امریکہ کی طاقت اور پاکستانیوں کی خام خیالی 158

عورتوں کا میدانِ قتل ۔ پاکستان

اس سے قبل کہ اس تحریر کا صرف عنوان ہی پڑھ کر ہم پر ملک دشمنی، اسلام دشمنی، یا لبرل فاشسٹ ہوے کا الزام لگے، (یہ اصطلاح پاکستا ن کے ایک نامو ر صحافی زور و شور سے پھیلاتے ہیں، جو خود ایک بحث کی طالب ہے)، ہم واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کی دشنام طرازی بقولِ فیض، انعام ہی تو ہے۔ ہم نے میدانِ قتل کی اصطلاح افسردہ اور بوجھل دل کے ساتھ استعمال کی ہے۔ یہ اصطلاح اب سے پہلے کمبوڈیا میں استعمال ہوئی تھی، پھر افغانستان میں، کردستان میں، آرمینیا میں، اور جگہہ جگہہ۔
آج یہ اصطلاح ہمیں پاکستان میں ایک نوجوان خاتون، نور مقدم کے بھیانک اور سنسنی خیز قتل کے بعد یاد آئی۔ اس قتل کے ملزم کا تعلق پاکستان کے ایک نہایت ہی با عزت خاندان سے ہے، اور اس کے اجداد پاکستان کے اولین محسنوں او ر قائدِ اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔ آج بھی اس خاندان کی شرافت کی گواہی دی جاتی ہے۔ اس خاندان کے ایک ناخلف فرد نے جو رکیک جرم کیا ہے اس کی سزا مکمل عدالتی کاروائی اور شہادتوں کی بنیاد پر ہوناچاہیئے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمار ا قانون اس کے لیئے سخت ترین سزا ہی دے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں روز روز خواتین کا قتل کیوں ہوتا ہے۔ خواتین پر تشدد کیوں کیا جاتا ہے۔عزت کے نام پر قتل کیوں ہوتے ہیں۔ لڑکیاں ، اس مملکت ِ خدا دا د میں کم تر درجہ کی شہری کیوں ہیں۔ ان کے حقوق کم تر کیوں ہیں۔ ان کے حق میں صرف آوازہی اٹھانے والوں کو بعض محترم صحافی ، ”لبرل فاشسٹ “ کیوں گردانتے ہیں۔ نور مقدم کے قتل کی بات کرتے وقت، معروف ڈرامہ نویش، خلیل الرحمان قمر، یہ بیان کیوں ٹوئیٹ کرتے ہیں کہ، ” اب ہمارے تفتیش کاروں کو سوچنا ہو گا کہ، جب بھی Feminists کا ’غلیظ بیانیہ‘ دم توڑنے لگتا ہے تو ایک بیچاری نور مقدم کیوں مر جاتی ہے۔ اور ایک بھیڑیا ظاہر جعفر ، کیوں ظاہر ہو جاتا ہے۔ “۔۔۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم سب ملکرمن حیث القوم، ایسی اصطلاحیں اور ایسے بیان پڑھ کر داد ودہش کی بارش کیوں کرتے ہیں۔
جب آپ اس بارے میں سوچ رہے ہوں تو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے وہ بیان یاد رکھیں، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں عورتوں کا زنا بالجبر اس وجہہ سے ہوتا ہے کہ وہ بازاروں میں اپنی نمائش کرتی پھرتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے مردوں اور نوجوانوں میں ایسی خواتین کو دیکھ کر جنسی اشتعال پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ کوئی عمران خان سے یہ پوچھیں کہ نور مقدم کے قتل کے آس پاس ہی ایک غریب بھکارن کو اجتماعی زنا بالجبر کے بعد اس کے بچے کے ساتھ کیوں قتل کر کے پھینک دیا گیا۔ وہ تو اشتعال انگیز لباس نہیں پہنے ہوئے تھی۔ ایسا پاکستان ہی میں کیوں ہوتا ہے کہ ایک خاتون، خدیجہ صدیقی، پر دن کی روشنی میں چھری سے بیس وار کرکے زخمی کرنے والا سزا یافتہ مجرم ، عمدہ کردار کی بنیاد پر جلد رہا کیوں کردیا جاتا ہے۔ کیا صرف اس لیئے کہ وہ ایک معروف وکیل کا بیٹا ہے جو قانونی مو شگافیوں کا ماہر بھی ہے، اور اشرافیہ سے تعلقات کا حامل بھی۔
کیا کوئی ہے جو، عمران خان کو، ان کے حواریوں کو ہمارے قابلِ صد احترام علمائے کرام کو یہ باور کرائے ابھی چند ہی روز پہلے کراچی میں ” غوث پاک” کے علاقہ سے ایک چھ سالہ بچی کو اغوا کیا گیا۔ پھر اس کی لاش کورنگی کے علاقہ زمان ٹاﺅن سے ملی۔ اس کے ساتھ بے دردی سے زنا کیا گیا تھا۔ اس کے نازک اور دریدہ بدن کے کئی حصوں پر، زنا بالجبر اور اغلام بازی کے زخم ملے۔ کوئی عمران خان کو یہ بھی باور کرائے کہ آپ لاکھ ریاستِ مدینہ کا رالاپتے رہیں۔ نہ تو پاکستا ن کےوحشی ،ریاستِ مدینہ کا احترام کرتے ہیں۔ نہ ہی غوثِ پاک کی حرمت کا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے علما میں غوثِ پاک کے ماننے والے بھی ہوں گے ، لیکن ہمیں اب تک تو ان کی طرف سے کوءمذمت کا بیان نہیں ملا۔ شایدکسی کو زمان ٹاﺅن کے عسرت زدہ محلے کا نام سن کر خان صاحب کا زمان پارک بھی یاد آٰیا ہو گا جہاں وہ ناز و عشرت میں پروان چڑھے تھے۔
ہمیں یقین ہے کہ عزت مآب وزیرِ اعظم ِ پاکستان نے پاکستان کے ایک موقر جریدے ( زور پاکستانی جریدے پر ہے) کے وہ اعدا و شمار بھی دیکھے ہوں گے جن میں کہا گیا ہے کہ، ” گزشتہ سال پاکستا ن کے ہر صوبے میں روزانہ آٹھ پچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ ان کی کل تعداد میں سے تقریباً ایک ہزار کے ساتھ اغلام بازی کی گئی تھی۔ آٹھ سو کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا تھا۔ اسی80 کو جنسی تشدد کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ظلم کے شکار ان بچوں میں لڑکیوں کی اکڑیت تھی۔
یہ سطور لکھتے لکھتے ہمیں ساحر کی ایک نظم کا ایک اقتباس یاد آگیا:
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی، یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی، پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں، بلاو¿ خدایان دیں کو بلاو¿، ثناخوان تقدیس مشرق کو لاو¿
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
ایسا پاکستان ہی میں کیوں ہوتا ہے کہ مولانا اسرار احمد جیسے جید علما، اسلام میں، ’وما ملکت ایمانکم ‘ کی تفسیر بیا ن کرتے وقت کنیزوں کے وجود اور ان سے جنسی تعلقات کو جائز بھی بتاتے ہیں اور آیندہ ایسا ہونے کے امکان کا جواز بھی ہیش کرتے ہیں۔ ان کا جواز یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کی جنگوں کے نتیجہ میں اگر مرد و زن قبضہ میں آئیں تو ایسے جنگی قیدیوں کے انتظامات کا بہترین حل ان کو غلام اور لونڈی بنانا ہے۔
مولانا کی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ گزشتہ برسوں میں ، ریاستِ اسلامی کے ہاتھ لگی ان خواتین کی جنسی نیلامی کوبھی یاد رکھیں جو موجود زمانے ہی کی حقیقت ہے۔ یہاں ہمارا اشارہ طنز یا کنائے میں بھی عمران خان کی ’خیالی‘ ریاستِ مدینہ کی طرف ہرگز نہیں ہے۔ وہ ریاستِ مدینہ جو حضورِ اکرم، یا خلفائے راشدین کے بعد آج تک کسی بھی اسلامی ملک میں کبھی قائم نہ ہو سکی۔
اگر آپ عمران خان یا پاکستان کے کروڑوں شہریوں سے عورتوں کے قتل ، زنا بالجبر، اور ان کی ہر ہر لمحہ پر، حق تلفی کی بات کریں گے تو وہ آپ کو جو گھسی پٹی دلیلیں دیں گے، وہ آپ کو مطمئن کردیں تو یہ آپ کا اور آپ کے ضمیر کامعاملہ ہے۔ دلیلیں یہ ہوں گی۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیئے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں دیئے تھے۔ جو بچیاں پیداہوتے ہی زندہ در گور ہو جاتیں تھی اب کہاں ہوتی ہیں۔ عورت پر مر د قوام ہیں۔ وہ برقعہ اور چار دیواری ہی میں محفوظ ہیں۔ اگر ان کا منصب شادی کے بعد بچے پیدا کرنا ، میاں کے بوٹ صاف کرنا، اور گھر داری کرنا ہے تو ان کی تعلیم پر اخراجات کا کیا فائدہ۔ اسلام جب ان کو حقوق دے ہی چکا ہے ،تو ہم خدا سے زیادہ کوئی حق کیسے دے سکتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
اگر ہم جیسا کٹ حجت عمران خان سے دلائل پر بات کرے گا تو وہ فرمائیں گے کہ، اے میاں ملک دشمن تم کو پاکستان ہی کیوں یاد آتا ہے، کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ مغرب میں اور امریکہ میں روزانہ اپنی برہنگی ہی کی وجہہ سے ہزاروں کی تعداد مییں زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ یہ مغربی میڈیا پر بھی بار بار دہراتے ہیں۔ہم صرف یہ کہہ کر چلتے ہیں کہ ، مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے۔ جب تک اس طرح کی کٹ حجتی ہوتی رہے گی پاکستان عورتوں کا میدانِ قتل ہی رہے گا، اور اب تو طالبان اور اسلامی ریاست بھی واپس آرہے ہیں۔ اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواﺅ گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں