اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 85

اسرائیل، متحدہ عرب امارات امن معاہدہ!

سال 1982ءمیں مجھے ایک فلسطینی جہادی نے بھیانک لطیفہ سنایا۔ اس سال اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور PLO کے چھ ہزار گوریلا سپاہی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے اور اس حملے کا سامنا نہ کرسکے۔ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ خدا امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن، روس کے صدر برزنیف اور PLO کے سربراہ یاسر عرفات کو کہتا ہے کہ آپ تینوں مجھ سے ایک ایک سوال پوچھ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے امریکہ کے صدر نے سوال کیا کہ دنیا میں مکمل سرمایہ دارانہ نظام کتنے عرصہ میں قائم ہوگا؟ خدا نے جواب دیا ”ایک سو سال میں“ اس پر ریگن نے کراہنا شروع کردیا۔ خدا نے پوچھا کہ تم کیوں روتے ہو؟ ریگن نے کہا کہ یہ میری زندگی میں تو نہیں ہو گا اس لئے روتا ہوں۔
دوسرا سوال روس کے صدر ”لینوروڈ برزنیف“ نے کیا اور پوچھا کہ پوری دنیا میں ”کمیونسٹ“ پھیلنے میں کتنا عرصہ لگے گا؟ جس پر خدا نے جواب دیا کہ ”دو سو سال“۔ اس پر برزنیف نے بھی کراہنا شرع کردیا اور کہا کہ یہ میری زندگی میں تو نہیں ہوگا۔
آخر میں یاسر عرفات نے خدا سے سوال پوچھا کہ ”میرے لوگوں کے لئے فلسطین کو ملک کی حیثیت میں تسلیم کروانے میں کتنا وقت لگے گا؟“ اس سوال پر خدا خود افسردہ ہو گیا!
14 اگست کو صدر ٹرمپ نے ہنگامی پریس کانفرنس بلائی اور اس میں اعلان کیا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن کا تاریخی معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ جس سے خطہ میں امن قائم ہو گا۔ اور دہائیوں سے جاری محاذ آرائی ختم ہو گی۔ آئندہ آنے والے چند ہفتوں میں یہ معاہدہ وائٹ ہاﺅس میں سائن ہو گا جس کی جزئیات کچھ یوں ہیں کہ دونوں ملک سفارتخانے قائم کریں گے۔ ٹریڈ اور ٹیکنالوجی ایکسچینج ہو گا، دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہوں گی۔ سیاحت بڑھے گی اور انرجی میں تعاون کیا جائے گا۔ اس تاریخی پریس کانفرنس کے بعد تل ابیب کے سٹی ہال کو اسرائیل اور یو اے ای کے برقی جھنڈوں سے روش کردیا گیا اور اسرائیل کے صدر ریون رولن (Reuven Riulin) نے ابوظہبی کے کراﺅن پرنس محمد بن زید کو دورئہ اسرائیل کی دعوت بھی دے دی۔
وائٹ ہاﺅس کا کہنا ہے کہ اس امن معاہدہ سے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ آکر نماز پڑھنے کی سہولت اور اجازت مل جائے گی کیوں کہ دونوں ملک براہ راست پروازیں چلائیں گے اور سیاحتی ویزے جاری کریں گے اور تل ابیب انہیں خوش آمدید کہے گا۔
مڈل ایسٹ کے بائیس عرب ممالک میں سے یو اے ای، مصر اور اردن کے بعد تیسرا ملک ہو گا جس نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا ہے۔ مصر نے 1979ءمیں اور اردن نے 1994ءمیں امن معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ اس نئی ڈیل سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو نیا بریک تھرو ملا ہے کیوں کہ دونوں رہنماﺅں کو اپنے اپنے ملک میں اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار ”جوبائیڈن“ نے بھی اس معاہدہ کو خوش آمدید کیا ہے اور اس کو مڈل ایسٹ کے لئے تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔ جوبائیڈن نے یو اے ای کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی لیڈرشپ نے بہادری دکھائی ہے اس سے اسرائیل فسلطین مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ یو اے ای فلسطین کا بہت بڑا حامی رہا ہے اور اب بھی اس کا موقف ہے کہ اس امن معاہدہ کے نتیجے میں ہم اسرائیل کو فلسطین میں مزید کارروائیاں کرنے سے روک پائیں گے جب کہ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ”ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے“ اگر اسرائیل اپنے موقف سے پیچھے ہٹتا ہے یا کارروائیاں روکتا ہے تو پہلے سے ہی اسرائیلی اپوزیشن کا رویہ بڑا جارحانہ ہے اور اس کے بعد مزید جارحانہ ہو جائے گا۔ لہذا یہ ممکن نہیں کہ اسرائیل نئی آبادکاریوں سے باز رہے اور فلسطینوں کی زندگیاں آسان ہو سکیں۔ یہ یہود و نصاریٰ کی گہری اور سوچی سمجھی چال ہے۔ دوسری طرف فلسطین نے اس معاہدہ کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یو اے ای کو ہم نے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا کہ وہ ہماری مرضی کے بغیر امن معاہدہ کرے۔ فلسطین نے احتجاجاً اپنے سفیر کو یو اے ای سے فوری واپس بلا لیا ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور ایران نے کھل کر اس معاہدہ کی مخالفت کی ہے۔ فلسطین نے عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یو اے ای کے اس اقدام کو بحرین نے سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ بہادرانہ قدم ہے جو یو اے ای نے اٹھایا ہے۔ درپردہ یو اے ای کو سعودی عرب کی بھرپور حمایت حاصل ہے اس معاہدہ کے سلسلے میں پاکستانی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے علم میں تھا۔ دوسری طرف چین نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنی پرانی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے فلسطین کو سپورٹ کرتے رہیں گے البتہ مڈل ایسٹ میں غیر جانبدارانہ انداز میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس کی حمایت کرے گا۔
اسرائیل، فلسطین تنازعہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، کئی بار عالمی رہنماﺅں نے اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے مگر ہر بار ناکامی ہوئی، سیکیورٹی کونسل نے بھی کئی قراردادیں پاس کیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ فلسطینی حقیقی معنوں میں کمزور اور نہتے ہیں، اسرائیل کے جدید اسلحہ سے لیس فوجیوں کا مقابلہ کررہے ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے ظلم و بربیت کی داستانیں رقم کیں ہیں، ہزاروں لوگ شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ فلسطینیوں کے اندر بھی کئی گروپ ہیں ایک ”حماس، اور دوسرا ”اسلامسٹ پارٹی“ جب کہ ”الفتح“ ونگ کی قیادت وزیر اعظم محمود عباس کررہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ فلسطینی بھی مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں تو غلط نہ ہوگا۔
اس معاہدہ کے نتیجے میں ایران سے 33 میل کے فاصلے پر اسرائیل کو جائے پناہ مل جائے گی جہاں سے مختلف قسم کی کارروائیاں کرنا اسرائیل کے آسان ہو گا اس معاہدہ کے نتیجہ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحران اور آنے والے وقتوں میں دوسرے اسلامی ممالک بھی شامل ہوتے جائیں گے۔
اس ایک معاہدہ نے مسلمانوں کو تقسیم کردیا ہے، ترکی، ملائیشیا ، ایران اور پاکستان اس کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور مسلمان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں دراڑ آتی جائے گی اس طرح ایک بار پھر انگریزوں کی سینکڑوں سال پرانی پالیسی (Divide and Rule) زندہ ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے بعد مختلف اسلامی ممالک کا دباﺅ آنا شروع ہو گیا ہے جسے یو اے ای فی الحال برداشت کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ ہمارا اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، آئندہ آنے والے دنوں میں جب یہ معاہدہ باقاعدہ سائن ہو گا پھر اس کے خطہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں واضح ہو گا۔ مگر امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دہائیوں سے جمی برف کو پگھلانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے جس کے لئے وہ ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے۔ اس کا اڑا ہوا رنگ اور سوکھے ہوئے ہونٹ بتا رہے ہیں کہ خبر اچھی نہیں ہے۔ اسرائیل، یو اے سی کا اس وقت معاہدہ بڑا معنی خیز ہے۔ اور ٹرمپ اس کو بطور ٹرمپ کارڈ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف جوبائیڈن نے سیاہ فام خاتون سینیٹر کو نائب صدر نامزد کرکے سیاہ فام عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح جوبائیڈن نے ٹیکساس میں ”امریکن مسلم کمیونٹی“ سے بھی وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ مجھے ووٹ دیں اور میں الیکشن جیت گیا تو میں حلف اٹھاتے ہی مسلمانوں سے تمام پابندیاں ہٹا دوں گا جو کہ بہت خوش آئند اعلان ہے جس سے پورے امریکہ کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ لوگ جوبائیڈن کو ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں۔
ٹرمپ کوالیکشن میں ایک بار پھر روس اور چین کی طرف سے مداخلت کا خطرہ ہے جس کا اظہار وہ کئی بار کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے چار سالہ دور حکومت میں اپنے قریبی ہمسایہ ممالک میکسیکو اور کینیڈا کے علاوہ یوروپ اور چین کے ساتھ محاذ آرائی کھڑی کر رکھی ہے امریکی عوام کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کو الیکشن جتوا کر اچھا فیصلہ نہیں کیا۔ امریکہ دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ دیوار پر لکھی ہار کو جیت میں بدلنے کے لئے اسرائیل، یو اے ای معاہدہ اس وقت کروایا گیا ہے جب کہ کشمیر میں ثالثی کے لئے اس کی پیشکش کو نریندر مودی بڑی حقارت سے ٹھکرا چکا ہے، کیوں کہ وہ پیشکش ایک نوراکشتی تھی یہ سب مفادات حاصل کرنے کی خاطر ہو رہا ہے لیکن اس معاہدہ سے عالم اسلام میں واضح پھوٹ پڑ جائے گی جو کہ یہود و نصاریٰ اور ہندوﺅں کا ایجنڈا ہے۔ امت مسلمہ کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ورنہ داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں