میرے مواخذے کی کارروائی مضحکہ خیز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ 17

میرے مواخذے کی کارروائی مضحکہ خیز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (فرنٹ ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ مواخذے سے محض چند گھنٹوں کی دوری پر ہیں کیونکہ ایوان نمائندگان میں بڑی شد ومد سے بحث جاری ہے کہ کیپٹل ہل کی عمارت پر 6 جنوری کے پرتشدد حملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ بحث شروع ہوتے ہی امریکی میڈیا نے اطلاع دی کہ ایوان اور سینیٹ میں کچھ ری پبلیکن واضح طور پر مواخذے سے متعلق مضامین کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ایسٹرن ٹائم کے مطابق ایوان شروع ہوا اور قانون سازوں نے 10 بجے ووٹ دے اور مواخذے کے آرٹیکل کے اصولوں کو منظور کرلیے گئے۔ ضابطے کی منظوری کے بعد ایوان میں بحث کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ حتمی ووٹ مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ کا عمل 4 بجے تک مکمل ہوگا۔ مواخذہ آرٹیکل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا (ریاست) کے خلاف تشدد پر اکسانے کے اعلیٰ جرائم اور بدعنانیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخاب میں دھاندلی سے متعلق بیانات کے نتیجے میں کیٹپل ہل پر حملہ ہوا اور انہوں نے جارجیا کے سیکریٹری برائے خارجہ بریڈ رافنسپرجر کو انتخابی نتائج کو ختم کرنے کے لیے زور دیا۔ مواخذہ آرٹیکل میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران جان بوجھ کر پرتشدد بیانات دے کہ ‘اگر آپ اپنی جان خطرے میں ڈال کر نہیں لڑتے تو آپ کو کاو¿نٹی نہیں ملے گی‘۔ خیال رہے کہ منگل کی رات ایوان نے 223 سے 205 کو ووٹ دیا جر پر نائب صدر پنس سے کہا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے 25 ویں ترمیم کی شق 4 پر زور دیں تاہم پینس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ مائیک پینس سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 4 سالہ مدت پوری کرنے سے ایک ہفتہ قبل گھر بھیج دیں لیکن ووٹنگ آدھی رات کے قریب مکمل ہوگی۔ اگر اس قرارداد پر عمل درآمد کیا گیا تو 6 جنوری کو دارالحکومت کی عمارت پر ہجوم کو حملہ کرنے کے لیے بھڑکانے کے مبینہ کردار کے لیے پینس اپنے صدر ٹرمپ کو گھر بھیج کر خود بطور قائم مقام صدر بننے کے اہل ہو جائیں گے، حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے جہاں یہ گزشتہ 200 سے زائد سالوں میں امریکی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا۔ دوسری جانب امریکی خفیہ ایجنسیوں کے انتباہ کے بعد ملک بھر میں نئے صدر کی تقریب حلف برادری سے قبل ہی سخت سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ امریکا کے 46 ویں صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری آئندہ ہفتے 20 جنوری کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے علاقے کیپیٹل ہل میں ہوگی۔ جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کیپیٹل ہل میں واقع نیشنل ہال اور کیپیٹل بلڈنگ کے درمیان ہوگی۔ خیال رہے کہ مواخذے کی تحریک کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے کیپیٹل ہل میں احتجاج اور پ±رتشدد مظاہروں کے بعد سامنے آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے تیار کی گئی مواخذے کی تحریک میں کیپیٹل ہل کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں