Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 87

جنگ یرموک

جنگ یرموک مسلمانوں کے لئے ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔یہ چھ دنوں کی فیصلہ کن جنگ 15 اگست سے 20 اگست 636 ئ تک لڑی گئی۔ 15 سے 20 اگست دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 20 اگست کا دن بہت ہی اہم اور فیصلہ کن تھا ۔اس دن کی جرات اور شجاعت کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کیونکہ اس فتح کے بعد مزید فتوحات حاصل کرنا اور اسلامی سلطنت کو وسیع سے وسیع تر کرنا بہت آسان ہوگیا تھا۔ اس جنگ کے سپہ سالار خالد بن ولید اس طرح بنے کہ جب مختلف فتوحات حاصل کرتے ہوئے یہ لشکر خالد بن ولید کی سربراہی میں دریائے یرموک کے کنارے پہونچا جہاں مزید اسلامی فوج شامل ہوچکی تھی جو کہ چار دستوں پر مشتمل تھی خالد بن ولید نے بقیہ چاروں دستوں کے سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ، عمرو بن عاص رضی اللہ، شرجیل بن حسنہ رضی اللہ، اور یزید بن ابو سفیان کو یہ تجویز پیش کی کہ ہمیں اپنے اپنے دستوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ لڑنے کے بجائے ایک سپہ سالار بنادینا چاہئے اور پورے لشکر کو ایک سپہ سالار کی سربراہی میں لڑنا چاہئے اور ہم دشمن کا مقابلہ اسی صور ت میں کرسکتے ہیں اس تجویز سے سب نے اتفاق کیا اور باہمی رضامندی سے خالد بن ولید کو ہی اس لشکر کا سربراہ بنادیا گیا۔
یہ جنگ رومن ایمپائیر کے خلاف یرموک کے مقام پر لڑی گئی جہاں دریائے یرموک اردن اور شام کی سرحد کے ساتھ ساتھ بہہ رہا ہے اور یہ دریا اردن اور اسرائیل کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔یہ جنگ انسانی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور ایک ایسی فیصلہ کن جنگ کہلاتی ہے جسے اسلامی عظیم فتوحات کی ابتدا کہا جاتا ہے۔ خالد بن ولید کا نام اسلامی تاریخ میں بہادری اور شجاعت میں ایک مقام رکھتا ہے اور حضور صلّ اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے حضرت عمر فاروق{ؓ کے زمانے تک خالد بن ولید اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب سپہ سالار مانے جاتے ہیں۔خالد بن ولید 592ءمیں قریش کے قبیلے میں پیدا ہوئے مسلمان ہونے اور صلح حدیبیہ کے بعد ہمارے نبی حضور صلّ اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ شامل ہوگئے اور سو سے زیادہ جنگیں بڑی کامیابی سےجیتے۔
ہمارے نبی کے انتقال کے بعد حضرت ابو بکر ضدّیقؓ کے ساتھ شامل ہوگئے۔حضرت ابو بکر صدّیقؓ کے خلیفہ بنتے ہی عرب کے کئی قبیلے ان کے خلاف ہوگئے اور ان کی خلافت کو قبول نہیں کیا لہذا 632ءمیں حضرت ابو بکر صدّیق کو ان کے ساتھ جنگ کا اعلان کرنا پڑا اور اسی سال بہت کامیابی سے ان شر پسندوں کو شکست دے دی گئی پھر اسلامی فتوحات اور اسلامی سلطنت کو مزید آگے بڑھانے کے لئے قدم اٹھایا گیا اور عراق سے ابتدا کی گئی ۔عراق کو فتح کرنے کے بعد ہی یرموک کا معرکہ شروع ہوا۔خالد بن ولید کو سپہ سالار تسلیم کرلینے کے بعد خالد بن ولید نے فوج کو دوبارہ منظّم کیا۔دریائے یرموک کے سامنے ایک صف بنائی گئی۔الٹے ہاتھ پر آدھی فوج کے درمیان کی کمانڈ ابو عبیدہ بن الجراح اور سیدھے ہاتھ دس دستے شرجیل بن حسنہ کی کمانڈ میں تھے۔اور الٹے ہاتھ دس دستے یزید بن ابو سفیان کے حوالے تھے۔رومیوں نے بھی منظّم طریقے سے صف آرائی کی ہوئی تھی۔بقیہ فوج کی کمانڈ عمرو بن عاص کے حوالے کردی گئی۔جولائی 636ءکو رومن بادشاہ نے اپنے ایک سپہ سالار جبلہ کو ساٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ یہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا کہ مسلمانوں کی فوج کی تعداد کیا ہے لیکن خالد بن ولید کے دستے کے سب سے آگے کی قطار کے سپاہی جن میں ساٹھ وہ فوجی بھی تھے جو حضور کے شانہ بشانہ جنگیں لڑ چکے تھے انہوں نے ان عیسائی سپاہیوں کو پسپا کردیااس کے بعد اگلے ایک مہینے تک رومن بادشاہ نے ہمت نہیں کی۔ایک مہینے بعد رومن فوجیوں نے وادیءالرّقاد کے شمال میں اپنے خیمے گاڑ دئیے اور انہوں نے یرموک سے مصر تک کو قبضے میں لینے کا منصوبہ بنایا چونکہ ان کی فوج میں عرب یونانی آرمین سب شامل تھے فوج کو دو حصّوں میں بانٹا گیا ایک کا کمانڈر گریگوری اور دوسرے کا قناطیر تھا بیچ میں ڈیرجان اور آرمیین فوجیں تھیں اور رومن فوجیوں کوچاروں ڈویڑ ن میں برابر برابر تقسیم کیا گیا۔اگلی قطار گیارہ میل لمبی تھی کمانڈر ووہان نے جبلہ کی عرب عیسائی فوج وہاں لگائی جو کہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے تمام فوج سے حلف لیا گیاکہ جنگ میں ماردئیے جائیں گے مگر بھاگیں گے نہیں اور نا ہی ہتھیار ڈالیں گے لیکن جلد ہی رومن فوج میں پھوٹ پڑ گئی۔
عرب یونانی اور آرمینی کو ایک دوسرے پر اعتماد نا رہا جس کی وجہ سے ان کی پیش بندی کمزور پڑ گئی یہ دیکھ کر رومن شہنشاہ نے اپنے سپہ سالار کو ہدایات دیں کہ مسلمانوں سے مفاہمت کا تمام طریقہ کار اپنایا جائے کیونکہ اس کی معاون فوجیں پوری طرح سے تیار نہیں تھیں۔ووہان نے گریگوری اور پھر جبلہ کو مسلمانوں سے مفاہمت کے لئے روانہ کیا لیکن وہ ناکام و نامراد واپس آگئے جنگ سے پہلے ووہان نے خالد بن ولید سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس ملاقات کا بھی کوئی نتیجہ نا نکلا جس کی وجہ سے جنگ ایک مہینہ اور پیچھے چلی گئی۔دوسری طرف حضرت عمرؓ کی فوجیں قدیسیہ میں رومن فوجیوں سے بھڑی ہوئی تھیں انہوں نے حضرت سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا کہ امن کی بات کی جائے انہوں نے رومن سرداروں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی لیکن اس سے صرف جنگ میں دیر ہوئی حضرت عمر نے چھ ہزار فوجی جن میں زیادہ تر یمنی تھے مزید یرموک بھجوادئیےجن میں ایک ہزار صحابہ کرام اور سو جنگ بدر کے غازی شامل تھے انہوں نے ہر مقام پر تھوڑے تھوڑے فوجی بڑھانا شروع کئے رومن بادشاہ نے یہ سوچ کر کہ اس سے پہلے کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے حملہ کرنے کا حکم دے دیا پندرہ اگست 636ءکو دونوں فوجیں نور کے تڑکے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تن گئیں۔
اس سے پہلے کہ جنگ شروع ہوتی دشمن کی فوج کا ایک کمانڈر جارج اسلامی لشکر کے پاس چلاگیا اور مسلمان ہوگیا اور اسی دن اس جنگ میں شہید بھی ہوگیا جنگ کا پہلا دن پندرہ اگست شمشیر زنوں اور نیزہ بازوں کا مقابلہ ہوا اور زور آزمائی کے مقابلے ہوئے کئی نامور کمانڈر مارے گئے تمام دن فوجیں ایک دوسرے کی چالوں کو سمجھنے کی کوششیں کرتی رہیں دوسرے دن سولہ اگست کو دشمن نے صبح فجر کے وقت حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن خالد بن ولید نے دشمن سے نمٹنے کا پہلے سے ہی انتظام کیا ہوا تھا رومن فوج بھاری نقصان کے بعد پلٹ کر واپس چلی گئی۔تیسرے دن ووہان بہت آرزدہ تھا کہ اس کا ایک بہترین کمانڈر مارا جاچکا تھا اس نے سوچا کہ ٹکڑیوں میں حملہ کرکے مسلمانوں کو بکھیر دیا جائے اس دن کی جنگ میں دونوں فوجوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا چوتھے دن کی جنگ میں ابو سفیان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور اکریمہ ابی جہل جو کہ خالد بن ولید کے بچپن کے دوست تھے شہید ہوگئے ۔پانچویں دن یعنی انیس اگست کو دشمن کی طرف سے یہ درخواست ہوئی کہ کچھ دن کے لئے جنگ بندی کی جائے اور اس دوران صلح کی بات کی جاسکے ابو عبیدہ تقریبا” راضی ہوچکے تھے لیکن خالد بن ولید نے صاف انکار کردیا اور قاصدوں سے کہلوادیا کہ ہم جلد سے جلد اس جنگ کو فتح کرنا چاہتے ہیں لہذا پانچواں دن بغیر کسی جھڑپ کے گزر گیا اور چھٹے دن فیصلے کی گھڑی آگئی بیس اگست 636ءکو جنگ شروع ہوئی اور جلد ہی آرمینن شہزادہ ووہان مارا گیا دشمن کے پیر اکھڑ گئے اور خالد بن ولید کی جانب سے مسلا نوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔اس کے بعد دشمن کی فوج کسی بھی مقام پر مسلمان فوج کا مقابلہ نا کرسکی اور کچھ ماہ بعد ہی شام کا پورا علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا اور اس کے بعد مسلمان مسلسل فتوحات حاصل کرتے چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں