غورو فکر 166

غورو فکر

پوری دنیا کے سامنے اسرائیل کا شیطانی روپ واضح طور پر ثابت ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ جو معصوم فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کو اپنی طاقت سمجھ رہا ہے۔ اسرائیل اس جنگ کی جیت کو ٹیکنالوجی کے ہتھیار سے دیکھ رہا ہے۔۔ جو کے ایک خطرناک علامت ہے۔ اسرائیل کا منفی کردار عمل انسانیت کو سر عام قتل کر رہا ہے جو انسانیت کے بالکل خلاف ہے۔ اسرائیل کا انسانیت سے گہرے ہوئے عمل کا آغاز اس وقت سے شروع ہوا جب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی میں نماذ کی ادائیگی کے لئے آنے والے فلسطینیوں کو نماز سے روک دیا تھا۔ جس پر نماز کے لئے جمع کثیر تعداد میں فلسطینیوں نے مسجد اقصی کے دروازے پر نماذ عید ادا کی تھی۔۔ اس دن کے بعد سے فلسطینی مسجد اقصی کے لیے اپنی جان ومال کے نذارنے بے خوف ہو کر پیش کر رہیں ہے۔ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی بہادری سے مقابلے کی تعریف دوسرے ملکوں سے وابستہ آج ہر عام شہری کر رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر فضائی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے جبکہ 180 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔ اسرائیل کی طرف سے اب تک 130 حملے کیے جاچکے ہیں۔ جن میں رہائشی عمارتوں اور دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ فلسطین میں شہید ہونے والے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کو صرف انداز کے مطابق ہی بتایا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل کے جانب سے سخت اقدامات کے تحت میڈیا کو کوریج کرنے میں بے شمار دشواری کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اس وقت اور بھی دوسری غیر ملکی قوت موجود ہیں جو اسرائیل کا اس انسانیت سے گرے ہوئے عمل میں ساتھ دے رہی ہیں۔ اگر بات کی جائے اسرائیل کے قریب دوست کی۔۔ تو غیر ملکی قوت میں سرفہرست انڈیا ہی نظر آتا ہے۔۔۔ اگر ہم ماضی کی کچھ چیزوں پر نظر ڈالے تو مسجد کو شہید کرنے کا آغاز انڈیا سے ہونا شروع ہوا ہے۔۔۔۔ انڈیا میں مسجدوں کو بھی بے بنیاد وجوہات کے سبب شہید کیا گیا۔۔ مسجدوں کو شہید کرنا صرف ایک بہانہ ہے اصل حقیقت یہ ہے وہاں موجود منفی ریاست کے لوگوں اپنا کالا راج دیکھانا چاہتا ہیں۔۔ لیکن ایسے لوگوں کا کالا راج صرف کچھ وقت پر ہی قائم ہوسکتا ہے۔۔ تاحیات نہیں، سچ اپنی پہچان خود بتاتا ہے جیسے کے آج دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں مسلم ملکوں ساتھ دوسری غیر ملکی عوام بھی فلسطینیوں کے حق میں اظہار یکجہتی کررہی ہے۔۔ ان کے حق کے لیے یکساں آواز بنے کو تیار ہیں۔۔۔۔ فلسطین کا اس وقت مسلم ملکوں میں سب سے بہترین ساتھ حماس دےرہا ہے۔۔ حماس کے حملوں کے باعث اسرائیل کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔۔ حماس کے حملوں سے اسرائیل کی تجارتی اور بحری صنعت (شپنگ) کو نقصان پہنچا ہے۔۔ جس کے باعث اسرائیلی پورٹس کےلیے وار رسک یرمیم نافذ کردیاگیا ہے۔۔ اسرائیلی پورٹ جانے والے جہاز 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر اضافی دیں گے۔۔ جبکہ سات دن سے زائد اسرائیلی پورٹ پر رہنے کی صورت میں رقم دگنی ہوگی۔۔اس کے علاوہ جہاز پر لدے سامان کے وار رسک یرمیم میں الگ اضافہ ہوگا ہے۔۔۔ اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی معاہدے کے بعد فلسطینی عوام خوشیاں کی لہر اس بات کو صاف ظاہر کرتی ہے۔۔بہارد فلسطینی آخر دم تک اسرائیل سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔۔ اسرائیل وحشیانہ بمباری کے بعد جنگ بندی کے آخر نتیجہ کیا ہوگا یہ تو وقت ہی طے کررہے گا۔۔ فلسطینیوں کے جذبوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے۔۔ ان شائ اللہ کامیابی فلسطینیوں کے حق میں نصیب ہوگئی۔۔ آج بات فلسطین اور دوسرے ان ملکوں تک محدود ہے, جو اپنے جائز حق کے لیے لڑرہیں ہے۔۔۔ جو کے دوسرے مسلم ملکوں کے لیے بھی غوروفکر کی بات ہے۔۔ کچھ غیر ملکی قوت کا منفی عمل کا خاص نشانہ صرف مسلمان ہی کیوں ہیں۔۔ کل کسی اور بے سبب ایک وجہ بناکر اس طرح کا منفی عمل کیا جائے گا اور ایک اور نئی اسلامی ریاست نشانے پر ہوگئی،، اس وقت تمام مسلم ملکوں کو اپنی موجودہ صورتحال پر غوروفکر کی اہم ضرورت ہے۔۔۔۔ آج ان منفی ریاستوں کے مالک افراد صرف اپنی طاقتور معیشت کے وجہ سے بے خوف ہو کر انسانیت سے گرے ہوئے کھیل کو کھیل رہے ہیں۔۔ کسی بھی ریاست کی معیشت جب ہی آگے بڑھتی ہے جب اس ریاست کے لوگ ایمان داری سے اپنی ریاست کے لیے کام کرتے ہیں۔۔ اللہ تمام مسلمانوں کو اپنے اعمالوں پرفکروغور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں