اسلام آباد (فرنٹ ڈیسک) پاکستان اور لیبیا نے قریبی روابط برقرار رکھنے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسلسل روابط اور بات چیت کی اہمیت پر زوردیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے لیبیا کے اعلی سطح وفد نے منگل کو یہاں وزیر اعظم ہاو¿س میں ملاقات کی۔ وفد لیبیا کی حکومت کے وزیر اعظم ڈاکٹر اسامہ معد حمد، لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم ختر اور نائب کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ ختر پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں مشترکہ امور میں تعاون بڑھانے اور علاقائی و عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور مسلسل روابط و مکالمے کی اہمیت پر زوردیا جبکہ لیبیا کی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق ملاقات میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے شب برات 15 شعبان 1447ھ کے با برکت موقع پر پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعظم نے اس رات کی روحانی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے اللہ تعالی کی خصوصی عنایت قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا 15 شعبان المعظم کی یہ مقدس رات اللہ بزرگ و برتر کے حضور اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپیل کی کہ تمام شہری ملکی استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کریں۔ مزید برآں وزیر اعظم نے عالمی یوم سرطان کے موقع پر کہا کہ آج ہم دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر اس موذی مرض سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان پر اس مرض کے بوجھ کو کم کرنے کے عزم کو دہرا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سرطان کے خلاف جدو جہد صرف ایک طبی چیلنج نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس میں ہمدردی ، حو صلے اور اجتماعی کاوشیں ضروری ہیں۔
7













