Column Nigar, Urdu Column, English Column, Newspaper, Urdu Newspaper, ePaper, Urdu Epaper, Urdu News, Canada News, Chicago News, USA News, Canadian Community, Indian Community, Urdu Community, Pakistan Times Chicago, Pakistan Times Canada Toronto Shahid Salman 48

فل ٹائم عاشق مرکزی کردار

وہ ایک تخلیق کار تھا۔ اس کے پاس الفاظ کے خزانے تھے وہ ان لفظوں کے ذریعہ کچھ ایسا تخلیق کرنا چاہتا تھا جو عام زندگی کا کردار ہو اور سب سے مختلف ہو۔ وہ لفظوں سے ایسی منظرنگاری کرنا جانتا تھا کہ اس کے لفظ تصور سے تصویر بن جائیں۔ ان لفظوں سے ایسے رنگ بکھیرنا چاہتا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں نے ایسے رنگوں کی آمیزش پہلے کبھی نہ دیکھی ہو اس کا قلم صفحات پر ایسے کردار تخلیق کرنا چاہتا تھا جو عام زندگی میں سب کو مختلف دکھائی دیں۔ وہ ایک لفظوں کا جادوگر تھا جس نے اپنی تحریر سے منظر نگاری ایسے کی ہو جیسے وہ نگاہوں میں تمام جزیات سمیت سامنے آجائے۔ وہ اپنے سادہ الفاظ سے بڑے سے بڑے دانشور کے ساتھ ساتھ اس کے عام قاری کی فکر میں آسانی سے پیوسطہ ہو جائے۔
وہ اپنے وقت کا ایسا افسانہ نگار تھا جس نے بہت چھوٹی عمر سے تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھا اس دور کے تمام فکشن کے پڑھنے والوں کو بہت تیزی سے اپنی طرف راغب کر لیتا۔ وہ افسانے تحریر کرتا رہا اور علم و ادب کے چاہنے والوں کے سامنے پیش کرتا رہا۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک سے بڑھ کر ایک منفرد کردار پیش کرتا کہ پڑھنے والے اس کی تحریروں کے گرویدہ ہوتے چلے جاتے۔ ادب میں اس کا نام بھی معتبر بنتا جارہا تھا۔ خود سے ہی ہر بار نیا چلینج لے کر ایک نئی تحریر نئے انداز سے سامنے لانے کی جستجو میں لگ جاتا۔ اپنے افسانوں میں کوئی ایسا کردار دکھانا چاہتا تھا جو سب سے منفرد ہو وہ مختلف طرح کے کردار تخلیق کرتا ان کو اپنے افسانوں میں پیش کرتا۔ قارائین اس کی تعریف اور توصیف کرتے پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہوتا پھر نیا کردار تخلیق کرتا جو منفرد بھی اور عام زندگی میں بھی نظر آئے۔ وہ چاہتا تھا کوئی ایسا کردار ہو جس کے پیدا ہونے کے بعد سے لے کر آخری عمر تک ہر موقع حقیقی محسوس ہو۔ ایک کردار اس نے تخلیق کرنا شروع کیا وہ چاہتا تھا کہ اس کردار کی پیدائش سے پہلے کے کچھ کرداروں کے بارے میں مختصر بیان کردے اس کی ابتداءاس کے دادا سے کی جو ایک ایسی جاگیر کے والی تھے جس سے ان کا تعلق کب کا ختم ہو چکا تھا کیونکہ وہ خود اس جاگیر کو چھوڑ کر قریبی شہر آگرہ میں ڈاکٹری کے پیشے سے وابسطہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کے معززین میں شمار کئے جاتے تھے۔ مرکزی کردار کے والد ان کے ڈاکٹر ڈادا نے اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے بڑے لاڈ پیار میں زندگی گزار رہے تھے اس ہی لاڈ پیار میں ان کے والد نے شعر و شاعری کا آغاز ابتدائی عمر سے ہی شروع کرکے کم عمری میں شاعری کے صف اول میں شمار کئے جانے لگے۔ اپنے ڈاکٹر والد سے والہانہ عقیدت اور محبت کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کا آخری وقت آگیا ہے تو انہوں نے اپنے شاعر بیٹے کی شادی کروا دی اور شادی کے کچھ عرہ بعد ہی ڈاکٹر صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس موقع پر سارا خاندان ایک سوگ کی کیفیت میں چلا گیا۔ کچھ ہی مدت بعد ان شاعر کے گھر پہلی بار خوشی کا موقع آیا جب ان کے گھر ایک نیا مہمان بیٹے کی صورت پیدا ہوا۔ یہ ننھا مہمان اس خاندان میں خوشیوں کی امیدیں لے کر آیا تھا اس کے آنے کی خوشی میں پورے خاندان میں ایک طرح کے جشن کا سماع پیدا کر دیا۔ خاندان کا ہر فرد اس کی آمد کی خوشی اپنے اپنے انداز سے منا رہا تھا۔ ماں اور منہ بولی پھوپھیوں نے گھر میں میلاد کی محفلیں منعقد کرکے خاندان اور اطراف میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ بزرگوں نے گھر کے باہر شامیانے لگا کر محفل سماع کا انعقاد کیا۔ سارے علاقے کے لوگوں کو شرکت کی دعوت دی ایک دن خاندان کے نوجوانوں نے جشن موسیقی منعقد کیا جس میں معروف رقاص کو مدعو کیا گیا اس مرکزی کردار کے والد نے اپنے شہزادے کا نام بھی سب سے منفرد رکھا یعنی حسینوں کا سردار۔ جب اس شہزادے کی پرورش شروع ہوئی ہر شخص اپنے سے جڑے ہنر سکھانے میں جت گیا جب یہ چند مہینہ کے تھے ان کے والد کے خالو ان کو اپنے کاندھے سے لپیٹ کر تاج محل کی منارے پر چڑھ گئے وہاں سے ان کو تیراکی کا ماہر بنانے کی خاطر قریب ہی روان جمنا ندی میں چھلانگ کر سب کو حیران کر دیا، خالو ان سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے شہزادے کو لے کر سردیوں میں دھوپ سینکنے کی خاطر محل نما گھر کے صحن میں بیٹھے تھے کہ شہزادے ایک دیوہیکل بندر کو دیکھ کر سہم گئے جو کسی اونچی جگہ پر بیٹھا ان کو چھیڑ رہا تھا۔ خالو بھی آگرہ کے گرم مزاج لوگوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے اپنے پوتے کو ڈرا سہما دیکھ کر مضبوط لٹھ بلکہ اس بندر کے پیچھے چڑھ گئے اس چھت پر جہاں سے بندر ان کے شہزادے کو ڈرا رہا تھا۔ اس بندر سے لڑائی کے دورا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور نیچے بہت اونچائی سے جاگرے۔ توانا ہونے کے باوجود کافی عمر رسیدہ تھے، زخم گہرے آئے اور چل بسے اور جاں آفریں اپنے دلارے کے لئے اللہ کے سپرد کرگئے۔
چھوٹے بہن بھائیوں کی آمد کے بعد والد نے آگرہ کے مشہور اسکول شعیب محمدیہ میں داخل کرادیا۔ چھوٹے بھائی بہنوں کی آمد بھی ان کے لاڈ پیار میں کسی قسم کی کمی نہ لا سکی۔ بلکہ ان کی مسلسل آمد بھی اس شہزادے کی قدر و منزلت میں کمی کا باعث نہ ہو سکی۔ جب ان کے بزرگ جو لاڈ اٹھاتے تھے ایک ایک کرکے رخصت ہوتے گئے تو والد اور والدہ کے ساتھ ساتھ ان کے چھوٹے بھی اسی طرح ان کی لاڈ برداریاں کرتے رہے اس طرح یہ سلسلہ اسی طرح جلتا رہا۔ والد کو علم و ادب کی محفلوں میں اپنے ساتھ لے جاتے اس زمانے میں کھیلوں کا رواج کم ہی تھا یہ کھیل کود سے جب بھی فارغ ہوتے تو گھر میں آنے والی قدآور علمی شخصیتوں سے والد ان کا تعارف اپنے شہزادے کی حیثیت سے کراتے اور آنے والے کو یہ احساس ہو جاتا کہ والد ان پر کتنی جان چھڑکتے تھے۔ والدہ کا بھی یہ ہی حال تھا وہ بھی پورے خاندان میں جو بہت ہی بڑا تھا اس میں اپنے شہزادے پر ایسی نچھاور ہو جاتی تو خاندان کے ہفرد کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی کہ یہ ماں باپ کے کتنے دلارے ہیں اور یہ ہی بات چھوٹے بہن بھائیوں کو اچھی طرح معلوم ہو گئی کہ ان کی قدر منزلت کیا ہے۔ اس طرح چھوٹے بہن بھائی بھی ان کے مرتبے اور مقام سے اچھی طرح آگاہ ہو گئے اور ان کی خدمت میں کسی قسم کی کمی کے متحمل نہ ہوئے۔ بہن بھائی کی صورت خدمت گاروں کا ایک دستہ ان کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار ملتا۔ آگرہ سے پاکستان ہجرت کے بعد حالات مکمل تبدیل ہو گئے مگر ان کی خدمت گزاری کی خدمت گزاری میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ والد نے کراچی میں ایک بڑا گھر لے کر خود اس کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کر لی، باقی گھر خاندان کے بزرگ کے حوالے کرکے ان کے ساتھ کاروبار بھی شروع کردیا۔ اپنے بچوں کو بھی حیدرآباد ایک بڑے سے حویلی نما گھر کے پورشن میں رہائش دلوا کر باقی گھر اپنے سسرال والوں کے حوالے کردیا۔ وقت کے ساتھ معاشی تنگی بڑھتی چلی گئی، کاروبار سے آمدنی کا بڑا حصہ خاندان کے بزرگ کے حوالے کرکے خود قلیل رقم سے اپنا اور اپنے بچوں کی کفالت کرنے میں لگ گئے۔ ماں اور باپ نے اپنے شہزادے کو کسی قسم کے مطالبہ یا ذمہ داریوں سے دور ہی رکھا۔ چھوٹے بھائیوں نے اپنی والدہ کے ساتھ گھر کے بچوں کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھانی شروع کردیں۔ اس طرح شہزادے نے حیدرآباد کی علمی، ادبی، اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کردیا یوں وہ سارے علاقے کے مرکزی کردار بنتے چلے گئے۔ یہاں تک پہنچ کر تخلیق کار نے اپنے مرکزی کردار کے بارے میں غور و خوص کیا تو محسوس ہوا کہ یہ کیا تخلیق کررہا ہے۔ تخلیق کار نے یہ محسوس کیا کہ ان کا مرکزی کردار خاندان کی ناز برداریاں لاڈ پیار میں تو زندگی گزار رہا ہے پھر اس کردار نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے کیا کیا۔ یہاں سے تخلیق کار نے اس زندہ کہانی کا رخ تبدیل کردیا۔ جو بھرپور محبت اس کو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے ملی اس کا جواب اس نے اس طرح دیا کہ وہ اپنے والد کو دیوانہ وار چاہنے لگا اس کی اپنے والد سے شدید محبت اور الفت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ ان سے وابسطہ ہر شہ کو بھی شدت سے چاہنے لگا ان کے کلام کے ہر لفظ کو اپنے سینے سے لگا کر رکھتا اپنی ماں سے محبت اس لئے تھی کہ وہ ان والد کی شریک زندگی تھیں۔ بھائیوں کو اس لئے چاہتا تھا کہ وہ ان کی اولاد تھی۔ اس کی محبت تو ہر ایک سے خاموش محبت تھی مگر وہ اپنے والد سے محبت کو کسی طرح چھپا نہ سکا۔ حالانکہ وہ خود علم و فن کے میدان میں نمایاں حیثیت کا حامل تھا اس نے چھوٹی عرصے سے مختصر افسانے تحریر کرکے علم و ادب میں بھی نمایاں مقام اور مرتبہ حاصل کر لیا تھا۔ آخر عمر تک اردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں اس کا نام شامل کیا جاتا لیکن وہ اپنے کارناموں اور خاموشی سے والد کے مقام اور مرتبہ کی خاطر نظر انداز کرتا وہ والد کی محبت میں اس قدر گرفتار تھا کہ اس نے اپنے وابسطہ ہر چیز اور ہر رشتہ کو بھی نظر انداز کردیا سب یہ ہی کرنے کی شکایت کرنے لگے اس کے تحریر کئے ہوئے ڈھائی سو سے زائد افسانہ بھی اس کی ناقدری کی شکایت کرتے نظر آتے۔ اس نے اپنے اندر کا بہت بڑا افسانہ نگار اور فنکار کو والد کی ذات اور شاعری کے پیچھے چھپا کر رکھا اس ہی طرح بھائی بہنوں رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ اپنی شریک حیات اور اولاد بھی اس ہی طرح کی شکایت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس کو تمام متعلقین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ والد کا سچا عاشق اسی سالا کا بچہ آخری عمر تک والد کی انگلی پکڑ کر چلنے کی ضد کرتا رہا۔ وہ اپنے والد کا فل ٹائم عاشق تھا۔ اتنا تحریر کرکے تخلیق کار نے آخری تحریر ختم کردی کیونکہ وہ سلطان جمیل نسیم خود تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں