو گئی ہے ان اہم ایشوز میں دوستوں کی مدد کرتے ہیں تو بھی مرتے ہیں اور نہ کرتے ہیں تو بھی مرتے ہیں اس مشکل کا حل گرچہ گھر میں قیدی نمبر 804 موجود ہے مگر اس چوکھٹ پر جھکنے سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے، جھوٹی عزت آڑے آتی ہے اس لیے اس آسان اور مثبت حل کے بجائے خاردار راہ پر چلنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ملکی حکمرانوں اور ان کے پس پردہ قوتوں کو معاملے کی نزاکت اور سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اس مسئلے کا حل گھر سے نکالنے کو ترجیح دینا چاہئے اسی میں ملک کی سلامتی اور عالم اسلام کی بقاءاور اسلام دشمنوں کی شکست مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں