بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی کھیل 127

انڈیا میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات

انڈیا میں ریپ کیسز ہمیشہ ایک خوف ناک اور خطرناک شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں۔۔گزشتہ روز انڈیا میں پیش آنے والے واقعہ نے ثابت کردیا انڈیا کی مودی حکومت صرف گائے کی حفاظت ہی درست کر سکتی ہے۔۔ اب انڈیا میں 86 سالہ عورت تک بھی محفوظ نہیں رہی ہے۔۔ ان 86 سالہ عورت کے ساتھ ریپ کیا گیا۔۔ جس کے بعد انڈیا کی عوام میں غم و غصہ دیکھا گیا۔۔ انڈیا میں ہر سال دسیوں ہزار ریپ ہوتے ہیں۔۔ اور ویسے تو ہر ریپ اپنی ایک خوف ناک کہانی چھوڑ جاتا ہے جس کو سنتے ہی وہ کسی بھی انسان کوجنجھوڑ کے رکھ دے۔۔ اس طرح کا دل ہلا دینے والا ایک واقعہ دلی میں پیش آیا۔۔ جہاں پولیس نے ایک 30 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔۔ جس پر ایک 86 سالہ عورت کا ریپ اور اس پر تشدد کرنے کا الزام ہے۔۔ یہ بوڑھی خاتون اپنے گھر کے باہر دودھ والے کا انتظار کر رہی تھیں۔۔کہ ایک شخص وہاں آیا۔۔اس نے انھیں بتایا کہ دودھ والا آج نہیں آرہا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ وہ انھیں اس جگہ لے جائے گا جہاں دودھ مل رہا ہے۔۔بو ڑھی عورت نے اس کا بھروسہ کیا۔۔ اور اس کے ساتھ چل پڑیں۔۔ رپورٹ کے مطابق وہ شخص ان خاتون کو ایک قریبی فارم میں لے گیا۔۔ جہاں اس نے ان کا ریپ کیا۔۔ وہ روتی رہیں۔ اور اس کی منتیں کرتی رہیں کہ وہ انھیں چھوڑ دے۔۔ انھوں نے اسے یہاں تک کہا کہ وہ اس کی دادی کے برابر ہیں۔۔لیکن اس نے ایک نہ مانی اور جب انھوں نے اپنے تحفظ کے لیے مزاحمت کی تو وہ بے رحمی سے ان پر تشدد کرتا رہا۔۔ جب مقامی گاﺅں والے وہاں سے گزرے تو بوڑھی عورت کی چیخیں سنیں ہی مدد کے لیے آگئے۔۔ اور اس شخص سے چھڑایا۔۔ بعد میں اس ملزم کو پو لیس کے حوالے کر دیا۔۔
انڈیا ریپ اور جنسی تشدد دسمبر 2012 سے توجہ کا مرکزہے۔۔جب دلی میں ایک 23 سالہ فزیوتھراپی کی سٹوڈنٹ کو ایک چلتی بس میں گینگ ریپ کیا گیا تھا۔۔ جس کے بعد وہ کچھ ہی روز میں علاج کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔۔ ادراک گھناﺅنے فعل میں ملوث چار افراد کو مارچ میں پھانسی دے دی گئی تھی۔۔ لیکن انڈیا میں جنسی جرائم پر مکمل فوکس کے باوجود بھی ان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2018 میں پولیس نے 33,977 کیسز ریکارڈ کیے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ہر 15 منٹ میں ایک ریپ۔۔ اور بہت سے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں کروائے جاتے۔۔ اگر وہ ہو تو شاید کوئی غیر ملکی انڈیا آنا کا خواب میں بھی نہیں سوچے گا۔۔ گذشتہ کچھ دنوں میں جب انڈیا کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ایسی بھی اطلاعات آئی ہیں کہ کووڈ- 19کی مریضہ کولے جانے والی ایک ایمولینس کے ڈرائیوروں نے انھیں راستے میں ہی ریپ کیا۔۔ اس طرح اور نئے ریپ کے کیسز سامنے آئے ہیں۔۔گزشتہ ماہ گنے کے ایک کھیت میں 13 سالہ لڑکی کو ریپ کرنےکے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔۔ جس میں اس کی آنکھیں نکال دی گئی تھیں۔۔اور زبان کاٹ دی گئی تھی۔ اس طرح کے واقعات انڈیا کی اندرونی سکیورٹی کے اوپر بہت سے سوالات اٹھاتی ہیں ۔کہ ان کی اندرونی سکیورٹی نے عورتوں اور لڑکیوں کی حفاظت کے لیے کر کیا رہی ہے۔۔
انڈیا اپنی جہالت کے دور میں اس لیے اب تک موجود ہے۔۔ انڈیا میں موجود کچھ منفی تنظیم ایسے کاموں میں سر فہرست نظر آتی ہیں۔۔ پر انڈیا کا میڈیا جو کے خود مودی حکومت کا غلام ہے۔۔ کبھی ان منفی تنظیم لوگوں پر خبر نشر نہیں کرتا اور اس طرح ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔۔ انڈیا میں یہ تنظیم اپنی جہالت کو اپنے منفی کاموں سے زندہ رکھتی ہیں۔۔ قدیم زمانے کا مطالبہ کرو تو معلوم ہوگا۔۔ یہ انتہا پسند لوگ کیسے عورتوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔۔ اگر رپورٹ کا مطالبہ کرو تو اب تک سب سے زیادہ دنیا میں خوف ناک ریپ کیسز انڈیا میں ہی پیش آئے ہیں۔۔ انڈیا کے خوف ناک واقعہ میں سے ایک اور ہلا دینے والا واقعہ وہ یکم ستمبر 2016 ہریانہ میں پیش آیا۔۔ واقعہ کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے میوات ضلعے کے ڈینگر ہیڑی گاﺅں میں دو مسلمان خواتین کے اجتماعی ریپ کے واقعے سے علاقے میں دہشت پھیل گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے مبینہ طور پر ایک بچی اور ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ریپ کیا۔۔ اور ان کے دو رشتے داروں کو زد کوب کرکے قتل کر دیا تھا۔۔ اس حملے میں دوبچوں سمیت چار افراد بری طرح زخمی بھی ہوئے تھے۔۔ رپورٹ کے مطابق اس خبر کو انڈیا میں زیادہ نشر نہیں کیا گیا۔۔ اس میں حملہ آواروں نے اپنے منصوبے کے تحت یہ ریپ کیسز کیا۔۔ اور ان حملہ آواروں کا تعلق کسی تنظیم سے ہی تھا۔۔ اس طرح دلی قریب مسلح افراد نے گاڑی سے سفر کرنے والے ایک خاندان کی چار خواتین کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بناکر ان کے خاندان کے ایک فرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان ایک خاندان کی گاڑی کو زبردستی روکا۔ اور مزاحمت کرنے پر ان افراد نے خاندان کے سربراہ شکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد مبینہ طور پر خاندان کی چار خواتین کا ریپ کیا۔۔ اور اس عمل میں بھی انتہا پسند گروپ کا ہاتھ تھا۔۔ جس کو آج تک گرفتار نہیں کیا گیا۔۔ انڈیامیں مسلمان عورتوں کے ساتھ کافی تعداد میں گینگ ریپ کیے گئے پر اس کی رپورٹ اب ہی تک موجود نہیں ہیں۔۔ اب مسلمان عورتوں کے ساتھ ساتھ انڈیا میں دوسرے مذہب کی عورتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔۔ 20 فروری 2017میں ریاست کیرالہ میں ایک فلمی اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ رات کے وقت ایک فلم کی ڈبنگ کے لیے جاتے ہوئے تین افراد نے ان کی گاڑی روک کرانھیں گاڑی کے اندر ہی دوگھنٹے تک زیادتی کا نشانہ بنایا اور انھیں دھمکی دی۔۔ کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو ان کے ریپ کی تصویریں سوشل میڈیا پر نشر کردی جائیں گی۔ اس طرح 14 مارچ 2017کو نیپال کی خاتون کے ساتھ ریپ کا واقعہ پیش آیا جو انڈیا کے دارالحکومت دلی میں ہوا۔۔نیپال کی ان خاتون کے ساتھ ریپ کے معاملے میں پانچ افراد کوگرفتار کیا گیا۔۔ انڈیا میں ریپ کیسز ہونا ایک عام سی بات رہے گئی ہے جس میں سب سے زیادہ موثر مسلمان طبقہ ہو رہا ہے۔۔ کیونکہ پہلے ہی مودی حکومت نے انڈیا کے مسلمان کو ہر طرح سے پریشان کر دیا ہے۔۔ اب حال یہ ہے کہ انڈیا میں موجود مسلمانوں کی عورتوں کی غرت تک محفوظ نہیں ہے۔۔ مسلمانوں عورتوں کی غرت پر بھی سیاست کھیلی جارہی ہے۔۔ جو کہ مودی حکومت کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔۔ انڈیا کی موجود صورتحال ظاہر کررہی ہے انڈیا ایک دن اپنے ہی کچھ سیاسی لوگوں کے ہاتھوں ٹوٹ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں