Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 89

عہد

ہم نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ 2022ءاور ہر سال کے ختم ہونے اور نئے سال کی آمد پر لوگ نئے نئے عہد اور دعوے کرتے ہیں۔ پرانی غلطیوں کو نا دہرانے کا عزم ہوتا ہے اور نئے سرے سے اچھی خواہشات اور اچھے کاموں کے وعدے ہوتےہیں۔ نا صرف وزراءاور اعلیٰ عہدے دار اور حکومتی ارکان بلکہ عام لوگ بھی یہی عہد کر بیٹھتے ہیں لیکن پرانے سال کے جانے کے بعد یہ تمام عہد تمام وعدے بھی اس کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال حالیہ مری کا واقعہ ہے جو نا اہلی اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو بے حسی اور ظلم کا جیتا جاگتا نظارہ تھا جب لوگوں نے دولت کی ہوس میں انسانی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اداروں نے بھی اپنا فرض ادا نہیں کیا، بہرحال اپنے آپ کو بدلنے، غلطیوں کو نا دہرانے اور نئے عزم، نئے جذبے کے لئے سال کے نئے ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس احساس کو کسی وقت بھی جگایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے خود ہر شخص کو کوشش کرنا ضروری ہے اگر ہم معاشرے میں گزرے حالات پر خرابیوں، اچھائیوں پر اور سب سے بڑھ کر اپنے گزرے کردار پر نظر ڈالیں اور اپنا خود محاسبہ کریں تو بے شمار غلطیاں اور خامیاں نظر آئیں گی۔ جنہیں ہم بخوبی دور کر سکتے ہیں۔ اپنے گھر معاشرے اور ملک کو بہتر بنانے کے لئے ابتداءاپنے سب سے قریبی رشتوں سے کرنا ہوگی۔ معاشرے میں لڑائی جھگڑے بدنظمی لوگوں کے ذہبی دباﺅ کا سبب اپنے گھر کے ماحول سے ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص پرسکون اور خوش ہوتا ہے تو باہر بھی ماحول کو خوشگوار بنا دے گا۔ کسی ذہنی دباﺅ کا شکار نہیں ہوگا۔
معاشرے کو سدھارنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے گھر کی عورت کو وہ عزت وہ مقام دینا پڑے گا جس کی وہ مستحق ہے۔ عورت اگر چڑچڑی ہے، گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا ہے تو ہمیں اس کی وجہ اور اپنی غلطی تلاش کرنا ہوگی۔ پیار محبت سے دعوت کا دل جیتا جا سکتا ہے۔ دھونس دھمکی سے نہیں۔ یہ بات کچھ لوگوں کے لئے حیران کن ہو گی کہ اس معاشرے یا ملک پر کیا اثر پڑے گا۔ غور کریں تو بہت گہرا تعلق ہے۔ عورت سے بے جا جھگڑ کر موڈ خراب کرکے جب کوئی شخص باہر جاتا ہے تو بلاوجہ ہی دوسروں سے بھی لڑ بیٹھتا ہے اور اپنے کام بھی صحیح طرح انجام نہیں دیتا۔ دوسری بات یہ کہ مردوں کی اکثریت ناجانے کن جاہلانہ رسم و رواج اور ذہنی خرافات میں صدیوں سے قید ہے اور ذہن میں ایک ہی چیز ہے عورت پاﺅں کی جوتی ہے۔ عورت کمزور ہے، مرد کا حق ہے کہ عورت پر ظلم کرے، اسے دھونس دھمکا کر رکھے، اس پر بے انتہا بوجھ ڈال دے اور توقع کرے کہ وہ احتجاج بھی نا کرے۔ جب آپ عورت کو عزت نہیں دیں گے اس کو حق نہیں دیں گے اس پر ظلم کریں گے تو وہ خاموش تو رہے گی لیکن چڑچڑے پن اور ذہنی دباﺅ کا شکار ہو جائے گی۔ ان حالات میں وہ بچوں کی تربیت ٹھیک طریقے سے نہیں کر سکتی بعض خواتین غصہ بھی بچوں پر یا دوسرے لوگوں پر نکالتی ہیں جب یہ غیر تربیت یافتہ بچے باہر جائیں گے تو معاشرے کو کیا دے پائیں گے۔ وہاں وہ مقام بھی نہیں بنا سکتے جو ایک اچھے ماحول کی تربیت میں بنا سکتے تھے۔ اس کا اثر ظاہر ہے پورے معاشرے اور ملک پر پڑتا ہے۔ مردوں کا یہ حق صرف گھر تک محدود نہیں رہتا، گھر کے مرد سے بے عزت ہو کر وہ باہر کے مردوں کا بھی نشانہ بنتی ہے۔ کیوں کہ باہر کھڑے مرد بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا حق ہے کہ وہ ہر آتی جاتی عورت کو چھیڑیں اس پر آوازیں کسیں، جو شخص اپنے گھر کی عورت کو عزت نہیں دے سکتا وہ باہر کی عورت کو کیا عزت دے گا۔ خواتین کا نوکری کرنا بازار جانا سب ایک مصیب بن گیا ہے جس کو وہ بے چاریاں جھیل رہی ہیں۔ کچھ لوگ عورت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن غور کریں تو عورت کو جھگڑالوں، چڑچڑا یا جو بھی الزام لگائیں اس سب کے ذمہ دار مرد حضرات ہی ہیں۔
گھر میں خواتین کو بے عزت کرنا، باہر چھیڑنا، آوازیں کسنا یہ حق مرد کو کس نے دیا نا ہی اللہ تعالیٰ نے نا اس کے رسول اور نا ہی مقدس کتاب نے تو پھر اس گھٹیا پن کی وجہ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ آوے کا آوہ بگڑا ہوا ہے لیکن اکثریت میں یہی ہو رہا ہے۔ عورت کمزور ہے، ظلم و زیادتی کی مستحق ہے، ان خیالات نے کہاں سے جنم لیا ہے۔ کس نے یہ بیان دے دیا کہ مرد عورت سے زیادہ افضل ہے۔ اکثریت نے اتفاق کیا، اس سے نتیجہ نکلا کہ اکثریت لکیر کے فقیر ہیں۔ ایک طریقہ ایک خیال ذہن میں بٹھا لیا گیا ہے جس پر سب گامزن ہیں اور اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات بھی پیش کردیتے ہیں جب کہ اس کا ترجمہ بھی غلط کرتے ہیں اور آیت کے مفہوم کو سمجھ بھی نہیں پاتے حالانکہ دینی دنیاوی تعلیم اور غور و فکر کرنے کے بعد جو بات مشاہدے میں آئی ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو عورت اور مرد دونوں ہی باقی تمام مخلوقات سے افضل ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی انسان ہیں جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا تو یہ تفریق نہیں رکھی کہ صرف مرد افضل ہے بلکہ دونوں انسان ہیں اور دونوں افضل اور برابر ہیں۔
اسلامی معاشرہ قرآنی تعلیمات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور اس معاشرے میں یہ خیال رکھا گیا تھا کہ مردوں کی اکثریت طاقت میں عورتوں زیادہ ہے، دونوں پر علیحدہ علیحدہ ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ سب سے پہلی بات کہ عورت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اپنے ذریعے جنم دے نو مہینے اپنے پیٹ میں اس کی پرورش کرے جس میں تمام انبیاءدنیا کے بڑے بڑے حکمران فلسفی دانش ور سائنسدان سب شامل ہیں کہ جن کی ابتدائی نگہداشت عورت کے ہاتھوں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ عورت اپنے جسم میں ایک انسان کی پرورش کررہی ہے اس میں کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عورت وہ محبت کے کام نہیں کر سکتی جو ایک مرد کرتا ہے۔ لہذا معاشرے کو ہموار بنانے دنیاوی قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں کے کام بانٹ دیئے گئے اگر عورت اپنے فرائض خوش اسلوبی سے اور پرسکون ماحول میں انجام دے تو صرف اپنے گھر میں ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی خوبصورت اور پرامن بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ امام بنانا یا شیطان بنانا مرد کے رویے پر منحصر ہے اگر گھر کا مرد عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرے تو وہ یہ کردار خوش اسلوبی سے ادا کرتی ہے۔ نہ صرف گھر کا مرد بلکہ باہر گھومتے ہوئے شیطان بھی عورت کی عزت اور عظمت کو سمجھیں اسے اس کا مقام دیں تو کوئی بھی عورت نا تو بگڑ سکتی ہے اور نا ہی نسلوں کو بگاڑ سکتی ہے۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ مرد یوں افضل ہے کہ نماز کی امامت مرد کو دی گئی عورت کو نہیں جب کہ وہ یہ بھول گئے کہ عورت مستقل امامت نہیں کر سکتی کیوں کہ ناپاکی کے ایام آتے ہیں۔ ہر مرتبہ عورت یہ ظاہر کرے کہ کچھ دن امامت نہیں کرسکتی اس کا مطلب ہے تمام لوگ اس بات سے واقف ہو جائیں اور عورت کی شرم و حیا دم توڑ دے۔ عورت کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ وہ ایک انسان کو جنم دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں