او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی 48 ویں کانفرنس 22-23 مارچ کو اسلام آباد میں منعقعد ہونے جارہی ہے اس کانفرنس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس کا اعلان بہت پہلے ہوچکا تھا۔ کانفرنس کا انعقاد قومی اسمبلی میں ہو گا جو کہ ہر اعتبار سے موزوں جگہ ہے۔ پندرہ سال کے طویل عرصہ کے بعد یہ کانفرنس پاکستان میں ہو رہی ہے کیوں کہ اس سے پہلے افغانستان میں امریکہ کی جانب سے بیس سال تک جارحیت کی جاتی رہی جس کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا۔ آئے دن ہونے والے بم دھماکوں سے ملک کا امن تباہ ہو چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دے دیا گیا تھا لہذا یہاں کسی قسم کی مثبت سرگرمی نہیں ہوتی تھی۔ کھیل، کاروبار، سیاسی اور سماجی اجتماعات سب متاثر ہو رہے تھے۔ پاکستان کا امیج ایک دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف پاک فوج سمیت تمام اداروں نے طویل جنگ لڑی اور بیش بہا قربانیاں دیں۔ اَسی ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان امریکہ اور نیٹو کا اتحادی ہونے کے باوجود ناپسندیدہ ریاست گردانی گئی۔ انہوں نے ہی غیروں جیسا سلوک کیا جو کہ قابل افسوس ہے۔
موجودہ حکومت نے عمران خان جیسے نڈر اور بے باک لیڈر کی قیادت میں پچھلے تمام اتحادیوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم آئندہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور امن کی ہر کوشش میں سب کے ساتھ ہیں نیز یہ کہ ہم کسی کیمپ کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم سب کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ ہم امریکہ کو ہوائی اڈے نہیں دیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کے اس پرعزم موقف کو نہ صرف امریکہ اور مغرب نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا بلکہ ہمارے نام نہاد اپوزیشن کے لیڈروں نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے کیوں کہ یہ ان کے غلام اور پے رول پر ہیں۔ اس کانفرنس کو ناکام کرنے کے لئے بڑی قوتوں کے ساتھ بھارت بھی سرگرم ہے۔
بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کو وقف پر پیش نہ کیا گیا تو میں دیکھوں گا کہ او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے؟ اس بیان کے بعد تمام او آئی سی ممبران ممالک میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور ان کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے جب کہ ڈاکوﺅں کے اس گروہ کے دو سرکردہ ارکان فضل الرحمن اور شہباز شریف نے او آئی سی کے مندوبین کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ بلاول کے اس گھٹیا بیان نے ان کی بھی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ یہ دونوں اس کے پیچھے کھڑے سب کچھ سن رہے تھے اور انہوں نے اس وقت بلاول کا منہ بند نہیں کیا۔
میرا تمام قارئین سے سوال ہے کہ کیا آپ کو آئندہ آنے والے سالوں میں بلاول اور مریم جیسے سربراہ مملکت چاہئیں؟ جن کی سیاسی تربیت اور گفتگو انتہائی قابل افسوس ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہر گز نہیں۔ بلاول جس کا ابھی تک مصدقہ ذرائع سے معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ مذکر ہے یا مونث اور مریم صفدر سزا یافتہ نا اہل اور تصدیق شدہ جھوٹی خاتون ہے کو ہماری عوام لیڈر بنانا چاہتی ہے۔ جنہیں نہ صرف اندرونی اداروں کا کوئی لحاظ ہے اور نہ خارجہ معاملات کے متعلق بات کرنے کی تمیز ہے اور نہ ہی ان کا قد کاٹھ ایسا ہے کہ انہیں وزیر اعظم چن لیا جائے اور اگر ایسا کبھی ہوا تو پاکستان کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی کیوں کہ ان لوگوں کو غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کا حقیقی ادراک ہی نہیں ہے یہ تو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے اور پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں لیکن خیر ہو مردِ حُر عمران خان کی جس نے ان کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔
قارئین اگر آصف زرداری 2008ءسے 2013ءتک 5 سال پورے کر سکتا ہے اور 2013ءسے 2018ءتک نواز شریف پورے پانچ سال حکومت کر سکتا ہے جو کہ رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ نا اہل، چور، سزا یافتہ اور مجرم ہیں تو عمران خان جیسا کلین شخص پانچ سال پورے کیوں نہیں کر سکتا۔ یہ ایک بنیادی اور بڑا سوال ہے۔ میں اپنے تجزیات میں بارہا اس بات کا اظہار کر چکا ہوں کہ باطل کے مقابلے میں حق کو ہمیشہ فتح ہوتی ہے اور عمران خان حق پر کھڑا ہے۔ ان شاءاللہ آخری فتح اسی کی ہوگی۔
222











