قیامت
اِک غول بے نوا کا ہے سرگرم آج کل
رنگت کُھرچ رہے ہیں جو تصویرِ ذات کی
لگتا ہے ہم کھڑے ہیں قیامت کے آس پاس
منزل ملے گی اب کسے راہِ نجات کی
456
456
قیامت
اِک غول بے نوا کا ہے سرگرم آج کل
رنگت کُھرچ رہے ہیں جو تصویرِ ذات کی
لگتا ہے ہم کھڑے ہیں قیامت کے آس پاس
منزل ملے گی اب کسے راہِ نجات کی