اسلام آباد، انقرہ، قاہرہ، دوحہ (نیوز ڈیسک) پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر نے غزہ میں جاری بحران کے حل کیلئے عالمی سطح پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مشترکہ فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد پر ان ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ان کی متفقہ حکمت عملی اور عالمی امن کے قیام کیلئے اقدامات کو واضح کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس کا قیام غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کیلئے عبوری انتظامی فریم ورک قائم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری خونریزی کوختم کرنا اور خطے میں مستقل امن، سلامتی اور استحکام کی فضا قائم کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی ، جسے شریک ممالک نے بھر پور طور پر سراہا ہے اور اس دعوت کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ شمولیت عالمی سطح پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اہم پیش رفت کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ بورڈ آف میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2803 کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس سے اسکی قانونی حیثیت اور بین الاقوامی حمایت کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس قرار داد کے تحت غزہ میں امن قائم کرنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ ایک عالمی ذمہ داری بن گئی ہے۔ پاکستان اور دیگر شریک ممالک نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے اپنی پختہ حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل خطے میں دیر پا امن کے قیام کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی ہے اور اس مشترکہ اقدام میں بھی اس کا موقف واضح ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا حل عالمی سطح پر یکجہتی اور مشترکہ کوششوں سے ممکن ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل حق ہونا چاہئے۔ مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس کا قیام خطے میں دیر پا امن ، سلامتی اور استحکام کے قیام کیلئے اہم قدم ہے۔ شریک ممالک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہصرف غزہ بلکہ پورے مشرق وسطی کیلئے مثبت اثرات مرتب کرے گا ور عالمی سطح پر جنگوں اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔ غزہ بورڈ آف پیس کا قیام خطے میں امن کے قیام کیلئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، اور اس کی کامیابی عالمی برادری کی جانب سے مکمل تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر منحصر ہوگی۔ اس اقدام کو کامیاب بنانے کیلئے عالمی طاقتوں اور اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے عوام کو امن ، سلامتی اور انسانی حقوق کے بنیادی اصول مل سکیں۔ یہ مشترکہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق اور امن کے قیام کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔ اسکے تحت جاری کی جانے والی اقدامات نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطی کے امن کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف بورڈ آف پیس میں شمولیت کیلئے دعوت دی گئی تھی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرار داد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ بورڈ آف پیس کے ذریعے مستقل جنگ بندی کے نفاذ کی امید ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہوگا، فریم ورک کے تحت فلسطینی عوام کیلئے انسانی امداد میں نمایاں اضافے، اور غزہ کی تعمیر نو کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو یہ بھی امید ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے عملی اظہار کی راہ ہموار کریں گی۔ ترجمان خودارادیت دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان قابل اعتماد اور وقت کی پابند سیاسی عمل کے ذریعے مسئلہ فلسطین کے حل کی امید رکھتا ہے۔ پاکستان مسئلہ فلسطین بین الاقوامی قانونی حیثیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیتا اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان القدس الشریف کونی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے موقف کی بھی تائید کرتا ہے بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے پاکستان خود مختار اور جغرافیائی طور پر مربوط ریاست فلسطین کے قیام کی امید رکھتا ہے، بطور رکن ملک فلسطین کی تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھی جائینگی۔ ادھر ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ مکان فدان نے کہا کہ عالمی امن کیلئے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار ہے ، ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع ہے۔
10












