475

اسپاٹ فکسرز نے چند کھلاڑیوں سے رابطے کی کوشش کی، پی سی بی

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کو ایک مرتبہ میچ فکسرز نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے میچ فکسرز نے کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے کھلاڑیوں نے ناکام بنا دیا۔
پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پی سی بی نے کھلاڑیوں کو کرپشن اور فکسنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے سخت اقدامات کیے لیکن اس کے باوجود اسپاٹ فکسرز کھلاڑیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
مقامی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ اسپاٹ فکسرز نے دبئی میں کھلاڑیوں تک رسائی کی کوشش کی لیکن کھلاڑیوں نے فوری طور پر بورڈ کو اس حوالے سے آگاہ کر کے ان کی کوشش ناکام بنا دی۔
نیوز کے رابطہ کرنے پر پی سی بی نے مذکورہ واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کے اس نئے اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔
پی سی بی میں موجود باوثوق ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے پر ڈان نیوز کو بتایا کہ سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے چند کھلاڑیوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے بکی کو کوئی جواب نہ دیا۔
بورڈ کے ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں نے فوری طور پر اس بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا اور ہم معاملے کی مزید تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو تلاش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔
معاملے کی مزید تحقیق کے بعد محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور محمد نواز کے نام بھی سامنے آئے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے ٹریبونل تشکیل دیا تھا جس نے خالد لطیف اور شرجیل خان پر پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کردی تھی جبکہ محمد عرفان پر بھی ایک سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد سخت اقدامات کرتے ہوئے کھلاڑیوں کیلئے لیکچرز کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن قوانین میں بھی ترمیم کی تھی تاکہ اس عفریت سے جان چھڑائی جا سکے اور اس نئے اسکینڈل میں کھلاڑیوں کی جانب سے بورڈ کو رپورٹ کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ کے اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں