کورونا وائرس کی دوسری لہر 71

نجی بینک ہراساں کیس

گزشتہ کچھ روز سوشل میڈیا پر ہراسگی کے معاملے کے حوالے سے زیر گردش ویڈیو نے ہمارے معاشرے کے ایک بدترین خوفناک چہرہ کو واضح کیا ہے۔ وہ چہرہ جو ایک اسلامی ریاست کے بارے میں موجود منفی حالات کو ظاہر کررہا ہے۔۔ کہ یہ معاشرہ طرف نام ہی کی اسلامی ریاست ہے۔۔ اس ریاست میں رہنے والے لوگ صرف نام ہی کے مسلمان نام ہے۔۔ اسلام آباد میں 7نومبر کو پیش آنے والے واقعہ نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے وہ سوال جس کا جواب شاید ہم سب کے ضمیر سے وابستہ ہے۔۔ یہ واقعہ اسلام آباد کے نجی بینک میں پیش آیا۔۔ جس میں مینیجر نے انتہائی شرمناک ،سرعام خاتون کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کو ہراسگی کے اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ جس کے بعد ویڈیو لیک ہونے پر عوام شدید غم وغصے میں مبتلاہوگئے۔ بینک نے خاتون ورکر کو ہراساں کرنے والے ملازم کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے برطرف کردیا گیا۔ پاکستان اسٹیٹ بینک کے قواعدہ ضوابط کے مطابق اب وہ کسی بھی بینک میں ملازمت نہیں کر سکے گا۔ دوسری طرف ساتھ ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نجی بینک مینجر کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں نجی بینک نے کہا کہ ہم نے ملازم کو جنسی ہراسگی کے الزام پر برطرف کردیا ہے اور ہم ایچ آرپالیسییوں اور دیگر قانونی تقاضوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے زیرگردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملازم بینک منیجر نہیں بلکہ ایک عام ملازم ہے بینک نے ملزم کے انفرادی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بینک کی اقدار اور اخلاقی معیارات اس کے خلاف ہیں۔۔ اس واقعہ کے حوالہ سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اس میں غلطی صرف اس آدمی تک محدود تھی۔۔ میرے خیال میں سوال تو اس خاتون سے بھی کرنا لازمی ہے کہ اس نے اس طرح کی شرمناک حرکت پر خود اس آدمی پر کوئی ردعمل پیش کیوں نہیں کیا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ دیر کہ لیے ایسا محسوس ہوا کہ وہ خاتون اس طرح کی شرمناک حرکت کی عادی ہیں۔ اگر ایک عورت چاہیے تو کوئی بھی مرد اپنی حد پار نہیں کرسکتا ہے۔ عورت اللہ پاک کی وہ مخلوق ہے جو خود برے وقت میں ایک مرد کا کردار ادا کرتی ہے۔ اپنے بچوں کے لیے پاب بن جاتی ہے، اپنے ماں باپ کے لیے بیٹا بن جاتی ہے، اپنی شوہر کے لیے دوست بن جاتی ہے، لیکن ان سب میں اہم چیز کردار کی ہے۔ایک عورت کا مضبوط اور پاک کردار ہی ایک طاقت وار عورت کی پہچان ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی کی ماڈرن دنیا ایک عجیب وغریب معاشرہ کو جنم دے رہی ہے۔۔ کبھی تعملیی ادراوں میں کبھی دفتروں میں اس طرح کی شرمناک حرکت کے معاملے پر ویڈیو بتارہی ہے۔ کہ مثبت کردار نام کی چیز شاید صرف کتابوں تک محدود ہے۔ یعنی مرد ہو یا عورت اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اس کا کردار ایک منفی انسان کو واضح کرتا ہے۔۔ انسان کی قمیت اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ اسلام آباد نجی بینک کی ویڈیو دیکھنے کے بعد میں سوچ رہی تھی آج یہ آدمی ہے کل ہوئی اور آدمی ہوگا سوال تو اس خاتون سے بھی کرناچاہیے کہ اس نے خود کیوں اس شرمناک حرکت پر ایکشن نہیں لیا۔ اس طرح کی عورتیں دوسری عورتوں کے ساتھ بھی زیادتی کرتی ہیں۔۔ کیونکہ ایسی عوتوں کی وجہ سے دوسری مثبت کردار کی عوتوں کو بھی منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ کہ ہر دفتر میں کام کرنے والی عورت ایسی شرمناک حرکت سے دوچار ہے۔۔ ایک عورت پر ہی اس کی خود حفاظت فرض ہوتی ہے۔ اگر وہ خود ٹھیک نہ ہوتو وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے عورت کا خود ایک مثبت کردار کا اچھا ہونا لازمی ہے۔۔ ہمارے معاشرے میں منفی کردار کی عورتوں نے بے حیائی کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ منفی کردار کی مالک عورتیں صرف اپنی خواہشوں کی غلام ہوتی ہے اور ان ہی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنی حیائی کو مار دیتی ہیں۔ اور دوسری عوتوں کو بھی اپنے بے حیائی کے کام پر عمل کرنے کے مشورے دیتی ہیں۔۔ دو دن کی شہرت یا پھر اپنی خواہش سے زیادہ ضرورت کے سبب وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھنا چاہیی ہیں۔ اگر کسی مرد کی غلط حرکت پر ایک عورت بروقت ایکشن لے تو ایسی منفی حرکت کو اس وقت روک سکتی ہے۔ منفی کردار کا مالک شخص لازمی ڈرے گا کسی اور عورت کے ساتھ غلط حرکت یا بات کرتے ہوئے۔ ہمارے معاشرے میں ہراسگی کے معاملے عام ہوتے جارہا ہے ہیں ان تمام تر منفی صورتحال کو کیسے روکا جائے گا اس کا فیصلہ کرنابہت مشکل ہے۔ پر اس عارضی دنیا کے لیے اپنی حقیقی دنیا کو خراب کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اللہ پاک منفی کردار سے تعلق رہنے والی عورتوں کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں