عورت، پنکھا، لاش اور وہی ہم سب!! 108

شہرت سے بہتر حقہ!

اکثر جب مجھے کسی ٹی وی چینل سے کسی پروگرام کو ہوسٹ کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو مجھے ایک بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ اتنے ڈھیر چینلز ہیں اور اتنے ہی ڈھیر پروگرامز۔ اتنی افراتفری ہے، بھاگم بھاگ، لگتا ہے کوئی بے انت ریس ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بھاگ رہا ہے۔ پیچھے کوئی بچا ہی نہیں۔ کیسی دوڑ ہے؟ کیسی ریس ہے؟ کچھ پلے پڑتا ہی نہیں۔ بس سب بھاگ رہے ہیں اور ان سب سے تیز وقت بھاگ رہا ہے تو میں پروگرام میں دکھاو¿ں گی یہ دوڑ؟؟؟
سماجی مسائل پہ پروگرام کرنے کا سوچوں تو میری بہت اچھی دوستیں ان مسائل پہ پہلے سے ہی اتنے شاندار پروگرامز کر رہی ہیں۔ میں خود نیا پروگرام شروع کرنے کی بجائے کیوں نہ ان کا پروگرام دیکھنے کیلئے وقت نکالوں۔ انھیں سن لوں۔
پچھلے ہفتے نشے پہ کالم لکھا تو نشوں کی کچھ اقسام پہ بات ہوئی لیکن وقت کی قلت اور مضمون کی طوالت کے باعث بات مکمل نہ ہوپائی۔ اور یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ایسے تیز ترین وقت میں مجھ جیسے سست رفتار بات تک پوری نہیں کرپاتے۔ اور دنیا ہے کہ ہر ساعت مکمل ہوئی جاتی ہے۔
فی زمانہ شہرت بھی ایک شدید قسم والا نشہ ہے، تھا تو ہر زمانے میں ہی۔ بچپن میں کبھی ریڈیو اسٹیشن پہ جاکے ملی نغمے کی ریکارڈنگ کرا لینا، کیسی بڑی عظیم کامیابی ہوتی تھی، ٹیلی وژن تک رسائی کی کوئی سبیل تھی ہی نہیں۔ اور ریڈیو پاکستان کے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے لئے کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے تھے۔ سلیکشن سے لے کر ریکارڈنگ کے درمیانی وقت میں خبر آتی تھی کہ پروگرام کینسل ہوگیا۔
آج جس کو رونا بھی ڈھنگ سے نہیں آتا، وہ اپنا چینل بنا کے دن رات گا رہا ہے، سننے والے کوئی ہوں نہ ہو۔ جن میں ٹیلنٹ ہوتا ہے وہ افراتفری سے دور کہیں دور وادیوں میں بانسری بجاتے ہوں گے اور بجانی بھی چاہئے۔
جن کو لکھنا آئے نہ آئے وہ لکھ رہے ہیں اور دبا کے لکھ رہے ہیں اور مزے کی بات لوگ پڑھیں نہ پڑھیں داد ضرور دے رہے ہیں، جیسے بڑے بڑے مالز میں ایلویٹر اور ایسلیٹر کی بدولت کئی کئی منزلیں بلا محنت کے طے ہوجاتی ہیں، آج کے دور میں شہرت کا بھی یہی معیار ہے اور جیسے ہر کوئی مالز میں جاکے وقت گزار کے واپس آجاتا ہے، یہ بنا ٹیلنٹ کی شہرت کا دورانیہ بھی شاید اتنا ہی ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کے لئے آسانیاں کیں، ہر کسی کو مشہور ہونے کی مفت/سستی سہولت دستیاب ہوئی تو معیار بھی انتہائی مفت/سستا ٹائپ ہوگیا۔ ہر جگہ یہی محسوس ہوتا ہے لیکن نہ تو کسی کے پاس سدھارنے کا وقت ہے، نہ بتانے کا کہ سدھر جاو¿۔ بنا ٹیلنٹ کی شہرت سے بہتر ہے کہ بندہ حقہ پی لے، کچھ تو اندر جاتا ہے اور اثر بھی چھوڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں