126

برطانیہ میں مقیم پاکستانی طلبہ نے ”کورونا ٹیسٹ رپورٹ“ کا مطالبہ مسترد کردیا

لندن: برطانیہ میں موجود پاکستانی طلبہ نے 21 مارچ (ہفتہ) سے پاکستان میں ہونے والے تمام مسافروں کے لیے کورونا وائرس کے طبی ٹیسٹ سرٹیفیکٹ کو لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پر برہمی اور مایوسی کا اظہار کردیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے 17 مارچ کو جاری ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے والے تمام تمام بین الاقوامی مسافروں کو بورڈنگ سے 24 گھنٹے قبل کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کی کاپی فراہم کرنا ہوگی۔
نوٹیفیکشن کے مطابق مذکورہ اقدام کا اطلاق 21 مارچ سے شروع ہوگا اورتمام غیرملکی مسافر بورڈنگ سے قبل طبی ٹیسٹ کی کاپی فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
علاوہ ازیں نوٹیفیکشن کے مطابق ’کورونا وائرس سے متلق طبی ٹیسٹ میں مسافر کا نام اور پاسپورٹ نمبر ہونا چاہیے اور پاکستان میں داخلے کے وقت اوریجنل ٹسیٹ رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوگی‘۔
برطانوی ہائی کمیشن نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ‘برطانیہ کے صحت کے اداروں نے کورونا وائرس کے میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے، پاکستان میں داخل نہ ہونے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہوگا، آپ کو اپنے سفری منصوبوں پر غور کرنا چاہئے’۔
پاکستانی حکام کی جانب سے حالیہ پیشرفت سے برطانیہ میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی طلبہ میں خوف پھیل گیا۔
دوسری جانب برطانیہ کی جامعات نے وائرس کے پیش نظر آن لائن کلاسیں کا آغاز کردیا ہے اور اپریل میں شروع ہونے والی ایسٹر کی چھٹیوں میں بہت سے پاکستانی اپنے اہل خانہ سے ملنے پاکستان واپس آتے ہیں۔
تاہم اگر کورونا کے طبی سرٹیفکیٹ کی شرائط پر انہیں پھنس جانے کا خدشہ ہے۔
سسیکس یونیورسٹی میں زیر تعلیم رافعہ سلیم نے سوال اٹھایا کیا پاکستانی حکام کو نہیں معلوم ہے کہ برطانیہ میں شہری کی ڈیمانڈ پر کورونا وائرس ٹیسٹ نہیں ہوتا اور صرف بیمار افراد کا ہی ٹیسٹ ہوتا ہے؟ دفتر میں بیٹھ کر اعلامیہ جاری کرنا آسان ہوتا ہے، کیا انہوں نے اس کے نتائج کے بارے میں سوچا؟۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ میں موجود پاکستانی طلبہ سخت پریشانی سے دوچار ہیں، کلاسز آن لائن ہورہی ہیں اور ایسٹر کی چھٹیاں بھی قریب ہیں، وہ پاکستان آنے کے لیے پریشان ہیں لیکن طبی ٹیسٹ کی شرط پر سخت نالاں ہیں۔
پاکستانی حکوم کے اعلامیے سے ان سیکڑوں طلبہ میں بے چینی پھیل گئی جنہوں نے 21 مارچ سے قبل پاکستان میں ٹکٹ خریدے تھے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ برطانیہ میں ٹیسٹ کا حصول قریب ناممکن ہے۔
برطانیہ میں کچھ نجی کلینک 345 سے 500 پاو¿نڈ (تقریباً ایک لاکھ روپے تک) میں کورونا وائرس کا طبی ٹیسٹ کررہے ہیں۔
لندن اسکول آف اکنامکس میں تعلیم حاصل کرلی والے شاہ بانو خان نے بتایا کہ طلبہ پہلے ہی بہت کم بجٹ کا شکار ہیں اور اس طرح کے ٹیسٹ کرانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کا ذریعہ برٹش ہائی کمیشن ہے جو کہہ رہا ہے کہ یہاں سرٹیفکیٹ نہیں ہیں، ہمارے حکام یہ فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟ انہیں یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ دوسرے ممالک کیا کررہے ہیں۔
لندن میں زیر تعلیم ڈاکٹر انعم نجم نے کہا کہ ٹیسٹ سرٹیفکیٹ کی خبر کا مطلب ہے کہ ہم پھنس گئے ہیں، پاکستانی حکام کو اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، ہم قرنطینہ کے مرحلے سے گزر کر اپنے ملک میں داخل ہوجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حلال کھانے پینے کی اشیا کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں مارکیٹیں بند رہیں گی۔ انہوں نے پاکستانی حکام سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔
دوسری جانب سی اے اے کے ترجمان ستار کھوکھر نے کہا کہ اتھارٹی اپنے فیصلے پر قائم ہے اور یہ آسان فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ یہ پریشانی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو برطانیہ اور کینیڈا سے سفر کرتے ہیں کیونکہ وہاں ہر ایک کے لیے طبی ٹیسٹ ممکن نہیں ہے لیکن ہمیں کچھ طلبہ کے خدشات کے مقابلے میں 20 کروڑ آبادی کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچنا ہے۔
علاوہ ازیں حیرت کی بات یہ ہے کہ برطانیہ میں وزیر اعظم کے ترجمان صاحبزادہ جہانگیرنے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام پوسٹ کیا کہ ‘طبی ٹیسٹ رپورٹ سے متعلق میں وزیر اعظم عمران خان اور زلفی بخاری کے ساتھ رابطے میں ہوں، یہ ایک بہت ہی غیر حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے اور جو پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں انہیں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یہ مشورہ دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اس فیصلے کو پس پشت ڈال دیا جائے گا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایسی ٹیسٹ رپورٹ کے بغیر سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں