امریکہ کی طاقت اور پاکستانیوں کی خام خیالی 57

طالبان جہاں تھے، وہاں ہی ہیں

اگر آپ آج کل کے غلغلے سن کر یہ سوچتے ہوں کہ طالبان ایک بار کسی عالمِ بالا سے اتر کر اچانک پھر سے افغا نستان میں نمودار ہو گئے ہیں ، تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طالبان کبھی کہیں نہیں گئے تھے۔ وہ فرشتوں کی طرح (بعضوں کے ایمان کے مطابق )، یا شیاطین کی طرح ( ایمان سے عاری لوگوں کے مطابق)، ہمیشہ اہلِ افغانستان کے کاندھوں پر اور پاکستان کے بھولے بھالوں کے سروں پر مسلط تھے۔ گزشتہ کئی سالوں سے وہ کبھی اپنے استاد اوسامہ بن لاد ن کے ساتھ ایبٹ ا?باد میں ، اور کبھی کوئٹہ میں ملائکہ کی یا شیاطین کی مجالس ہائے شوریٰ منعقد کرتے رہے تھے۔
انہیں نہایت روادار اور مہمان نواز میزبان میسر تھے جو ان کی حتٰی الوسع میزبانی کرتے تھے۔ اور کرتے رہیں گے۔ یہ میزبان کون ہیں ان کا راز صرف وہ علیم و خبیر جانتا ہے ، جو عالِم الغیب اور شہادہ ہے۔ ہاں اگر آپ کی رسائی جنرل اسلم بیگ جیسے معتبرین تک ہے تو وہ آپ کی معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں کہ وہ تو واقفِ رازِ دروں بھی ہیں۔ ایسی صورت میں طالبان کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ گزشتہ دس بیس سال میں افغان میں کیا ترقی ہوئی یا نہیں۔ وہ تو صرف اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھاتے رہے ہوں گے کہ ٹھیرو، آگے چلیں گے دم لے کر۔
افغانستان میں طالبان کی کہانی کو سمجھنے کے لیئے آپ کو اب سے تقریباً نصف صدی پہلے کی افغان تاریخ پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہوگی۔یہ کہانی 911 سے کہیں پہلے کی ہے۔ سنہ 73 میں افغانستان دوسرے مسلمان ملکوں کی طرح ایک مخلوط ثقافتی معاشرہ تھا۔ جہاں کابل کی حد تک یا ایک یا دو اور بڑے شہروں میں شہری کچھ آزاد خیال تھے، خواتین پڑھتی بھی تھیں، ڈاکٹر بھی بنتی تھیں، فوج میں مشق بھی کرتی تھیں۔ لیکن بڑے شہروں سے باہر قدامت پرست اسلامی خیالات کا غلبہ تھا۔ یہ قدامت پرستی تقریباً سب ہی افغان مسلمانوں کے مزاج میں رچی ہوئی تھی۔
سنہ 73 میں آخری افغان باشاہ، ظاہر شاہ کا تختہ، ان کے عم زاد محمد داﺅخان نے، الٹ کر صداتی نظام قائم کر دیا اور خود بادشاہ بن گئے۔ اس زمانے میں افغانستان میں سویٹ روس کا اثر بڑھ رہا تھا۔ داﺅد خان نے اس کو روکنا چاہا، اور اس کے لیئے مغربی طاقتوں اور سعودی عرب وغیر ہ کی طرف جھکاﺅ بڑھا دیا۔ ان کے دورِ حکومت میں ، افغان عوامی جمہوری پارٹی کا اثربڑھا جو نظریاتی طور پر ایک مارکسسٹ، لیننسٹ، کمیونسٹ جماعت تھی۔ اس جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر اور اس کے پاکستانی پشتونوں کی حمایت کے نتیجہ میں پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے ، پاکستان کی جاسوسی ایجنسی ISI کے ذریعہ ان قدامت پرست اسلامی گروہوں کی حمایت شروع کردی جو داﺅد خان کے خلاف باغیانہ کاروائی کرنے لگے تھے۔ بھٹو کے اس عمل کا پس منظر پاکستان میں ان کے قریبی ساتھی حیات محمد شیر پاﺅ کا قتل تھا۔
سنہ 78 تک آفغان عوامی جمہوری پارٹی کے کمیونسٹ حلقوں نے زور پکڑنا شروع کیا اور اسی سال ، نور محمد تراکی، حفیظ اللہ امین، اور ببرک کمال کی قیادت میں صدر داﺅد کا تختہ الٹا گیا اورصدر داﺅد اور ان کے اہلِ خانہ کو قتل کردیا گیا۔ (بعض خبروں کے مطابق ان کی لاش کسی گمنام قبر میں دفن کر دی گئی تھی۔ سنہ 2008 میں ان کی لاش تلاش کرکے، حامد کارزئی کے دورِ حکومت میں ان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ ان کی شناخت کا ثبوت اس سنہری قرآن کی صورت میں ملا جو کبھی انہیں سعودی بادشاہ نے دیا تھا۔)
ہم نے اب سے پہلے لکھا کہ افغانستان میں اسلامی گروہوں یا باغیوں کی حمایت بھٹو کے زمانے میں آئی ایس آئی کے ذریعہ شروع ہوئی تھی۔ افغان کمیونسٹ انقلاب کے فوراًہی بعدامریکی صدر کارٹر نے امریکی جاسوسی ایجنسی CIA کے تحت Operation Cyclone کے خفیہ پروگرام کے تحت افغانستان کے اسلامی مزاحمت کاروں کی مدد شروع کی۔،جو مجاہدین کہلاتے تھے او،ر انہیں رقوم اور وسائل پہنچانے کا کام پاکستانی ISI کے ذریعہ کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت قدامت پرست اسلامی گروہوں کی سررپرستی کی گئی جن کو پاکستان کے صدر جنرل ضیاالحق کی حمایت حاصل تھی۔ اس عمل میں افغان کمیونسٹوں کے خلاف ان مزاحمت کارو ں کو نظر انداز کیا گےا، جو نسبتاً کم نظریاتی قدامت پرست تھے۔
بعد میں امریکی صدر ریگن نے اس پروگرام کو اور مہمیز دی۔ اس پروگرام کے تحت امریکہ نے اس افغان جنگ میں پاکستان کو تقریباً دس ارب ڈالر کی مددمختلف مدوں میں دی گئی۔ اس کے علاوہ اسے تقریباً بیس ارب ڈالر کی رقم مجاہدین کی تربیت کی مد میں فراہم کی گئی۔پھر ان ہی سب اسلامی گروہوں نے طالبان کا روپ اختیار کیا۔ ان کے دورِحکومت میں کیا ہوا ، یہ آپ خوب جان گئے ہوں گے۔ان کے عروج و زوال و عروج کے ہر عرصہ میں انہیں کس کی مدد حاصل رہیِ؟ یہ بھی اب آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
ہاں یہ بھی ذہن رہے کہ جب سے صدر ٹرمپ نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے اور طالبا ن سے قطر میں معاہدہ کرنے کا رادہ کیا تھا۔انہوں نے اس معاملے میں پاکستانی تعلقات کو استعمال کیا۔ اس حد تک کہ خود افغان حکومت کو ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ موجودہ صدر بائڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی امریکی افواج کی واپسی تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے سالہا سال سے دیکھ لیا تھاکہ اربوں کھربوں ڈالر کے اخراجات بھی ، راسخ ترین افغان قدامت پرستی کو نہیں بدل سکتے۔ امریکی رائے عامہ ان کے اس فیصلہ کے حق میں ہے۔ بد انتظامی کی البتہ شکایت ہوتی رہے گی۔
اب آپ خود ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ طالبان کہیں نہیں گئے تھے، وہ وہیں ہیں جہاں و ہ تھے۔ ہاں ان کے روپ بہروپ بدلتے رہے ہیں۔ ہم نے تو اب افغانستان میں قتل و غارت گری کو ایک عام عمل سمجھ لیا ہے۔ جب علامہ اقبال نے یہ لکھا ہو گا کہ’، غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم ‘، تو شاید ان کی نظر میں غزنوی، اوسامہ بن لادن، او ر ملا عمر ضرور رہے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں