عماد زبیری کون ہیں؟ جاسوس یا فراڈ؟ 40

عورت مارچ مسلسل ہے

کل عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ہمیںمیلنڈا گیٹس Melinda Gates کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ ایک ارب پتی خاتون ہیں اور انہوں نے مائیکروسوفٹ کے بانی بِل گیٹس Bill Gates کے ساتھ مل کر پچاس ارب ڈالر سے زیادہ رقم کی ایک خیراتی فاﺅنڈیشن قائم کی ہے۔ جس کا بنیادی مقصد، دنیا بھر میں ٹیکوں کے ذریعہ پولیوکا خاتمہ کرنا، پسماندہ ممالک میں عورتوں کی صحت کے وسائل فراہم کرنا، خواتین کی تعلیم میں مدد کرنا ، اور خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ادارہ مختلف ممالک میں حکومتوں کی اجازت سے مقامی رضا کار اداروں کے ذریعہ وہاں کی معاشرت اور ثقافت کو مدِّ نظر رکھ کر امدادی کام کرتا ہے۔
انہوں نئے گزشتہ چند سال پہلے اپنے اس ادارے کے لیئے دنیا بھر میں سفر کرنے کے بعد ایک کتاب لکھی تھی۔ جس کا عنوان The Moment of Lift ، یا ”پرواز کا لمحہ“ ہے۔ اس میں انہوں نے ان ممالک کی خواتین کے ساتھ معاملات میں اپنے تجربات بیا ن کیے ہیں۔ان کی کتاب پڑھنے اور ان کی بات سننے کے بعد چند بنیادی اصول پتہ چلتے ہیں ، جنہیں آپ بخوبی جانتے ہیں۔ لیکن جن کو مسلسل دہراتے رہنا ضروری ہے۔ وہ اصول یہ ہیں:
دنیا بھر میں خواتین مردوں کے برابر ہیں۔ اپنے معاملات کے فیصلوں میں خواتین مردو ں کی طرح آزاد ہیں۔ یہ برابری اور یہ آزادی ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔
اپنی کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ دنیا بھر میں بالخصوص پسماند ممالک میںخواتین بہر طور مردوں سے کم تر ہیں۔ وہ یہ فیصلہ کرنا چاہتی ہیں کہ ان کے بچوں کی تعدا د کیا ہو۔ انہیں صحت کی وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ان کا حق ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ذاتی آمدنی حاصل کرنے کا حق چاہتی ہیں۔ گھر سے باہر ملازمت کرنا چاہتی ہیں۔ اپنا کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔ اپنی آمدنی اور خرچ کا تخمینہ بنانا چاہتی ہیں۔ گھر سے باہر چہل قدمی کرنا چاہتی ہیں۔ قرضہ لینا چاہتی ہیں۔ طلاق کا حق رکھنا چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر سے ملنا چاہتی ہیں۔ ذاتی جایئداد کا حق چاہتی ہیں۔ سیاسی انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ سایئکل سواری اور کار چلانا چاہتی ہیں۔ کمپیوٹر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
یہ ایک طویل فہرست ہے۔ جس کو آپ خود مکمل کر سکتے ہیں اور اضافہ کر سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میںقانون ان کو یہ سارے یا کئی حقوق نہیں دیتا۔ اگر قانون یہ حقوق دیتا بھی ہے تو ان کے آڑے مذہبی، سماجی، معاشرتی، تعاصبات، آجاتے ہیں۔
اگر آپ خواتین اور مردوں کی مساوات کے 2019ءکے ایک سو نوے ملکوں پر مبنی اشاریہ کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے اس میں امریکہ سترہ 17 نمبر پر، برطانیہ تیرہ 13 نمبر پر،بھارت ایک سو اکتیس 131 نمبر پر ، پاکستان ایک سو چوّن 154نمبر پر ، بنگلہ دیش ایک سو تینتیس 133 نمبر پر ، اور افغانستا ن ایک سو انہتر 169 نمبر پر تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گو پسماندہ ممالک بہت پیچھے ہیں لیکن امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی خواتین مردو ں کے مکمل مساوی نہیں ہیں۔ جب کہ یہ مساوات ان کا حق ہے۔ کینیڈاجہاں اب ہم رہتے ہیں، اور جس کے بارے میں کئی حوالوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ رہنے کے لیئے دنیا کا بہترین ملک ہے ، صنفی مساوات کے اس اشاریہ میں سولہویں 16 نمبر پر ہے۔ امریکہ سے آگے اور برطانیہ سے پیچھے۔
آپ نے اپنے ملکوں میں اور بعض ممالک میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر مقر ر ہونے کے باوجودیہ دیکھا ہوگا کہ، ان کی شادی ان کی کی مرضی کے بغیر کم عمری میں کر دی جاتی ہے۔ بعض ممالک میں تو یہ بھی ہوتا ہے کہ کم عمری میں شادی کے بعد، رخصتی کے وقت ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سسرال لے جاتا ہے، تاکہ وہ کبھی بھی اپنی مرضی سے، بلا اجازت، اپنے میکے نہ جا سکیں۔ بعض ممالک میں جہیز نہ ملنے پر یا کم ملنے پر دلہنوں پر سخت تشدد کیا جاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی تو جان سے بھی مار دیا جاتا ہے۔ خود کینیڈا کے بعض شہریوں میں خواتین کی خود کشی کی خبریں یا تو چھپا دی جاتی ہیں۔ یا ان کے بارے میں کوئی مکمل تحقیق یا سرکاری کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کے اہلِ خانہ ایسے مقدمات کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن ممالک یا معاشروں میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہو سکے ہیں ، وہ معاشی طور پر دنیا کے ممالک میں اولین درجوں پر ہیں۔ ان میں ، ناروے، آیئر لینڈ، سویئٹزر لینڈ، آیئس لینڈ، جرمنی، سویئڈن، آسٹریلیا، ہالینڈ، ڈنمارک، فن لینڈ، اور سنگاپور سرِ فہرست ہیں۔ چونکہ دنیا بھر مییں خواتین اور مردوں میں عدم مساوات ہے، اسی لیئے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیئے دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ تاکہ مساوات کی طرف سرکاری اور غیر سرکاری توجہ کے ساتھ بہتری کی کوشش کی جائے۔
پاکستان میں بھی عورت مارچ اسی لیے منایا جاتا ہے۔ ہم پر اس دن کی حمایت کرنا لازم ہے۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ ہم، ’میرا جسم مرضی ‘ کے نعروں سے آگے بڑھ کر اس عدم مساوات کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ اور اس جدو جہد میں ان سے دور ہونے کی کوشش کریں، جو مذہبی، معاشی، معاشرتی، اور معاشی تعصبات کو قائم رکھتے ہوئے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں