کورونا وائرس کی دوسری لہر 181

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی کھیل

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی آج کل ہرپاکستانی عوام کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ جس کو حل کرنا موجود حکومت کے لیے مشکل ہورہا ہے۔ پاکستان کی موجود حکومت پہلے ہی بہت سے مسائل سے دو چار تھی۔ اور اب کرونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کے ملکوں کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ وہاں پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ لیکن پاکستان میں دن بہ دن بڑھتی ہوئی مہنگائی صرف ایک سیاسی کھیل کے اوپر انحصار کرتی ہے۔۔ وہ سیاسی کھیل جو مافیا کے ہاتھوں کھیلا جارہا ہے۔۔ پاکستان کے ہر ادارے میں ایک مافیا موجود ہے۔۔۔ جو ایک کرپٹ نظام کی پیداوار ہے۔۔۔ جب ہی موجود حکومت چاہتے ہوئے بھی اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ وزیراعظم بے شمار مرتبہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لے چکے ہیں۔ لیکن مہنگائی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے نوٹس لینے کو اب مذاق کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق ماضی کا جائزہ کرے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی لوگوں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے دوچارتھے۔ جیسا کے کچھ ایسے حکمران گزرے ہیں۔ کہ ان کے دور میں کوئی ایک چیز زیادہ مہنگی، ناپید یا نایاب ہوگئی تھی۔ جس کے سبب عوام کی صرف سے شدید غصے کا ردعمل سامنے آیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جوتے مہنگے ہوگئے تھے جس کے باعث عام آدمی یا غریب شہری جوتا خریدنے کی قوت سے محروم ہوگیا تھا۔ اکثر لوگ ننگے پاﺅں اپنی زندگی کو دھکے دے کر گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم اور مقبول ترین عوامی رہنما کو عوام جلسوں میں جوشیلے اور دھواں دھار خطاب کے دوران جوتے لہرا لہرا کر اس طرف توجہ دلانے کی کوشش کرنے لگے۔
ایک جلسے کے دوران بھٹو صاحب کی لہراتے ہوئے جوتوں پر نظر پڑ ہی گئی۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ چمڑا مہنگا ہوگیا ہے۔ اس کو اب سستا کریں گے۔ اس ہی طرح 1997 میں سابق وزاعظم نوازشریف کے دور میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی جس سے ملک میں آٹے کا بڑا بحران پیدا ہوگیا۔ آٹے سے محروم بھوکے عوام شیر آٹا کھا گیا شیر آٹا کھا گیا۔ کا نعرہ ایجاد کرلیا۔ اس طرح 2008ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والے آصف علی زرداری کے دور میں آلو بہت مہنگا ہو گیا تھا۔ جس کی قیمت 8 یا 10 روپے فی کلوگرام تھی۔ وہ ان کے دور میں فی کلو 70 سے 100 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ جس پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی اور 2008ءسے 2013ءتک پی پی پی کے 5 سال تک آلو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہی رہا تھا۔ سابق حکمرانوں کے دور کے میں بھی مہنگائی نے اپنے رنگ مختلف انداز میں دکھائے تھے۔
پاکستان کی تاریخ کاجائزہ کرو تو کچھ اچھے دور بھی نظر آتے ہیں جب مہنگائی کا عوام پر راج نہیں تھا۔ وہ دور ایوب خان کے بعد جنرل پرویز مشرف کا دور تھا۔ جب پاکستان کے ہر مسائل کو حل کرنے پر ٹھوس اقدامات کیے گئے تھے۔ لیکن اب موجود حکومت کا پہلا ہی اہم مسئلہ کرپشن ہے۔ اس کرپشن کو عروج پر لے کر آنے والی کچھ سیاسی جماعتوں ہیں جو اگر اپنا سیاسی کھیل نہ کھیلے تو یہ کرپٹ مافیا قابو میں آجائے گا۔ پاکستان کا کمزور نظام کرپشن کے ہاتھوں مجبور ہے اور کرپشن کی وجہ سے غربت اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول دن بہ دن دشوار ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان کے سارے مسائل کی بنیادی جڑ کرپشن ہے اور کرپشن سے نمٹنا کسی بڑے چیلنج کم نہیں ہے۔ اب سوال یہ بھی ہے کرپشن جیسا عذاب ختم کرنا کیسے ممکن ہوگا۔ کرپشن ایک ہی صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب ایک عام آدمی اس بات کو سمجھ جائے گا کہ مجھے اپنا ووٹ دوسو کی نظر نہیں کرنا۔ صرف ایک بریانی کی پیلٹ میں کرپٹ لوگوں کے جلسوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا ہے۔ جس دن پاکستانی عوام کے کو یہ بات سمجھ آجائے گئی کہ وہ ایک کرپٹ نظام کے غلام ہے جس میں ہر دوسرا تیسرا آدمی اس کرپٹ نظام کا شکار بناہوا ہے اور اپنے ضمیر کو اپنے کی ہاتھوں سے قتل دیا ہے۔
اس وقت عوام کو اس بات کے شعور ہونا چاہیے اگر کوئی پاکستان کے حق میں مخلص ہے تو ان کے بچے اور ان کی مال و دولت دوسرے ملک میں کیوں ہیں۔ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم بننا چاہیے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ساری دولت پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے خرچ کرے اور مستقل طور پر پاکستان میں اپنی فیملی کے ساتھ رہیں ہے۔ ایمان دار حکمران کے ساتھ عوام کو اپنے ذات سے وابستہ معالات کو بھی دیکھنے کی اہم ضرورت ہے۔۔مدینہ کی ریاست جب ہی قائم ہوگی۔ جب ہر پاکستانی اپنے ضمیر کی آواز سنے گا اور اس کرپٹ نظام کے خلاف کھڑا ہوا ہوگا۔ اس کرپٹ نظام سے اپنے شہری حقوق کے بارے میں پوچھے گا کہ بار بار حکومت میں آکر عوام کےحقوق کے لیے کام کیا ہے، مدینہ کی ریاست سب کے مثبت عمل سے ہی قائم ہوگی۔
اللہ پاک پاکستانی عوام کوعقل شعور کی دولت سے نوازے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں