ذہنی مریض کو ذہنی مریض ہی نہ صرف پسند آتا ہے بلکہ وہ اس پر فدا بھی ہوتا ہے۔ ان دنوں ایک ذہنی مریض کی الٹی سیدھی اور بلا کسی حکمت عملی پر مبنی فیصلوں کی وجہ سے پوری دنیا کا امن داﺅ پر لگا ہوا ہے اور تیسری عالمی جنگ کی جوالا مکھی کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے اس طرح کے اقدامات دوسرے خاص طور سے چھوٹے اور کمزور ملکوں کے ساتھ کئے جارہے ہیں کہ جس کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جاتا ہے بلکہ بعد میں بجائے ندامت یا شرمندگی کے بڑے ڈھٹائی کے ساتھ اسے اپنا کارنامہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغواءکی شرمناک واردات ہمارے سامنے ہے کہ محض وہاں کے تیل کے ذخائر پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ایک ملک کے خودمختاری پر حملہ کرکے اقوام متحدہ کے وجود کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا ابھی اس شرمناک واردات کی سیاہی بھی خشک نہیں ہو پائی تھی کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی نہ صرف بات چیت ہو رہی ہے بلکہ اس کے لئے منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے، چاہے نیٹو احتجاج کرے یا پھر ڈنمارک۔۔۔ کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔ ابھی گرین لینڈ والا معاملہ چل رہا ہے ایران میں رجیم چینج کروانے کے لئے اپنے بھجوائے جانے والے قاتلوں کے ذریعے وہاں کے سیکورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں کو قتل کروا کر پورے ایران میں ہنگامی حالت پیدا کرلی جب ایران کی حکومت نے ان کے بھجوائے جانے والے قاتل رنگے ہاتھوں پکڑ لئے اور ان کا بھانڈا پھوٹنے لگا تو اب ایران پر حملہ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے اور کوئی شک نہیں کہ وہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے ایران پر حملہ کر بھی دے اور وہاں رضا شاہ پہلوی کی طرح مغرب نواز اپنی کٹھ پتلی حکومت بنوالے گرچہ روس کی جانب سے امریکہ کو خبردار کردیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کی غلطی نہ کرے جس سے دنیا بدامنی کی زد میں آجائے اس طرح کے پے در پے غلط ترین جارحانہ اقدامات دنیا کو تیزی کے ساتھ تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے یقین جانیے کہ اگر یہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا دنیا ایک چٹیل میدان بن جائے گی اور یوم حسر کا نقشہ پیش کرے گی اس لئے سب کو چاہئے کہ دنیا کے امن کی جانب بڑھنے والی اس موت کو روکنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرے سب سے زیادہ ذمہ داری امریکی کانگریس اور ان کے سینیٹروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بے لگام حکومت کو لگام دے کہ وہ آگ سے کھیلنے کا سلسلہ بند کردے اگر ایک بار یہ ایٹمی آگ بھڑک اٹھی تو پر کوئی بھی نہیں بچ پائے گا اگر امریکی کانگریس اور ان کی سینیٹرز بھی اس خونی کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں تو پھر امریکی عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے بلکہ ان پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ وہ سب کے سب مل کر احتجاج کرے تاکہ ان کی حکومت اس غیر قانونی کارروائی سے باز رہے جس کی وجہ سے پوری دنیا تباہ ہو سکتی ہے اس کے بعد اقوام متحدہ روس چین فرانس سمیت تمام بڑی طاقتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بے لگام حکومتوں کو لگام دینے کے لئے اپنے اپنے طریقے کار کا استعمال کرتے ہوئے ان کے جنگی کے ٹیکنالوجیز کو بھی ہیک کرکے ناکارہ بنا دے تاکہ دنیا تباہ و برباد ہونے سے محفوط رہ سکے اسی طرح کے اقدامات میں دنیا کی سلامتی اور امن مضمر ہے۔
5












