وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ایک وہ جو اس امریکی اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اس کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا یہ استدلال ہے کہ امریکہ دنیا کا تھانیدار اور جج بن کر خود گرفتاریاں بھی کررہا ہے اور سزائیں بھی دے رہا ہے اس طرح سے دنیا سے اقوام متحدہ کا کردار ختم ہو کر رہ گیا ہے اور دنیا میں جنگل کا قانون عملی طور پر رائج ہو گیا ہے جب کسی ملک کا صدر ہی اپنے ملک میں محفوظ نہ ہو تو پھر اس ملک کے پورے عوام ہی غیر محفوظ ہوں گے۔ ایک طرح سے تو ان کی آزادی ہی سوالیہ نشان بن جاتی ہے امریکہ کے اس جارحیت کی مخالفت میں چین، روس، کینیڈا اور بہت سارے دوسرے ممالک کھل کر آگئے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان بھی اس سلسلے میں امریکی جارحیت کے خلاف آگیا۔ امریکی جارحیت سے دوسرے ملکوں کی خودمختاری ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے اب جس طرح کے فاتحانہ بیانات خود امریکی صدر کی جانب سے آرہے ہیں اس سے تو صاف طور پر یہ ہی نظر آرہا ہے کہ وینزویلا کے صدر کے خلاف منشیات کے الزامات اور مقدمات تو ایک بہانہ تھے اصل نشانہ تو وہاں کے اربوں ڈالرز کے تیل کے ذخائر ہے جس پر امریکہ بلاشرکت غیرے قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اس طرح سے یہ ایک بین الاقوامی ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کی واردات ہے جسے مغرب کے معزز معاشروں اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والوں کو اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑتے ہوئے آواز بلند کرنا ہو گی۔ وینز ویلا کے صدر سے لاکھ اختلافات کے باوجود اس وقت جس طرح کی عالمی غنڈہ گردی یا پھر بدمعاشی کا ارتکاب امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے اس پر اگر ابھی واویلا نہیں مچایا گیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم امریکی فوج کے ہاتھوں اس طرح سے اغواءکیا جائے گا کوئی روسی فوج اور کوئی چینی فوج کے ہاتھوں۔۔۔ کیونکہ امریکہ سے خود ہی اس غنڈہ گردی کی روایت بڑی ہی ڈھٹائی اور بے شرمی سے نہ صرف ڈالدی ہے بلکہ اس کی دفاع بھی اسی طرح سے کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ آفرین ہے نیویارک کے نوجوان میئر پر جنہوں نے نہ صرف امریکہ کے اس جارحیت پر سب سے پہلے آواز بلند کی بلکہ عملی طور پر ایک بہت بڑے احتجاج جلوس کی قیادت بھی کی یورپ اور دوسرے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت پسندوں کو نیویارک کے میئر کی ہی تقلید کرنی چاہئے اور انہیں مشعل راہ بناتے ہوئے امریکہ کے اس جارحانہ غیر قانونی غیر خلاقی اور غیر جمہوری عمل کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے اور جس طرح سے وینزویلا سے تیل لانے اور روسی تیل بردار جہاز پر امریکہ کی جانب سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی وہ سیدھی سیدھی تیسری عالمی جنگ کو نہ صرف دعوت دینے بلکہ اس کے لئے راہیں ہموار کرنے کے مترادف ہے۔
امریکی عوام کو بھی نیویارک کے میئر کی طرح سے بہادری دلیری اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے دور حاضر کے اس ہٹلر سے پوری دنیا کو ایک اور عالمی جنگ کے نذر ہونے سے بچانے کے لئے سڑکوں پر نکلنا ہو گا۔ تاکہ امریکی صدر کے اس طرح کے اقدامات سے دنیا کے امن کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ چین اور روس کو فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر امریکہ کو اس لاقانونیت اور غنڈہ گردی سے روکنے کی ضرورت ہے اسی میں دنیا کی سلامتی اور فلاح مضمر ہے۔
37












