اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نو جوانوں کیلئے ہرممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ملاقات کی ، جس میں یوتھ پروگرام کے مختلف پہلوو¿ں اور بالخصوص لیپ ٹاپ سکیم سے متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ رانا مشہود نے وز یر اعظم کو پروگرام کے تحت نو جوانوں کی تعلیم، ہنر مندی اور فلاح و بہبود کیلئے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے نو جوانوں کی تعلیمی قابلیت اور استعداد کار بڑھانے کیلئے حکومت کی کوششوں پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت نو جوانوں کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے ہرممکن وسائل بروئے کارلائے گی تا کہ ملک کے نوجوان ملکی ترقی میں بھر پور کردارادا کرسکیں۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے نو جوانوں کی تعلیم اور مہارت کے فروغ کیلئے جاری حکومتی پروگراموں کی کامیابی اور اسکے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا گزشتہ روز وز یر اعظم شہباز شریف سے میانمار کے وزیر خارجہ یوتھان سومی نے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعظم نے معز مہمان کا خیر مقدم کرتے ہوئے میانمار کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے تجارت اور معاشی تعاون تعلیم ، ثقافت، استعداد سازی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے بالخصوص انسانی سمگلنگ کیخلاف کارروائی میں میانمار کے تعاون اور آسیان کیساتھ پاکستان کی شمولیت کیلئے میانمار کی حمایت کو سراہا۔ میانمار کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کی جانب سے پر تپاک استقبال پر انکا شکر یہ ادا کیا۔ انہوں نے میانمار کی قیادت کی جانب سے نیک تمناو¿ں اور خیر سگالی کے پیغامات پہنچائے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان کیساتھ تعلقات کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔ میانمار کے وزیر خارجہ نے 28 مارچ 2025 کو آنیوالے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان کی بر وقت اعداد پر بھی وزیر اعظم کا شکر یہ ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ پیر حمد اسحق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز وز یر اعظم شہباز شریف سے چیئر مین قومی احتساب بیورو ( نیب) لیفٹینٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے وزیر اعظم ہاو¿س میں ملاقات کی اور نیب کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2025 پیش کی۔ ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وز یر اعظم نے نیب کی کارکردگی کا باضابطہ طور پر جائزہ لیا اور نیب کو ایک ٹیکنا لوجی کی بنیاد پر چلنے والے ادارے میں تبدیلی کو سراہا۔ وزیر اعظم نے جدید ٹیکنا لوجیز کے انتظام کی تعریف کی جس میں AI کی مدد سے تحقیقات شامل ہیں۔ انہوں نے نیب کے ای۔ آفس فریم ورک کی بھی تعریف کی جو حکومت کے وسیع تر کفایت شعاری اور شفافیت کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ وزیر اعظم نے نیب کی عوامی خدمات کی جانب توجہ کو بھی سراہا۔ وزیر اعظم نے نیب کی پیشہ ورانہ آزادی اور قومی وسائل کے تحفظ کے اسکے مشن کی حمایت کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ چیئر مین نیب نے وزیر اعظم کو بر بانگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس نیب نے 6,213 روپے کی ریکوری کی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ چیئر مین نیب نے وزیر اعظم کو 2.98 ملین ایکٹر ریاستی اور جنگلاتی اراضی کو دوبارہ حاصل کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا جس کی قیمت تقریبا 5.99 ٹریلین روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی اور فراڈ ہاو¿سنگ اور انویسٹمنٹ سکیمز کے 115,587 متاثرین کو 180 بلین روپے واپس دلوائے گئے جو کہ ایک ایسی قومی خدمت ہے، جس سے عام آدمی کا اعتماد بحال ہوا۔ چیئر مین نیب نے بتایا کہ شیب” کھلی پھیری اور سنٹرل کمپلینٹ سیل نے کامیابی سے ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یورو ڈرانے دھمکانے کے بجائے شکایات کے ازالے کا وسیلہ بنے۔ جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے گزشتہ ہفتے برطانیہ میں غیر سرکاری دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے سرکردہ ماہرین کے اعلی سطح وفد نے ملاقات کی ، وفد میں عالمی اداروں اور تنظیموں بشمول بلیک راک، یونیورسٹی آف کیمبرج یونیورسٹی آف آکسفورڈ ڈویلویٹ، اور دنیا کی معروف اے آئی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر رہنما شامل تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور چوک ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئر مین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت قومی و اقتصادی ترقی کیلئے بی ٹیکنا لوجیز سے فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل اور اقتصادی تبدیلی کو تیز تر کرنے کیلئے عالمی مہارت بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترجیحات ، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جامع ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ وز یر اعظم نے بتایا کہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے تبھی شعبے سے اشتراک پر بھر پور کام جاری ہے۔ وفد کے اراکین نے پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر گفتگو کی۔ اس موقع پروزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کیلئے اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ حال کا سنہری موقع ہے اور حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے۔ علاوہ از میں پر امن بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ موجودہ عالمی دور میں جب ممالک تنازعات اور تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں مل کر ایسی دی کی تحیر کیلئے کام کرنا چاہئے جہاں تصادم کے بجائے تعاون اور امن غالب ہو۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 28 جنوری کے موقع پر عالمی یوم پر امن بقائے باہمی کے حوالے سے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آج اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہوکر پرامن بقائے باہمی کا عالمی دن منارہا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جانب سے ممالک اور نوع انسانی کے درمیان ہم آہنگی ، اتحاد اور با بی احترام کے فروغ کیلئے منایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس دن کا مقصد کرہ ارض پرتعلیم ، مکالمے اور بین المذاہب تعاون کے ریعے تصادم اور کشیدگی کا مقابلہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیامیں پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب لوگ عزت وقار، با بی احترام اور افہام تقسیم کے طرز ل کو اپنا میں۔ شہباز شریف نے کہا کہ دنیا خلف محی فتوں، مذاہب ،زبانوں اور نظریات کے تنوع سے ملا مال ہے، اور یہ تو خطرہ نہیں بلکہ مثبت طاقت ہے۔ موجود و عالمی دور میں جب ممالک تنازعات اور تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں، پر امن بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہ بھی دیگر اقوام اور بر اور یوں کیساتھ رواداری ، شمولیت اور ہم آہنگ رویے پر زور دیتی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اختلافات کے بجائے مکالمہ تعصب کے بجائے کچھ بوجھ، دشتی کے بجائے رواداری کو اپنا یا جائے تا کہ پر امن بقائے باہمی محض ایک تصور نہ رہے بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کیلئے ایک زندہ حقیقت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے مثال قائم کرنی ہوگی کہ اختلافات خطرہ نہیں بلکہ سکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہیں، اورمل کر ایسی دنیا کی تمیر کیلئے کام کرنا چاہئے جہاں تصادم کے بجائے تعاون اور امن غالب ہو۔
32












