صُلح صفائی
یہ حادثاتِ زمانہ یہ واقعاتِ عالم
نظام ہست بالآخر بدل نہ جائے کہیں
یہی ہے صُلح صفائی کا وقت مولا سے
کہ تیرے ہاتھ سے یہ پل نکل نہ جائے کہیں
417
417
صُلح صفائی
یہ حادثاتِ زمانہ یہ واقعاتِ عالم
نظام ہست بالآخر بدل نہ جائے کہیں
یہی ہے صُلح صفائی کا وقت مولا سے
کہ تیرے ہاتھ سے یہ پل نکل نہ جائے کہیں