کورونا وائرس کی دوسری لہر 122

ایک عورت کے لئے ایک چھت اور دو وقت روٹی

اللہ نے بیٹی کو رحمت کی شکل میں پیدا کیا۔ کہ وہ اپنی رحمت سے اپنے والدین کا گھر روشن کر دے۔ اسلام نے عورت کو ہر روپ میں خوبصورت انداز میں دور جہالت سے آزاد کروایا۔۔۔ ورنہ دور جہالت میں کے وقت جب بیٹی پیدا ہوتی تھی۔ ماتم کا ماحول ہوتا تھا۔ اسلام نے عورت کے لیے اس دور جہالت کے خلاف مثبت تعلمیات دی۔اور عورت کے ساتھ پیش آنے والے سلوک کو میں مثبت رویہ کی خاص اہیمت دی۔ اسلامی تعلیمات میں عورت کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا۔۔۔ چاہیے، اس کا رویہ منفی ہی کیوں نہ ہو، پر اس کے ساتھ اخلاق و آداب کے معالات کے مطابق عمل کرنے کاحکم دیا ہے۔ بہرحال میں اپنی بات ایک عام عورت کی کہانی کی کرو گی۔۔۔ اس کی دنیا گھر کی چار دیواری سے شروع ہوتی ہے اور اس پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔ جب عورت بیٹی کے روپ میں باپ کے گھر میں ہوتی ہے۔۔تو اس وقت وہ اپنے والدین کے لیے رحمت کا سایہ ہوتی ہے۔ عورت کے پاس یہ صلاحیت ہے۔ کہ حالات کے تقاضے کا مطابق وہ والدین کا بیٹا بھی بن جاتی ہے۔۔۔ اور ایک چھت اور دو وقت کی روٹی اس کو عزت و تحفظ سے مل رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کے وہ کام کرے۔۔۔ وہ اگر چاہے تو اپنے باپ کے لیے بیٹا بن جائے۔۔ ورنہ وہ ہر حال میں اس گھر کی دولت ہوتی ہے۔۔ وہ دولت جو اللہ نے رحمت کے روپ میں دی ہے۔ زندگی کا امتحان کیا ہیں۔ وہ اس سے بے خبر ہوتی ہے۔ عورت کی زندگی کی آزمائش شادی کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔ حال کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے۔۔۔ جب ایک لڑکی شادی کرکے دوسرے گھر جاتی ہے۔۔ تو اس کو یہ کہا جاتا ہے۔۔اب تمہارے صبر کی آزمائش شروع ہوگی ہے۔ پر ایسا ان سب باتوں سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچ جاتا کہ جیسا اسلامی تعلمیات کے مطابق حکم ہے ویسے ہی اس لڑکی کے ساتھ عمل کیا جائے۔۔۔ پر افسوس ایک چار دیواری میں رہنے والی عورت اپنا فیصلہ خود نہیں لے سکتی۔ اور نہ ہی اپنے لیے پسند کا ماحول بناسکتی ہے۔ عورت خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرسکتی سوائے اللہ پر معاملہ چھوڑنے کے۔
اللہ تعالی نے عورت کو مرد کی پیشانی سے نہیں بنایا۔ کہ وہ مرد پر حکمرانی کرے۔ نہ اسکے پاﺅں سے پیدا کیا وہ اسکی کی غلامی کرے۔ بلکہ اس کی پسیلوں سے پیدا کیا۔ کہ وہ اسکے دل کے قریب ہو۔۔۔ اہم سبب یہ ہے کہ پر ہمارا معاشرہ میں اسلامی کی تعلیمات سے دور ہو کر میاں بیوی کے رشتہ کو ایک سیاسی کھیل بنادیا ہے۔۔ جس میں یہ کھیل زیادہ تر لڑکے والوں کے گھر والے کسی کی بیٹی کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں۔اور وہ یہ سیاسی کھیل اپنے صبر سے ہی جیت سکتی ہے۔جس دن اس کے صبر نے جواب دیا۔۔ اس دن اس گھر میں اس کا آخر دن ہوتا ہے۔۔۔ شادی جیسے پاک رشتے کے ساتھ سیاسی کھیل کھیلنے والے یہ کیوں یاد نہیں رکھتے، یہ زندگی عارضی ہے اور حقیقی زندگی میں جاکر اللہ پاک کو کیا جواب دے گے۔۔۔ ایک عورت کا گھر خراب کرنے والی ایک عورت ہی ہوتی ہے۔ پر سوال یہ بھی ہے مرد کیوں نہیں ثابت کرپاتا کہ دوعوتوں کے درمیان میں اس کا عمل کیا تھا۔ اس نے کیوں اپنے کردار سے مثبت عمل کے ساتھ کام نہیں لیا۔ آج کا شادی کے بعد گھر ختم ہونا عام سی بات ہوگی ہے۔ ایک عورت کے لیے ایک چھت اور دووقت کی روٹی شادی کے بعد اتنی مشکل ہوجاتی ہے۔۔
ایک چار دیورای میں رہنے والے عورت کو مرد چھوڑتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتا آخر میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ جب یہ بڑے ہوئے گئے مجھے کن الفاظ میں یاد کرے گئے۔۔۔ ذرا سوچیں ان لڑکیوں کا کیا ہوتا ہوگا۔ جن کے سر پر ماں باپ نہیں ہوتے گئے۔ مرد کی یہ غلط سوچ ہے کہ اگر ایک عورت ہی دوسرے عورت کا گھر خراب کررہی ہے تو روزے قیامت والے دن اس سے سوال نہیں ہوگا۔ آج کل مرد کو خود نہیں معلوم اس کا مقام کیا ہے ورنہ پہلے کے وقت میں ایک ہی گھر میں مرد ایک اچھا بیٹا بھی ہوتا تھا ،اچھا بھائی بھی ہوتا تھا، اچھا شوہر بھی ہوتا تھا۔ مجھے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک خطرناک اور منفی تبدیلی طلاق کی شرح کے مطابق اسلامی تعلیمات سے دور ہونے کے سبب نظرآتی ہے۔
اگر شادی کے بعد ایک لڑکی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق حقوق دیے جائے۔۔ تو بہت سی گھر تباہ ہونے سے بچ جائے گے۔
ہمارے معاشرے میں اگر مرد چار شادی کے خواب کو چھوڑ کر صرف پہلے بیوی کو ہی عزت کے ساتھ ایک اچھی اور روشن زندگی دے تو اس کی آنے والی نسل کا بھی عمل اس کی پیروی کی مطابق ہی ہوگا۔ بے شک ایک مرد کا کام کمانا اور عورت کا کام اپنی گھر کی چار دیواری کے اندر کی ذمہ داری ہے۔ پر اس کی اس ذمہ داری کو محبت کے ساتھ دے۔ ایک عورت پوری زندگی ایک چھت اور دو وقت کی روٹی کے لیے بہت سے منفی عمل سے دو چار ہوتی ہے اور وہ منفی عمل صرف اپنے شوہر کی وجہ سے دیکھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی مرد ہیں جن لوگوں نے اپنی بیوی کو اپنی محبت سے ملکہ بنایا ہے۔ یہ کام وہ ہی مرد کر سکتے ہیں۔ جن کی پرورش ایک اعلی خاندان میں ہوئی ہو۔ پر افسوس اس طرح اچھے گھرانے بہت کم ہی موجود ہے۔ اللہ پاک منفی سوچ والے گھرنواں کو اپنے اعمال پر غورو فکر کرنے کی ہدایت دے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں